خوف اور امید


خوف اور امید کے جذبات انسانی دماغ کو زیادہ تر اپنے حصار میں رکھتے ہیں۔ کوئی موت کے خوف میں مبتلا ہے تو کوئی اپنوں کو کھونے کے خوف میں۔ کہیں ملازمت سے فارغ ہو جانے کا خوف پایا جاتا ہے، تو کہیں کاروبار میں نقصان ہو جانے کا خوف۔ موسمیاتی تبدیلی کا خوف، بے عزت ہونے کا خوف، مال و دولت پر قبضہ ہو جانے کا خوف، کوئی معاشرتی عہدہ کھونے کا خوف اور بعض اوقات انسانی دماغ کسی انجانے خوف کا شکار بھی ہو جاتا ہے اور وہ ہمیں بلا وجہ پریشان و اداس رکھتا ہے۔ الغرض ہم میں سے ہر کوئی کسی نا کسی خوف کا شکار ہے۔ لہذا، ہم اپنی زیادہ تر توانائیاں اور وقت اسی خوف میں ضائع کر دیتے ہیں۔

خوفزدہ انسان بھرپور زندگی گزارنے سے قاصر رہتا ہے۔ تیسری دنیا کے لوگ تو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے سے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ انہیں غلامی اور پیشہ وارانہ محکومی کی اتنی عادت پڑ چکی ہوتی ہے کہ عزت سے زندگی گزارنا بھی اپنا حق نہیں سمجھتے۔ ان لوگوں کی اکثریت سرکاری دفاتر جانے سے ڈرتی ہے، خاص کر تھانے کچہری جاتے ہوئے تو اکثر کے ہاتھ پاؤں ہی پھول جاتے ہیں۔ تھانیدار یا پٹواری ان سے بدتمیزی کرے تو یہ معصوم لوگ اپنی بے عزتی کروانا اور ان کے ہاتھوں ذلیل و رسواء ہونا اپنا فرض اور ان کا حق سمجھتے ہیں۔

یہ لوگ کھل کر اپنی آواز تک نہیں بلند کر سکتے۔ اور سرکاری ملازمین کی ہر جائز ناجائز بات میں جی سے جی ملانا ضروری سمجھتے ہیں۔ کچھ تو اس خوف سے کہ کہیں ان کے رہبروں کو برا نا لگ جائے، آزادانہ رائے رکھنے کے حق سے ہی دستبردار ہو جاتے ہیں اور جی حضوری کی سب حدیں عبور کرتے چلے جاتے ہیں۔

یہ عارضی دنیا ہے۔ رزق کا ذمہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ عزت، دولت اور شہرت سب دنیاوی خواہشات ہیں۔ انسان اگر ان چیزوں سے آگے نکل جائے تو امر ہو جاتا ہے۔ دنیاوی خواہشات پر قابو پانے کے لیے سب سے پہلے انسان کو اپنے خوف کو ختم کرنا پڑے گا۔ اپنی ذات کی چار دیواری سے باہر نکل کر انسانیت کے لیے سوچنا پڑے گا۔ ورنہ وہ یونہی اپنے خوف کے حصار میں زندگی گزار کر چل بسے گا۔ اور زندگی کے اصل مقصد کو کبھی حاصل نا کر پائے گا۔

اگر ہم لوگ زندگی کو کامیابی سے گزارنا چاہتے ہیں، تو آئیے اپنے اپنے خوف کو پہچانیں اور اس کی زنجیروں کو توڑ کر امید کے سہارے مثبت سوچ کے ساتھ زندگی کو گزاریں۔

خوف کی بنیاد پر کوئی شخص بھی اپنے کمفرٹ زون سے باہر نہیں نکل پاتا۔ ہمیشہ امید اسے ہر حال میں جینے کے لیے اکساتی ہے۔ یہ امید ہی ہے جس نے انسان کو جنگلوں اور پہاڑوں سے نکال کر شہروں کے شہر آباد کرنے کی ہمت دی۔ امید ہی کے بل بوتے پر انسان نے ہواؤں اور فضاؤں کو چیرتے ہوئے چاند پر قدم جما لیے۔ پہیہ ایجاد کر لیا۔ دنوں اور مہینوں کے فاصلوں کو منٹوں اور سیکنڈوں میں طے کرنے کی صلاحیت پیدا کر لی۔ خوف زدہ انسان کسی قسم کی ایجاد نہیں کر سکتا۔ وہ تو ہمہ وقت اپنے خوف کی وجہ سے سہما ہوا رہتا ہے۔ جرات اور شجاعت اس سے کوسوں دور ڈیرے ڈالے ہوتی ہیں اور وہ گیدڑ کی طرح دم ہلاتے ہوئے خوف کی راہ میں بے موت مارا جاتا ہے۔ جبکہ پر امید انسان زندگی کی جنگ کو سر عام لڑتے ہوئے با آواز کلمہ حق بلند کرتے ہوئے شہادت کی موت کو گلے لگاتا ہے۔

لہذا، آئیے عہد کرتے ہیں کہ اپنے اپنے خوف کو ختم کر کے ایک با وقار زندگی جینے کی سعی کریں گے۔ اور یہ کہ گیدڑ کی طرح سو سالہ زندگی جینے سے شیر کی ایک دن کی زندگی ہی بہتر ہے۔ ساتھیو، مرنا تو ہے ہی، آج نہیں تو کل، کیوں نا پھر شان سے جیا جائے اور اپنا حق دھڑلے سے لیا جائے۔ جو انہونی ہونی ہے وہ تو ہو کر رہنی ہے۔ کوئی اسے ٹال نہیں سکتا۔ خوفزدہ ہو کر، سہم سہم کر اور گھٹ گھٹ کر جینے سے شان سے مر جانا بہتر ہے۔

بقول فہمیدہ ریاض
کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے
وہ تم کو خوف دلائیں گے
جو ہے وہ بھی کھو سکتا ہے
اس راہ میں رہزن ہیں اتنے
کچھ اور یہاں ہو سکتا ہے
کچھ اور تو اکثر ہوتا ہے
پر تم جس لمحے میں زندہ ہو
یہ لمحہ تم سے زندہ ہے
یہ وقت نہیں پھر آئے گا
تم اپنی کرنی کر گزرو
جو ہو گا دیکھا جائے گا

Facebook Comments HS