کیا امریکہ واحد سپر پاور ہے؟
پاکستان کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ہمارے جیسے لوگوں کو زمانۂ طالبعلمی میں ان کے بزرگ دانشور یہی بتاتے تھے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے لیاقت علی خاں کا سوویت یونین کا دعوت نامہ نظر انداز کرنا اور امریکہ کا دورہ کرنا غلط تھا۔ اس کے بعد سینٹو اور سیٹو جیسے اتحادوں میں شامل ہونا اور بھی غلط تھا۔ پاکستان کے ادارہ بین الاقوامی تعلقات کی کانفرنس میں بدلتے ہوئے عالمی نظام اور پاکستان کے حوالے سے یہ بحث چالیس پچاس سال بعد ذرا مختلف انداز میں دہرائی گئی۔
سرد و گرم چشیدہ ڈپلومیٹ نجم الدین شیخ نے تو امریکہ کا دفاعی بجٹ بتا کے فیصلہ سنا دیا کہ امریکہ واحد سپر پاور ہے۔ لیکن دوسرے مقررین کا موقف مختلف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ساتھ روس اور چین بھی سپر پاور ہیں۔ اور ماضی کی طرح پاکستان پھر ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ اسے فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ امریکہ کے ساتھ کھڑا ہو گا یا چین کے ساتھ۔ ریٹائرڈ سفیر ضمیر اکرم کا کہنا تھا ”عالمی نظام میں بہت زیادہ تبدیلیاں آ رہی ہیں۔
روسی صدر پیوٹن کے بقول دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ سب سے زیادہ خطرناک دور ہے۔ امریکی صدر بائیڈن کے بقول دنیا ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے اور امریکہ اور دیگر دنیا ایک فیصلہ کن عشرے کے ابتدائی سالوں میں ہے۔ چینی صدر شیخ کا کہنا ہے“ ہم نے نئی طرز کے بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دیا ہے۔ اور عالمی گورننس سسٹم کی تشکیل و اصلاح میں سرگرمی سے حصہ لیا ہے۔ پاکستان کی پہلی قومی سلامتی کی پالیسی میں بھی ان عالمی تبدیلیوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔
اور کہا گیا ہے کہ اقتصادی اور فوجی طاقت کے بہت سے مراکز اور ایک کثیر قطبی دنیا عصری عالمی لینڈ اسکیپ کی اہم خصوصیات ہیں۔ سرد جنگ کے زمانے میں دنیا دو قطبی تھی۔ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ واحد عالمی طاقت رہ گیا۔ 9 / 11 کے دہشت گردی کے واقعے کے بعد امریکہ کو ایک مسلسل جنگ کا جواز مل گیا۔ اس میں صرف افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں حکومتوں کی تبدیلی ہی شامل نہیں تھی۔ اس سے بھی اہم نئے حریفوں خاص طور پر چین اور روس کو سامنے آنے سے روکنا تھا۔
ایشیا میں پہلے سے موجود جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی معاہدوں کو مضبوط کر کے ”جمہوریتوں“ کے اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور ہندوستان اور ویتنام جیسے نئے اسٹریٹیجک حلیف تلاش کیے گئے۔ ایشیا پیسفک میں چین کا راستہ روکنے کے لئے لئے امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور انڈیا کا چار فریقی اتحاد بنانے کے ساتھ آسٹریلیا، انگلینڈ اور امریکہ کا AUKUS پیکٹ کیا گیا۔ یورپ میں نیٹو کو روس کی سرحدوں تک بڑھانے کی کوشش کی گئی۔
امریکہ کی بین الاقوامی حکمرانی کی کوششوں کے جواب میں جولائی 2001 میں چین روس دوستی معاہدہ ہوا۔ امریکی بالا دستی کا مقابلہ کرنے کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم بنائی گئی۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق چین چار شعبوں میں کارکردگی کے لحاظ امریکہ سے سے آگے ہے : ملٹری، ٹیکنالوجی، معیشت اور سفارت کاری۔ امریکہ عالمی حکمرانی کی پوزیشن سے ہٹ کر مدافعتی پوزیشن میں آ گیا ہے۔ ٹیکنالوجی میں چین چار بنیادی شعبوں : آرٹیفیشل انٹلیجنس، 5 جی، کوانٹم انفارمیشن سروس، سیمی کنڈکٹرز، بائیو ٹیکنالوجی، اور گرین انرجی میں امریکہ کے برابر بلکہ اس سے آگے نکل گیا ہے۔
اقتصادی میدان میں گزشتہ چار عشروں میں چین کا گروتھ ریٹ امریکہ سے چار گنا زیادہ رہا ہے۔ ایشیا پیسفک میں اپنے اسٹریٹیجک مفادات جیسے تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین کے لئے چین نے سرخ لکیر کھینچ دی ہے۔ چین نے ایشیا، افریقہ اور یورپ کو سڑکوں ) روڈ اینڈ بیلٹ) کے ذریعے ملانے کے منصوبے شروع کر رکھے ہیں تاکہ امریکہ کی طرف سے چین کو لاحق آبی خطرے کا توڑ کیا جا سکے۔ روس کے یو کرین پر حملے کا مقصد بھی نیٹو کی توسیع کی مخالفت کرنا ہے۔
پیوٹن کی قیادت میں روس کی فوجی طاقت امریکہ کے برابر ہو چکی ہے۔ چین اور روس کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ یورپ اور ایشیا میں اپنی اسٹریٹیجک پارٹنرشپ پر بھروسا کر رہا ہے۔ یوکرین کی جنگ کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے۔ کیونکہ گزشتہ دو عشروں میں جرمنی اور فرانس کے چین اور روس کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات بڑھ گئے ہیں۔ اور یوکرین میں امریکہ کی حمایت دونوں ملکوں کے لئے اقتصادی نقصان کا باعث بن رہی ہے۔
جب سردیوں میں روس سے گیس نہیں ملے گی تو یورپی ممالک کا اور برا حال ہو گا۔ ادھر ترکی نے روس سے میزائل خرید کر امریکہ کے لئے مسئلہ کھڑا کیا ہے۔ ہندوستان نے بھی روس کی مخالفت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ آنے والے سالوں میں امریکہ کے لئے چین اور روس سے مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ پاکستان کے لئے جنوبی ایشیا میں اس عالمی کشاکش کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔ امریکہ چین کا مقابلہ کرنے کے لئے ہندوستان کے ساتھ اپنی اسٹریٹیجک رفاقت بڑھا رہا ہے۔
اور اسے وہ سارے ہتھیار فراہم کر رہا ہے جو صرف اتحادیوں کو دیے جاتے ہیں۔ وہ ہندوستان کی روس سے ہتھیاروں کی خریداری کی مخالفت بھی نہیں کر پاتا۔ اسی لئے پاکستان اور خاص طور پر کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں۔ اس نے کشمیر کو اپنے اندر ضم کر لیا ہے۔ امریکہ اور ہندوستان دونوں چین کے سی پیک جیسے منصوبوں کے مخالف ہیں۔ اور ہندوستان پاکستان کے ان دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتا ہے جو پاکستان میں کام کرنے والے چینی عملے پر حملے کرتے ہیں۔
افغانستان سے امریکہ کی واپسی اور اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغانستان عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر منجمد کیے جا چکے ہیں۔ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا ہے کہ ہم نے اس کے ساتھ ڈبل گیم کھیلی۔ دوسری طرف مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے مکالمے کی گنجائش نہیں ہے۔ پاکستان کو مشرقی اور مغربی سرحدوں پر۔ مخالفت کا سامنا ہے۔ یہ ایک بد ترین جیو پولیٹیکل منظر نامہ ہے۔ ( تحقیق: ضمیر اکرم)


