کوئٹہ کے بہاری کباب اور مشرقی پاکستان میں بمشکل جان بچانے والا انجینئر

1976 کی بات ہے، میں اپنی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم کی ٹیم کے ساتھ پہلی دفعہ کوئٹہ گیا۔ کوئٹہ یاترا کا مقصد ایک حکومتی ادارے کا آڈٹ انجام دینا تھا۔ اس ادارے کا نام پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن تھا۔ ائرپورٹ پر کمپنی کی گاڑی موجود تھی۔ ڈرائیور نے بتایا کہ پہلے آپ لوگ ہوٹل میں چیک ان کر لیجیے اس کے بعد میں آپ کو دفتر لے چلوں گا۔ ہوٹل کا نام لوڈز ہوٹل تھا۔ یہ ہوٹل ایک ریزارٹ کی شکل میں تھا اور ہر طرف سے سبزہ زاروں میں گھرا ہوا تھا۔
یہ ہوٹل قیام پاکستان سے پہلے ایک پارسی فیروز مہتہ نے قائم کیا تھا۔ ہوٹل کا ماحول خاصہ رومان پرور تھا۔ چیک ان کرنے کے بعد ہم کارپوریشن کے دفتر پہنچے۔ حسب روایت سب سے پہلے جنرل مینجر فنانس سے ملاقات ہوئی اور آڈٹ کے معاملات طے کیے۔ یہ دسمبر کا مہینہ تھا اور کوئٹہ کی وادی سخت سردی کی لپیٹ میں تھی۔ 70 کی دہائی تک کوئٹہ اپنی اصلی اور کلاسیکی حیثیت قائم رکھے ہوئے تھا۔ ابھی افغانستان پر روسی یلغار نہیں ہوئی تھی اس لیے کوئٹہ میں افغان مہاجرین کا نام و نشان تک نہ تھا۔
شہر کی آبادی بیس لاکھ سے بھی کم تھی۔ 1935 میں کوئٹہ میں ایک قیامت خیز زلزلہ آیا تھا۔ جس میں صرف کنٹونمنٹ کے علاقے کو چھوڑ کر پورا شہر تباہ ہو گیا تھا۔ اس کے بعد انگریزوں نے شہر کو دوبارہ تعمیر کیا تھا۔ انگریزوں نے تقریباً سارے شہر میں یورپی طرز کی عمارتیں تعمیر کی تھیں اور شہر کی عمارتوں میں لکڑی کا استعمال زیادہ کیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے 70 کی دھائی تک کوئٹہ شہر کو لٹل لندن بھی کہا جاتا تھا۔ سخت سردی کی وجہ سے شہر میں لوگ لمبے لمبے اور کوٹ پہنے ہوئے سر پر اونی ٹوپیاں جمائے ہوئے اور گلے میں انگریزی طرز کے مفلر لٹکائے ہوئے گھومتے پھرتے نظر آ رہے تھے۔
مجھے تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ہالی ووڈ کی کسی دوسری جنگ عظیم سے متعلق فلم کے سیٹ پر گھوم رہا ہوں۔ دوسرے دن سے کارپوریشن کے دفتر میں، میں نے اپنی ٹیم کے ساتھ معمول کا آڈٹ کا کام کرنا شروع کر دیا۔ کارپوریشن کے دفتر کی عمارت ایک بہت بڑے احاطے کے اندر بنی ہوئی تھی۔ یہ احاطہ کئی ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا۔ اسی احاطہ میں خاصے فاصلے پر کچھ پلانٹ نما تنصیبات بھی تھیں۔ پتہ چلا احاطہ کے ایک کونے میں ایک کوئلے کی پراسیسنگ کا کول برکیٹ پلانٹ ہے اور دوسری طرف قدرتی گیس کی وہ تنصیبات ہیں جس میں کراچی سے قدرتی گیس لا کر ذخیرہ کی جاتی ہے اور پھر کوئٹہ شہر کو سپلائی کی جاتی ہے۔
یہ بات ہمارے لیے بہت حیران کن تھی کیو نکہ قدرتی گیس تو بلوچستان کے علاقے سوئی سے سب سے پہلے نکالی گئی ہے اور کوئٹہ جو صوبہ بلوچستان کا صدر مقام ہے یہاں گیس ٹرکوں کے ذریعے کراچی سے لائی جا رہی ہے! یعنی الٹے بانس بریلی کو ، یہ بھی معلوم ہوا کے کوئٹہ میں گیس کی فراہمی موجودہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کروائی ہے۔ اس سے پہلے کوئٹہ شہر کو گیس کی سہولت حاصل نہیں تھی۔ میرے دیس میں بھی 75 سالوں سے خوب تماشا جاری ہے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1970 میں جب میں پہلی بار اسلام آباد گیا تھا تو اپنے ایک کزن کے گھر ٹھہرا تھا جس کے والد ایک سرکاری افسر تھے اور ان کو بڑی سی سرکاری رہائش ملی ہوئی تھی ان کے ہاں ہر وقت بغیر ضرورت کہ بھی گیس کا چولہا جلتا رہتا تھا کہ کون بار بار ماچس سلگا کر چولہا جلائے۔ واضح رہے بلوچستان میں گیس 1952 میں دریافت ہوئی تھی اور 1955 تک گیس کراچی، لاہور اور ؓراولپنڈی وغیرہ میں پہنچ چکی تھی۔ جب کہ کوئٹہ میں گیس 1972 میں فراہم کی گئی یعنی تقریباً 20 سال بعد ۔
کول برکیٹ پلانٹ کے چاروں طرف کوئلے کا چورا بکھرا ہوا تھا۔ معلوم ہوا جب کان کنی کے دوران پہاڑوں سے کوئلہ نکال کر ذخیرہ کرنے کی جگہ تک ٹرانسپورٹ کیا جاتا ہے تو بہت سارا کوئلہ ٹوٹ کر چورے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس چورے کو اکٹھا کر کے صاف کیا جاتا ہے اور پھر اس کے چھوٹے چھوٹے ایک سائز کے ڈلے بنا لیے جاتے ہیں جو برکیٹ کہلاتے ہیں۔ ہماری ملاقات برکیٹ پلانٹ کے چیف انجینئر سے ہوئی۔
چیف انجینئر کو جب پتہ چلا کہ ہم لوگ کراچی سے آئے ہیں تو کہنے لگے ہم آپ کو کوئٹہ میں بہاری کباب کھلائیں گے، ہم بڑے حیران ہوئے کوئٹہ میں بہاری کباب! وہ کہنے لگے کہ ہم اپنے ہاتھوں سے کباب بناتے ہیں۔ وہ شستہ اردو بول رہے تھے لیکن غور کرنے پر ان کی گفتگو میں بہاری لہجے کی جھلک محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے پوچھا، آپ یہاں اس شہر میں کیسے آن بسے! انھوں نے کہا کہ یہ بڑی طویل داستان ہے، کل آپ رات کا کھانا ہمارے ساتھ تناول فرمائیے اور کل رات ہی ہم اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔
مجھ کو دوسری رات کا بڑا بے چینی سے انتظار رہا۔ جب ہم اگلی رات ان کی رہائش پر پہنچے جو کہ ان کے دفتر کے اندر ہی واقع تھی، تو کبابوں کے بھننے کی بھینی بھینی خوشبو ہمارے نتھنوں سے ٹکرائی اور اس کے بعد ہم گرم گرم بہاری کباب کی کئی پلیٹیں چٹ کر گئے، بعد میں کوئٹہ کا خاص قہوہ پیش کیا گیا، تو میں نے انچارج صاحب کو گزشتہ کل کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیے، انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں تو میں تنہا رہتا ہوں اور میری فیملی کراچی میں ہے، پھر گویا ہوئے کہ میری کہانی شروع ہوتی ہے، جب ہمارا مشرقی بازو جو آج دنیا کے نقشے پر بنگلہ دیش کے نام سے جانا جاتا ہے اس وقت مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ میں دراصل مشرقی پاکستان میں رہتا تھا اور بنگلہ دیش بننے کے بعد ، میں پاکستان آیا ہوں، آپ یہ جو کوئلے کا پراسیسنگ پلانٹ دیکھ رہے ہیں ایسا ہی ایک پلانٹ مشرقی پاکستان /بنگلہ دیش میں بھی تھا اور میں وہاں کا انچارج تھا۔ یہ دونوں پلانٹ پاکستان کو امریکہ کی طرف سے 60 کی ابتدائی دہائی میں بطور تحفہ دیے گئے تھے۔ پھر انھوں نے اپنی بنگلہ دیش سے پاکستان آنے کی کہانی سنانی شروع کی جو خاصی دردناک ہے۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ، کوئٹہ کی طرح کا کوئلے کا پراسیسنگ پلانٹ، حالیہ بنگلہ دیش سابقہ مشرقی پاکستان کے شمال مشرقی سرحدی علاقے میں قائم تھا۔ دسمبر 1971 میں وہ اس پلانٹ کے انچارج تھے۔ 16 دسمبر کو پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کے بعد مکتی باہنی کے کچھ مقامی لوگ اس پلانٹ پر آئے اور ان سے ملے، ساتھ میں یہ کہا کہ آپ کو ہم ایک عرصے سے جانتے ہیں، اس لیے ہم آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ لیکن اگر کسی دوسرے قریبی شہر سے مکتی باہنی والے آ گئے اور آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ہم آپ کو بچا نہیں پائیں گے۔
وہ بتاتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ میں کہاں جاؤں؟ آپ کو پتہ ہے میرا گھر اور خاندان ڈھاکہ میں ہے اور فی الحال ڈھاکہ کا سفر کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ نہ مجھے اپنے خاندان کی کوئی خیر خبر ہے، اور نہ ہی آج کل کی صورتحال میں ان سے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ ہے۔ مکتی باہنی کے لوگ کہنے لگے کہ یہ سب باتیں تو بعد کی ہیں، ابھی اپنی جان بچانے کی فکر کریں اور ہمارا مشورہ ہے کہ یہاں سے چند میل پرے بھارت کی سرحد ہے آپ بھارت کے علاقے میں داخل ہوجائیں تاکہ آپ کی جان محفوظ رہے۔
مرتا کیا نہ کرتا میں اگلے دن صبح بھارت کی سرحد کی طرف پیدل چل دیا اور دو گھنٹوں بعد بھارتی سرحدی جنگل میں داخل ہو گیا، وہاں ایک پانی کے تالاب کے پاس میں نے اپنا پڑاؤ ڈال لیا۔ اور جنگلی جڑی بوٹیاں اور پھل میری خوراک کا حصہ بن گئے۔ ابھی تین دن نہیں گزرے تھے کہ بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس کے جوانوں نے مجھے دیکھ لیا اور مجھ سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد جب ان کو پتہ چلا کہ میں سرحد پار سے آیا ہوں تو وہ مجھے اپنی جیپ میں ڈال کر سرحد پر لے گئے اور مجھ کو حکم دیا کہ میں واپس بنگلہ دیش /مشرقی پاکستان کی طرف دوڑ لگا دوں اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھوں، وگرنہ وہ مجھے فائرنگ کا نشانہ بنا دیں گے، میں دوبارہ بنگلہ دیش کے علاقے میں داخل ہوگیا، شام کا وقت ہو چلا تھا رات جیسے تیسے جنگل ہی میں گزری، صبح ہوتے ہی میں اپنے پلانٹ کی جانب چل دیا، میں ابھی پلانٹ سے ذرا پرے ایک چھوٹے سے گاؤں میں داخل ہی ہوا تھا کہ تین چار مقامی بنگالی دوڑتے ہوئے آئے، یہ بنگالی مجھے پہچانتے تھے۔
انھوں نے قریب آ کر کہا کہ تم یہاں کہاں آ گئے تمھیں مکتی باہنی کے افراد ڈھونڈ رہے ہیں اور ان کے ارادے نیک نظر نہیں آتے اگر جان بچانا چاہتے ہو تو تم فوراً بھارتی علاقے میں چلے جاؤ۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کدھر جاؤں، وہاں جاتا ہوں تو وہ یہاں بھیج دیتے ہیں، یہاں آتا ہوں تو یہ مجھے واپس جانے کا کہتے ہیں۔ بہرحال میں اپنی جان بچانے کی خاطر واپس بھارتی علاقے میں گھس گیا اور خود ہی بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کی قریبی چوکی پر پہنچ گیا اور وہاں کے کمانڈر سے کہا کہ مجھے گرفتار کر کے یہاں کے قریب ترین تھانے کے حوالات میں بند کر دیں۔
ایک لمبی بحث کے بعد کمانڈر یہ کام کرنے کے لیے رضامند ہو گیا۔ دوسرے دن میں قریب ترین تھانے کے حوالات میں پہنچا دیا گیا۔ اس تھانے سے ایک ہفتے کے اندر مجھے قریب ترین جیل بھجوا دیا گیا۔ جب جیل کے حکام کو میری کہانی پتہ چلی تو انھوں نے میرے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا اور مجھے تسلی دی کہ تمھارا کیس تحریری طور پر ہم دہلی میں متعلقہ حکام کو بھجوا دیں گے اور ساتھ میں سفارش کر دیں گے کہ تم کو جنگی قیدی کی حیثیت سے دہلی کی جیل شفٹ کر دیا جائے تاکہ جب تمام جنگی قیدی رہا ہو کر پاکستان جانے لگیں تو تم کو بھی پاکستان بھیج دیا جائے۔
جنوری 1972 کا مہینہ اختتام کے قریب تھا، اب میرے شب و روز اس چھوٹی سی جیل میں گزرنے لگے۔ جیل کے حکام نے میرے انجنیئرنگ کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے جیل کے میٹنس ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے کی اجازت بھی دے دی، لیکن میری حیثیت ایک قیدی ہی کی تھی۔ ایک سال گزر گیا لیکن دہلی سے میرے بارے میں کوئی مثبت جواب نہ آیا۔ ایک دن اچانک جیلر نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا اور کہا کہ دہلی سے وفاقی وزیر برائے جیل خانہ جات ہماری جیل کا دورہ /معائنہ کرنے آرہے ہیں، تمام قیدیوں کو ایک قطار میں ان کا استقبال کرنے کے لئے کھڑا کیا جائے گا، قطار میں جو قیدی سب سے پہلے کھڑا ہو گا وہ وزیر صاحب کو گلدستہ پیش کرے گا۔
تم ہماری جیل میں واحد قیدی ہو جو بغیر کسی جرم کے جیل میں قید ہے اور تمھارا کیس بھی دہلی میں ان وزیر صاحب کے دفتر ہی بھیجا گیا ہے، جس کا ایک سال گزرنے کے باوجود بھی کوئی جواب نہیں آیا۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ قطار میں پہلے نمبر پر گلدستہ تھامے تم کھڑے ہو گے اور تم ہی وزیر صاحب کو گلدستہ پیش کرو گے، اس طرح تمھیں موقع مل جائے گا کہ تم مختصراً اپنی روداد اور درخواست وزیر صاحب کو گوش گزار کر سکو۔ مقررہ دن وزیر صاحب آئے، میں نے ان کو گلدستہ پیش کیا اور اپنی درخواست بھی عرض کی، میری خوشی اور حیرت کی انتہا نہ رہی کہ انھوں نے موقع پرہی احکامات جاری کر دیے اور میں ایک ہفتے کے اندر اندر دہلی بھیج دیا گیا۔
مجھے جنگی قیدی کا اسٹیٹس بھی مل گیا اور میں دوسرے پاکستانی جنگی قیدیوں کے درمیان بھی پہنچ گیا۔ وہاں مجھے ڈھاکہ کے ایک آدھ پڑوسی بھی مل گئے، ان میں سے ایک نے مجھے بتایا کہ تمھارے بیوی بچے بہاریوں کے لیے بنائے گئے خصوصی کیمپ میں پہنچ گئے تھے اور ہو سکتا ہے کہ پاکستان بھی بھیج دیے گئے ہوں۔ بہرحال میرا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔ ایک سال اور بیت گیا، مئی 1974 میں مجھے دوسرے جنگی قیدیوں کے ساتھ رہا کر کے پاکستان بھیج دیا گیا۔
میں کراچی پہنچ گیا عجب گومگو کا عالم تھا، یہی سوچ سوچ کے پریشان تھا کہ میرا خاندان ڈھاکہ سے کراچی پہنچ بھی پایا ہو گا یا نہیں! اور اگر پہنچ گیا ہے تو کہاں ہو گا، کس حال میں ہو گا اور میں ان سے کس طرح مل پاؤں گا۔ معلوم ہوا کہ جو بہاری ڈھاکہ کے اسیروں کے کیمپ سے کراچی منتقل کیے جا رہے ہیں ان کا ریکارڈ سندھ سیکریٹریٹ میں موجود ہوتا ہے۔ میں کسی نہ کسی طرح سندھ سیکریٹریٹ پہنچ گیا۔ متعلقہ شعبے کے افسر سے ملاقات ہوئی اس نے مجھے کلرک کے سپرد کر دیا، وہ کلرک مجھے ایک بہت بڑے ہال میں لے کر چلا گیا جہاں بڑے بڑے رجسٹروں کا ایک بے ترتیب ڈھیر لگا ہوا تھا، اس نے کہا کہ بھائی انہی رجسٹروں میں کہیں تمہارے خاندان کی آمد کا اندراج ہو گا اور یہ تفصیلات تم کو ان رجسٹروں میں خود ہی ڈھونڈنا پڑیں گی۔
اب میرا روزانہ کا معمول بن گیا کہ میں الصبح اس ریکارڈ روم میں پہنچ جاتا اور ہر رجسٹر کی ایک ایک انٹری کو پڑھنا شروع کر دیتا۔ پندرہ دن اسی تگ و دو میں گزر گئے آخر کار ایک رجسٹر میں مجھے اپنی بیوی کا نام نظر آ گیا۔ اور وہیں اس کا موجودہ پتہ درج تھا، میری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا یہ اورنگی ٹاؤن کے ایک علاقے کا پتہ تھا میں سیکریٹریٹ سے سیدھا اورنگی ٹاؤن پہنچا اور تھوڑی سی تلاش و بسار کے بعد مطلوبہ مقام تک پہنچ گیا۔
اس گھر کا کوئی دروازہ تو نہ تھا البتہ ٹاٹ کا ایک پردہ لٹک رہا تھا، میں نے اپنی بیوی کا نام لے کر زور سے آواز دی تو اس ٹاٹ کے پردے کے پیچھے سے ایک چار سال کا بچہ برآمد ہوا، جس نے بڑے درشت لہجے میں پوچھا ”کون ہے“ اس اثنا میں شاید میری بیوی نے میری آواز سن لی اور وہ بھی پردے کے پیچھے سے نکل آئی۔ عجب منظر تھا میں اور میری بیوی آمنے سامنے تھے اور گزشتہ چار برس سے ہم دونوں کا کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا، جب میں آخری مرتبہ ڈھاکہ سے نکلا تھا تو میری بیوی چھ ماہ سے حاملہ تھی، اس نے مجھے بتایا کہ یہ چھوٹا بچہ وہی ہے جو بعد میں پیدا ہوا۔
الغرض آہستہ آہستہ زندگی کی گاڑی دوبارہ چل پڑی مجھے محکمے کی جانب سے کوئٹہ بھیج دیا گیا اور میرا خاندان کراچی ہی میں رہائش پذیر ہے۔ آج بھی میں سوچتا ہوں کہ 1947 میں انسانوں کی تقسیم اور ہجرت کا سلسلہ جو شروع ہوا تھا وہ موجودہ پاکستان میں اب بھی تھم نہ سکا، آج بھی ہم اسی خونی دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں 1971 میں کھڑے تھے، کل اس کا نام مشرقی پاکستان تھا آج اس کا بلوچستان ہے۔ وہ بلوچستان جو قیام پاکستان کے وقت سے ہی اپنے لیے انصاف اور حقوق تلاش کرتے کرتے ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں میں جا چھپا ہے، خدارا ہم اب بھی ہوش کے ناخن لیں اور کم سے کم بچے کھچے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کی کوشش کریں۔

