عمران خان کی مشکلات میں اضافہ
سوشل میڈیا استعمال کرنے والے جیالے، نون لیگی اور انصافی ایک ہی بات کو لے کر بحث کر رہے ہیں۔ عمران خان خود اور اپنے ورکرز پیڈ لوگوں سے پاکستان آرمی کو گالیاں دلوا رہا ہے لیکن اصل حقائق یہ بھی ہیں جن کو نظر انداز کرنا غلط ہو گا کیونکہ عوام کو اصل حقائق بتانا بہت ضروری ہیں۔ کے پی کے میں عمران خان کی حکومت طالبان دہشت گردوں اور کچھ خلائی مخلوق کے لوگوں کی وجہ سے مسلسل بنی اور جس کی وجہ سے آج کے پی کے دیوالیہ ہو چکا ہے جس کو وفاق نے فی الحال اپنے حصے سے پیسے دے کر بچا رکھا ہے۔
کے پی میں کوئی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آتا ہے تو پولیس کے ذریعے ان پر شیلنگ اور پانی کے پریشر سے تشدد کیا جاتا ہے لاٹھیاں مار کر ان کو بھگانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس احتجاج میں عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ اب جب ایجنسیز نے عمران خان کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا تو عمران خان ان لوگوں کا نام لے کر ان کے خلاف مزید گند اگلوا رہا ہے اور ادارے کے خلاف عوام کو بھڑکا کر اداروں کے خلاف نفرت کے بیج بو رہا ہے جس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے ۔
عمران خان نے ہمیشہ طالبان دہشت گردوں کی حمایت میں بڑے بڑے بول بولے اور ان کو فنڈنگ کے ساتھ دفتر کھولنے کے اعلان کیے ۔ طالبان دہشت گردوں کی ہمدردی میں عمران خان نے آج تک محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پر تعزیت تک نہ کی۔ آج جب پاکستان آرمی جیسا ادارہ عمران خان کے خلاف کھڑا ہوا تو اس نے ایک دفعہ پھر طالبان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے طالبان کو پاکستان آرمی کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا طالبان دہشت گردوں نے کچھ نوجوان اغواء کر کہ ایک ویڈیو بیان جاری کیا کہ ان کو افغانستان جانے کے لئے ہیلی کاپٹر مہیا کیا جائے ورنہ نتائج برے ہوں گے لیکن پاک آرمی نے ان کی خواہشات کا گلہ دباتے ہوئے کامیاب آپریشن کرتے ہوئے اپنے ساتھی بچا کر ان دہشت گردوں کو مار دیا۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ عمران خان کو اب سمجھ جانا چاہیے کہ اداروں کے احترام میں ہی اس کی عزت ہے جو لوگ آج تک طالبان دہشت گردوں کی حمایت پر آج تک عمران خان کے خلاف نہ گئے اب انہوں نے بنوں میں دہشت گردوں کو مار کر جواب دے دیا ہے کہ ملک میں امن رکھنے کے لئے اب کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے اور دہشت گردوں کے خلاف یہ آپریشن واضح اشارہ ہے کہ آنے والے وقت میں عمران خان کے پی کے میں بھی حکومت بنانے کے قابل نہیں رہے گا۔


