متضاد انسانی رویے

کچھ لوگ ہوتے ہیں جنھیں کسی بھی طرح کے حالات سے یا انسانی رویوں سے قطعاً کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے نزدیک کسی کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہی ہوتا ہے۔ ایسے لوگ جہاں احساسات سے عاری نظر آتے ہیں، وہیں وہ اپنی ذات کے لیے جیتے نظر آتے ہیں۔ وہ وقتی طور پر تو کسی کے لیے پریشان ہو سکتے ہیں لیکن تادیر کسی بھی دکھ کو خود پر طاری نہیں رکھتے۔ وہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں۔ اگر کوئی غلطی سے بھی ان کا دل دکھائے یا کسی کی کوئی بات انھیں ناگوار گزرے تو یہ انتقامی انداز اپنا لیتے ہیں اور انھیں تب تک سکون نہیں ملتا جب تک ان کے انتقامی جذبات کی تسکین نہیں ہو جاتی۔
یہ بظاہر بہت خوش اخلاق نظر آتے ہیں لیکن اپنی باتوں میں طنز کے نشتر لیے ہوئے ہوتے ہیں جو دوسروں کو وقتاً فوقتاً چبھوتے رہتے ہیں۔ انھیں ہر کام میں دوسروں کی نظر میں اچھا بننے کی عادت ہوتی ہے۔ اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام کو بھی بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ معاشرے میں سروائیو کر پاتے ہیں جو انسانی رویوں کی مار بھی بہت آسانی سے سہ لیتے ہیں اور ہر دکھ کو بہت سکون سے سہ جاتے ہیں۔
لیکن دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو گہرے احساسات، مروت اور محبت سے بندھے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ دوسروں کی زندگی میں آسانیاں لانے کی خاطر اپنی ذات کو دکھ اور اندھیرے کی گہری وادی میں دھکیل دیتے ہیں۔ انھیں ساری زندگی اپنی ذات نظر نہیں آتی، جب بھی سوچیں گے، اپنے آس پاس اور قریبی لوگوں کی خوشیوں کے بارے میں سوچیں گے۔ ایسے لوگ اپنے قریبی لوگوں کا ذرا سا بھی بدلا ہوا رویہ برداشت نہیں کر پاتے۔ اندر ہی اندر گھٹتے رہتے ہیں۔
اپنوں کی طرف سے ملنے والے غم تو ایک طرف، یہ کسی اجنبی کے تلخ رویے کو لے کر بھی پریشان نظر آتے ہیں۔ بظاہر ایسے لوگ خوش نظر آنے کی بھرپور اداکاری کرتے نظر آئیں گے لیکن ان کا دل اپنے احساسات کی پامالی پر رو رہا ہوتا ہے۔ بظاہر کسی بہتی ندی کی سطح کی طرح پرسکون نظر آتے ہیں لیکن ان کے اندر آنسوؤں کا، پوری نہ ہو سکنے والی خواہشات کا ماتم ہو رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اگر کبھی محسوس ہو جائے کہ ان کی ذات کسی کے لیے باعث آزار ہے تو یہ اپنی پسندیدہ ترین جگہوں و انسانوں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے میں ایک پل کی بھی دیر نہیں لگاتے۔
حسد، نفرت اور انتقام جیسے الفاظ ان کی لغت میں کہیں نہیں ہوتے۔ ایسے لوگ بس دینا جانتے ہیں، بدلے میں کچھ ملے یا نہ ملے، انھیں پروا نہیں ہوتی۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، ہمیشہ محبت و مودت اور حسن اخلاق کا نمونہ بنے نظر آئیں گے۔ یہ لوگ کبھی دو رخا پن نہیں اپناتے۔ انھیں دوسروں کی نظر میں اچھا بننے کی بھی عادت نہیں ہوتی۔ اپنے کیے ہوئے ہر کام کا کریڈٹ بھی دوسروں کو دیتے نظر آئیں گے۔ عاجزی و انکساری تو جیسے ان کی فطرت کا حصہ بن چکی ہوتی ہے۔
ایسے لوگ اپنا حق بھی دوسروں کو دینے سے نہیں کتراتے۔ جو اور جتنا مل رہا ہے، اس پر قناعت کرتے ہیں۔ صبر اور توکل تو جیسے ان کی گھٹی میں شامل ہو۔ مجال ہے جو کبھی اپنی ذات کو اولین و اہم گردانتے ہوں، جب بھی گفت گو کریں گے، دوسروں کی اچھائیوں کو موضوع بنائیں گے۔ اپنے حریفوں سے بھی یوں ملیں گے جیسے برسوں کی رفاقت ہو پھر چاہے سامنے والا لاکھ منھ بنائے، یہ اپنی محبت و شفقت میں کمی نہیں آنے دیتے۔ انھیں ہر کام میں اچھائی کا کوئی نہ کوئی پہلو نظر آ ہی جاتا ہے۔ آج کے دور میں ایسے لوگ نایاب ہیں۔

