کوئے ملامت کو آباد رکھنے والا


عجیب شخص تھا۔ صبح سویرے کتاب اٹھاتا تو شام تک، شام تک کیا رات گئے تک کتاب ہی پڑھتا رہتا۔ بالکل اسی انداز سے دیوتا بیکس کی تعظیم کرتا۔ تارک ہوتا تو لمبے عرصے تک دست کشی اختیار کر لیتا۔ حتیٰ کہ کئی کئی سال گوشت تک نہ کھاتا۔ ہاتھ کی انگلیوں میں پتھر سجائے، دائیں بازو میں کڑے، گلے میں زنجیر، قمیض کے بٹن کھلے، آستینیں چڑھائے یہ خوش لباس باغی ساری زندگی اپنی دھن میں مست رہا۔ لوگ پروفیسر چوہدری لیاقت علی کو جانے کیا کیا سمجھتے رہے۔

کسی نے لادین ہونے کا الزام لگایا تو کئی کمیونسٹ کہتے پھرے۔ افسوس ان کے شاگردوں اور چند قریبی رفقاء کے علاوہ کوئی یہ سمجھ نہ پایا کہ چکوال کی اس دھرتی پر شاید ہی لیاقت صاحب سے زیادہ کوئی اور اتنا وسیع المطالعہ ہو، کوئی اتنی جادوئی بانسری بجاتا ہو، کوئی اتنا بڑا شاعر ہو اور کوئی اس حد تک سر اور سنگیت شناس ہو۔ کسی کو کیا معلوم کہ انسانیت پر کامل ایمان رکھنے والا یہ عظیم اور خوبصورت انسان محدود ذرائع آمدن کے باوجود کئی مستحق افراد جن میں دو تین خواجہ سراء بھی شامل ہیں کی ہر ماہ حسب استطاعت مالی معاونت کرتا رہا۔

لیاقت صاحب کا عظیم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے چکوال کی تین نسلوں کو کتاب پڑھنے پر لگایا۔ جو بھی ان کے لڑ لگا کتاب اس کی محبوبہ بنی، جو بھی ان کی صحبت میں بیٹھا وہ سوچ اور فکر کی راہ کا راہی ٹھہرا۔ اپنے چاہنے والوں کو کتاب پڑھنے کی لت لگانے کے لیے لیاقت صاحب کا طریقہ واردات انتہائی خوبصورت اور دلکش ہوتا۔ وہ پہلی ملاقات میں ہی جان جاتے تھے کہ کس کو کتاب پڑھنے پر لگایا جا سکتا ہے۔

جس کے بارے میں انہیں یقین ہو جاتا کہ یہ پڑھ سکتا ہے اسے وہ نہ صرف کتابیں تجویز کرتے، بلکہ تحفے کے طور پر کتابیں دیتے بھی تھے۔ ساتھ یہ ہدایت بھی کرتے کہ جب اس کتاب کو پڑھو گے تو ساتھ ایک ڈائری رکھنا، کتاب سے جو فقرہ جو قول جو لفظ پسند آئے اسے ڈائری پر لکھ لینا اور کتاب پڑھ کر کتاب کے متعلق اپنے تاثرات بھی ڈائری پر لکھنا۔ ان کا اپنا کتاب پڑھنے کا طریقہ بھی منفرد تھا۔ وہ کتاب پڑھتے اور ہر اہم جملے اہم مکالمے کے نیچے پنسل سے لائن لگاتے۔ صفحے کے دائیں بائیں بچی ہوئی تھوڑی سی جگہ پر اپنے تاثرات لکھتے۔ جو فقرہ دل کو لگتا اس کے ساتھ سبحان اللہ لکھتے۔

یہ بھی زور دے کر کہتے کہ کس کس کو پڑھنا ہے۔ انہیں یہ یقین تھا کہ وہ اپنے شاگردوں میں زندہ رہیں گے کیونکہ شاگردوں میں وہ اپنا عکس دیکھتے تھے۔ انہوں نے کس کس کو نہیں پڑھا۔ قرآن بمع ترجمہ و تفسیر، تفسیر بھی ہر مکتبہ فکر کے علما کی، احادیث کی کتب، دوسرے مذاہب کی کتابیں بائبل، مہا بھارتا، گرو گرانتھ اور دنیا کے تمام بڑے لکھاریوں کی تخلیقات پر ان کو عبور حاصل تھا۔ ہر نئی آنے والی قابل ذکر کتاب ان کے بک شیلف کی زینت بنتی۔

لیاقت صاحب سے میری پہلی ملاقات 29 اگست 2013 کو ہوئی۔ وہ اپنی بیٹھک کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔ دیوار کے ساتھ چمپا کا پودا لگا ہوا تھا جس کے سفید پھولوں کی مہک آج تک محسوس ہوتی ہے۔ میری خوش بختی کہ وہ مجھے پہلے سے جانتے تھے کیونکہ میں 2010 سے ڈان میں لکھ رہا تھا اور 27 مارچ 2011 کو ڈان اور 31 جولائی 2012 کو ایکسپریس ٹرائیبیون میں لیاقت صاحب کے با کمال فرزند حسن پر لکھ چکا تھا۔ 29 اگست 2013 کو دوست افتخار حیدر ایڈووکیٹ کے ہمراہ ہونے والی اس ملاقات میں لیاقت صاحب نے مجھے یو ایس بی میں 3 فلمیں، سپارٹیکس، بین حر اور اینا کارینینا دیں۔ اس کے بعد لیاقت صاحب سے ملاقات کا سلسلہ چل نکلا۔ جب بھی ملتا تو سب سے پہلے پوچھتے کہ آج کل کیا پڑھ رہے ہو۔ پھر میرے والد صاحب کا حال احوال پوچھتے کہ دونوں گورنمنٹ ہائی سکول میں میٹرک میں ہم جماعت رہ چکے تھے۔

ان سے ہونے والی دو تین ملاقاتوں کی روداد میری ڈائری میں محفوظ ہے۔ 7 اپریل 2018 کو افتخار حیدر نے کال کی کہ ڈاکٹر عارف آزاد صاحب کے ساتھ شام کو نشست کرنی ہے افتخار نے لیاقت صاحب کو گھر سے لے لیا۔ عارف آزاد صاحب کے ساتھ ملک توقیر بھی تھے۔ خوب محفل جمی۔ لیاقت صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں گفتگو کی۔ ان کا انداز گفتگو بھی کمال تھا۔ رک رک کے آرام سے بولنا، خالص دھنی لہجے میں پنجابی میں بات کرنا، بیچ بیچ میں انگریزی میں پورا جملہ کہنا، بات کو آسان طریقے سے سمجھانے کے لیے کوئی لطیفہ سنا دینا۔

جب بھی عارف آزاد صاحب کوئی بات شروع کرتے تو عارف صاحب کو کہتے ”چن سجنڑاں ذرا نیڑے نیڑے ہو“ ۔ تاکہ بات صحیح سمجھ آ سکے۔ اسی محفل میں مجھے کہا بابے ول ڈیورنٹ کی فالن لیوز پڑھو۔ پھر کہنے لگے تمہاری ایک کتاب گھومتی پھرتی مجھ تک پہنچ گئی ہے، ڈاکنز کی۔ مجھے یاد آیا کہ رچرڈ ڈاکنز کی وہ مشہور کتاب دی گاڈ ڈیلیوزن میں نے ایک سال پہلے اپنے استاد پروفیسر صدا حسین صاحب کو دی تھی۔ لیاقت صاحب کہنے لگے کہ اس موضوع پر سب سے اچھا بابے رسل نے وائی آئی ایم ناٹ اے کرسچن میں لکھا ہے۔

ہیر وارث شاہ پر بات ہوئی۔ میں نے لڈن ملاح اور رانجھے کے درمیان ہونے والے مکالمے کا ذکر کیا جس میں رانجھا کرایہ نہ ہونے کی وجہ سے لڈن کی منت کرتا ہے کہ وہ اسے مفت کشتی میں سوار کر لے اور جواب میں لڈن اسے گالی دیتا ہے۔ لیاقت صاحب نے ہیر وارث شاہ پر سیر حاصل بات کی اور بتایا کہ اردو والے اس شعر پر اعتراض کرتے ہیں کہ وارث شاہ کی زبان دیکھو۔ پھر بتایا کہ اس کا بھرپور جواب سید علی عباس جلالپوری نے اپنی کتاب مقامات وارث شاہ میں دیا ہے۔

ڈاکٹر اعظم ثمور کی شاعری پر بات ہوئی۔ لیاقت صاحب نے ڈاکٹر اعظم ثمور کی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے کہا ”ڈاکٹر اعظم گوتم بدھ کے زمانے میں اٹکا ہوا ہے۔ کمال لکھتا ہے“ میں نے ڈاکٹر صاحب کی ایک نظم ”گئے کدوں سی جے مڑ کے آندے تینوں کوئی بھلیکھا ہویا“ کا حوالہ دیا۔ لیاقت صاحب کے منہ سے بے ساختہ سبحان اللہ سبحان اللہ نکلا۔

اپنے ہر شاگرد کے ساتھ لیاقت صاحب کا رشتہ مثالی تھا کہ ہر ایک کو یہ لگتا تھا کہ لیاقت صاحب اسی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ ہر شاگرد کو اس کی پسند کے مطابق تحفہ دیتے اور تحفے بھی کیا کمال کے ہوتے۔ کوئی اعلی کتاب، کوئی قیمتی پین یا کوئی قیمتی پتھر۔ انہیں پتھروں سے عشق تھا۔ ان کے دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں ہر وقت پتھر سجے ہوتے اور پتھر بھی انتہائی قیمتی۔ ایک دفعہ میں نے ان سے پوچھا کہ ڈاکٹر خالد عزادار صاحب پوچھ رہے تھے کہ آپ پتھر کیوں پہنتے ہیں؟

اس وقت ان کے ہاتھ کی تین انگلیوں میں پتھر چمک رہے تھے۔ لیاقت صاحب نے جواب دیا کہ ان کا مذہب یا کسی عقیدے سے کوئی تعلق نہیں میں صرف انہیں خوبصورتی کے لیے پہنتا ہوں۔ یہ بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔ یاد رکھو تمام جانوروں اور پرندوں میں نر مادہ سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے۔ مرغے کو دیکھو، مور کو دیکھو، شیر کو دیکھو، ہرن کو دیکھو۔ لیکن انسانوں کے حوالے سے معاملہ الٹ ہے کہ عورت مرد سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔ حقیقت میں عورت کو سنگھار کی ضرورت ہی نہیں کہ وہ ہے ہی اتنی حسین، سنگھار تو مرد کو کرنا چاہیے۔ میرے بس میں اگر ہو تو میں اپنے آپ کو سونے سے لاد دوں۔

دسمبر 1947 کو پیدا ہونے والے چوہدری لیاقت علی گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 اور گورنمنٹ کالج چکوال کے طالب علم رہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹر کیا۔ چکوال کالج میں پروفیسر ذوالفقار حیدر اور پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر کنیز اسلم جیسے قابل اساتذہ ملے۔ لیکن لیاقت صاحب کی زندگی کو بدلنے والے روپوال گاؤں کے سلیم حیدر شاہ تھے جو کمیٹی سکول میں پڑھاتے تھے۔ سلیم شاہ صاحب نے لیاقت صاحب کو کلاسیکل ادب اور فلسفہ پڑھایا۔ پاکستان کے ول ڈیورنٹ سمجھے جانے والے سید علی عباس جلالپوری کے ساتھ بھی لیاقت صاحب کی رفاقت رہی کہ اول الذکر گورنمنٹ ہائی سکول چکوال میں پڑھاتے رہے۔

ایم اے انگلش کرنے کے بعد لیاقت صاحب لیکچرار بھرتی ہوئے۔ پہلی تعیناتی البیرونی کالج پنڈدادن خان میں ہوئی پھر گورنمنٹ کالج چکوال آ گئے جہاں سے انہوں نے گریجویشن کی تھی۔ لیاقت صاحب نے کالج میں کیا شاندار وقت گزارا۔ یونیورسٹی آف چکوال کے کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کے پرنسیپل پروفیسر صدا حسین جو 1987 کے بی ایس سی کے سیشن میں لیاقت صاحب کے شاگرد رہ چکے ہیں بتاتے ہیں کہ لیاقت صاحب اتنی محنت اور لگن سے پڑھاتے تھے کہ کئی دفعہ ایک ایک پیراگراف کی تشریح پر دو دو ہفتے لگا دیتے تھے۔ لیاقت صاحب کی شخصیت میں وہ رعب اور جلال تھا کہ بدمعاش ٹائپ کے طالب علم بھی انہیں دیکھ کر کانپ جاتے۔

لیاقت صاحب کے کو لیگ پروفیسر مسعود ملک صاحب جو آج کل دی ایجوکیٹرز سکول کے پرنسپل ہیں بتاتے ہیں کہ اس وقت کے پرنسیپل شجاعت خالد نے کالج میں انگریزی کے پروفیسر ذوالفقار حیدر صاحب کی نگرانی میں ایک ڈرامہ سوسائٹی بنائی جس کے اراکین میں مسعود ملک صاحب، لطیف صاحب اور لیاقت صاحب شامل تھے۔ اس سوسائٹی نے کالج میں ڈرامہ فیسٹیول کروایا۔ لیاقت صاحب نے ڈرامہ لکھا۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے پروفیسرز جو لیاقت صاحب کے ترقی پسندانہ خیالات سے پہلے ہی تنگ تھے نے اس ڈرامہ فیسٹیول کی بھرپور مخالفت کی اور اسلامی جمعیت طلبا کے کارندوں کو فیسٹیول روکنے کا ٹاسک دیا۔

لیکن لیاقت صاحب ڈٹ گئے۔ ان کے بھانجے طاہر عباس جو آج کل اینٹی کرپشن میں انسپیکٹر ہیں نے اپنے ساتھیوں سے مل کر فیسٹیول کے لیے ایک سیکورٹی فورس بنا ڈالی اور اس طرح یہ فیسٹیول کامیابی سے منعقد ہوا۔ پروفیسر مسعود ملک صاحب بتاتے ہیں کہ لیاقت صاحب کا لباس اتنا متاثر کن ہوتا کہ وہ جو پہنتے وہ فیشن بنتا۔ شاندار پینٹ کورٹ میں ملبوس ہوتے۔ لیاقت صاحب کا کالج کے طلبا کے اندر غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعے تخلیقی صلاحیتیں پیدا کرنے اور طلباء کو سلیبس سے ہٹ کر کتابیں پڑھنے پر لگانے کی ادا کالج میں موجود ان کے نظریاتی مخالفین کو نہ بھائی۔

ان کی اے سی آرز میں ان کو معتوب ٹھہرایا گیا اور دوبارہ پنڈادن خان تبادلہ کر دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد واپس چکوال کالج آئے لیکن دلبرداشتہ ہو کر مدت ملازمت پوری ہونے سے 8 سال پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے لی۔ لیاقت صاحب کے ایک قریبی دوست اور شاگرد ارشد بٹ بتاتے ہیں کہ لیاقت صاحب کمیونسٹ پارٹی کے چکوال میں جنرل سیکرٹری بھی رہے اور سرخ انقلاب کے خواب کا تعاقب کرتے رہے۔ جب کمیونسٹ پارٹی کا گلہ گھونٹا گیا تو لیاقت صاحب کو بہت دھچکا لگا۔

لیاقت صاحب نے اپنی زندگی میں ناقابل برداشت سانحات کو برداشت کیا۔ ایک بیٹا ابوذر علی 9 سال کی عمر میں چل بسا۔ دوسرے بیٹے حسن کی آنکھوں کا نور بے بسی سے بجھتے دیکھا۔ یہ دکھ کیا کم تھے کہ تقدیر نے ایک اور ستم ڈھا دیا جب تیسرا بیٹا سنیل حیدر جو ذہنی معذوری کا شکار تھا 21 سال کی عمر میں چل بسا۔ چند سال قبل شریک حیات کی موت کا صدمہ بھی سہنا پڑا۔ ان سانحات کے باوجود لیاقت صاحب نے اپنی حیات کا سفر دلیری اور آزادی سے جاری رکھا۔ اپنے بیٹے حسن کو بصارت سے محروم ہونے کے باوجود بصیرت کے پیکر میں ڈھال کر دکھایا۔

لیاقت صاحب بلا کے نثر نگار اور شاعروں کے شاعر تھے۔ یونس اعوان صاحب کے اخبارات آثار اور چکوال پوائنٹ میں اداریہ لکھتے تھے۔ ایک اور مقامی صحافی جو انگریزی اخبار کے نمائندے تو بن گئے تھے لیکن انگریزی میں خبر لکھنا ان کے بس کی بات نہیں تھی لیاقت صاحب سے خبریں لکھواتے تھے۔ خود نمائی اور نرگسیت جیسے عارضوں سے ماورا، لیاقت صاحب نے اپنے فن اور قابلیت کا ڈھنڈورا کبھی نہ پیٹا۔ ایرک فرام کی کتاب کا ترجمہ کیا لیکن شائع نہ کرایا بالکل اسی طرح جس طرح اپنی شاعری کو شائع نہ کرایا۔ شاعری اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں کرتے اور کیا کمال کی شاعری، روایت شکن اور بے باک۔ تخلص صوفی چنا۔ نہ صرف غالب شناس تھے بلکہ غالب کے شیدائی بھی۔ غالب کے ایک شعر

تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
سے متاثر ہو کر پنجابی کے دھنی لہجے میں غزل لکھی جس کے کچھ اشعار کچھ یوں ہیں۔

ساڈے نال وی یاری رکھیں
بھاویں پوری ٹاری رکھیں
ٓآپنڑیں کھباں نال ای اڈیں
جگووکھ اڈاری رکھیں
کدھ اچیری کیتی آپر
ساڈے پاسے باری رکھیں
ساڈی رت کڈھیندا رویں
ٓآپنڑیں گلھ اناری رکھیں
راہ کراہ نہ تکیں صوفی
ٓآپنڑاں ٹورا جاری رکھیں

ترجمہ: ہمارے ساتھ بھی یاری رکھنا
خواہ دکھاوے کی ہی کیوں نہ ہو
ہمیشہ اپنے پروں سے ہی اڑنا
سارے جہاں سے الگ پرواز رکھنا
دیوار اونچی کیے جاؤ پر
ہماری طرف کھڑکی رکھنا
ہمارا لہو نچوڑتے رہنا
اپنا گال انار کی طرح لال ہی رکھنا
راہ ٹھیک ہے یا خراب یہ نہ دیکھنا صوفی
اپنا سفر جاری رکھنا

کلاسیکل موسیقی کو سمجھنے کا شوق جاگا تو چکوال کے استاد غلام حیدر کا دامن تھاما۔ ارشد بٹ بتاتے ہیں کہ استاد غلام حیدر نے لیاقت صاحب کے آگے یہ شرط رکھی کہ پہلے تم شہر میں میرے ساتھ گدا کرو گے پھر میں تمہیں سکھاؤں گا۔ لیاقت صاحب نے شرط مان لی اور چکوال شہر کی گلیوں میں استاد غلام حیدر کے ساتھ بھیک مانگتے رہے۔ لیاقت صاحب بتاتے کہ میری ”میں“ استاد غلام حیدر نے ماری۔ اس کڑی آزمائش سے گزرنے کے بعد لیاقت صاحب کلاسیکل موسیقی کے گرو بن کر ابھرے۔ کون ساراگ تھا جو ان کی بانسری نے نہ الاپا ہو۔ بانسری بجانا انہوں نے کسی استاد سے نہیں بلکہ اپنے جنون سے ہی سیکھا۔ بانسری بجاتے تو سننے والوں پر سحر طاری کر دیتے۔ خود انہوں نے چند شاگردوں کو بانسری بجانا سکھائی جن میں شہزاد عالم، سجاد سلیم، فیض سلطان اور ان کا اپنا بیٹا حسن شامل ہیں۔

لیاقت صاحب نے کتنے ہی لوگوں کی زندگیوں کو بدلا۔ کس کس کی کہانی بیان کی جائے۔ الماس بابر کو ہی دیکھ لیں۔ لیاقت صاحب کی تعلیم و تربیت کی حیران کن مثال۔ وکیل بننا الماس کا خواب تھا۔ خاندانی مراسم کے ناتے افتخار حیدر الماس کو لیاقت صاحب کے پاس لے گئے۔ لیاقت صاحب نے الماس کو کہا کہ تم مجھے سر یا انکل نہیں بلکہ بابا کہہ کر بلاؤ گی۔ میری زندگی میں بیٹی کی کمی تھی اور بیٹی مجھے تمہارے روپ میں مل گئی ہے۔ پھر الماس نے بیٹی بن کر دکھایا اور لیاقت صاحب نے بھی الماس کی تربیت اس شفقت اور محبت کے ساتھ کی کہ سگا باپ بھی نہ کر سکے۔

لیاقت صاحب نے الماس کو صرف دو ماہ بی اے کی تیاری کروائی اور دن میں پانچ پانچ گھنٹے پڑھایا۔ الماس نے بی اے کر لیا۔ پھر کہا بابا میں وکیل بننا چاہتی ہوں لیکن وکیل بننا مشکل ہے۔ لیاقت صاحب نے الماس کو صرف اتنا کہا ”تم یہ کر سکتی ہو“ ۔ الماس نے کتابیں خریدیں اور ایل ایل بی میں داخلہ لے لیا۔ صبح کمپنی لاء کا پرچہ تھا اور الماس کو یہ پرچہ مشکل لگ رہا تھا۔ فون کیا اور بتایا کہ باباجان مجھ سے یہ پرچہ نہیں دیا جائے گا۔

لیاقت صاحب نے الماس کو پاؤلو کو ہیلو کا ناول الکیمسٹ پڑھنے کو کہا۔ الماس حیران ہو گئی کہ پرچہ صبح کمپنی لاء کا ہے اور بابا جان مجھے الکیمسٹ پڑھنے کو کہہ رہے ہیں۔ حکم بابا کا تھا تو الماس نے سوا دو گھنٹے میں ناول پڑھ ڈالا اور وہ پرچہ اچھے نمبروں سے پاس کر لیا۔ الماس مزید بتاتی ہیں کہ ایک اور مضمون کا پرچہ تھا اور میں نے جو پڑھا ہوا تھا وہ بھول گیا۔ بابا کو فون کیا تو انہوں نے کہا بیٹا پریشان نہ ہو اگر بھول گیا ہے تو لاشعور میں تو موجود ہے ہی۔ تم کوئی اچھی سی کامیڈی فلم دیکھو۔ الماس نے تھری ایڈیئٹس دیکھی اور صبح پرچہ آسانی سے دے دیا۔

لیاقت صاحب جانتے تھے کہ ایک طالب علم کو ذہنی بوجھ سے کس طرح چھٹکارا دلا کر اس کے ذہن کو ریفریش کرنا ہے۔ آج الماس بابر چکوال بار کی ایک ہونہار وکیل ہیں۔ وہ کہتی ہیں ”اگر بابا نے مجھے نہ پڑھایا ہوتا تو آج وکالت کا خواب میرے لیے محض ایک خواب ہی رہتا۔

26 جنوری 2022 کو لیاقت صاحب پر فالج کا حملہ ہوا لیکن وہ اس کو برداشت کر گئے۔ چار پانچ ماہ قبل برین ٹیومر اس وقت دریافت ہوا جب لاعلاج ہو چکا تھا۔ طبیعت زیادہ بگڑی تو اپنے دوست احسان الہی احسان صاحب کے گھر منتقل ہو گئے کہ یہ ان کا دوسرا گھر تھا۔ رشتہ داروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ اپنے گھر یا اپنے کسی عزیز کے گھر آ جائیں لیکن نہ مانے۔ آج کل یہ راگ تواتر سے الاپا جاتا ہے کہ دوستی جیسے مقدس رشتے میں کھوٹ آ چکا ہے لیکن تترال کے احسان الہی احسان نے نظریاتی اختلاف کے باوجود پچپن سالہ رفاقت کو نبھا کر ایک مثال قائم کر دی ہے۔

لیاقت صاحب چار ماہ کے لگ بھگ احسان صاحب کے گھر رہے۔ آخری ڈیڑھ ماہ تو بیڈ تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ آپ اندازہ کر لیں کہ ایسے مریض کی دیکھ بھال کے لیے کیا کیا کرنا پڑتا ہے؟ لیاقت صاحب خوش نصیب تھے کہ اس گھر میں نہ صرف ان کا یار تھا بلکہ عظمیٰ صدف کے روپ میں ایک فرمانبردار، صابر اور عقیدت رکھنے والی بیٹی بھی تھی جس نے اپنے بابا کی خدمت کر کے ایک درخشاں روایت قائم کی ہے۔ عظمیٰ کے شوہر ساحل احسان نے بھی لیاقت صاحب کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ لیاقت صاحب کی شخصیت کا اس گھر پر اثر دیکھیں۔ عظمیٰ اور ساحل کے دو بچے شہریار اور سعدی ابھی تترال ہائی سکول میں پڑھتے ہیں اور بانسری کمال کی بجاتے ہیں۔ بڑی بیٹی نورالہدی نیشنل کالج آف آرٹس لاہور جہاں داخلہ لینا چھوٹے اضلاع کے بچوں کے لیے ایک خواب ہی ہوتا ہے میں میوزیکالوجی کی طالبہ ہے۔

لیاقت صاحب حیات کی تلخیوں کو چٹکی میں اڑا دینے کے فن کے ماہر تھے بالکل اسی طرح جیسے وہ اپنے مخصوص انداز میں سیگریٹ کی راکھ کو چٹکی سے جھٹکتے تھے۔ چار دسمبر کی شام زندگی کو بھی اسی طرح چٹکی میں جھٹک دیا۔ وہ اپنے شاگردوں میں زندہ تو ہیں ہی، ان کی شخصیت کا نقش بھی چکوال کے علمی دامن پر کسی نہ کسی شکل میں قائم رہے گا۔

ہے مقدر زوال کا رستہ
کیسے نکلے کمال کا رستہ
میں جہاں بھی گیا تو آگے تھا
پھر اسی کے خیال کا رستہ
ایک رستہ ہے اہل دنیا کا
اک محمد کی آل کا رستہ
اس پہ سر نیزوں پر ہی سجتے ہیں
یہ ہے زہرا کے لال کا رستہ
بے خودی میں سمٹ گیا صوفی
زندگی کے وبال کا رستہ

Facebook Comments HS