شاہ رخ خان کو زندہ جلانے کی دھمکی دینے والے سادھو کی گرفتاری کا مطابہ
ایودھیا سے تعلق رکھنے والے ایک سادھو کی ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر انھیں شاہ رخ خان کہیں مل گئے تو وہ انہیں ’زندہ جلا دیں گے‘۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے شاہ رخ کے ساتھ ساتھ عامر خان اور سلمان خان کو بھی ’جہادی‘ قرار دیتے ہوئے انہیں مارنے کی دھمکی دی ہے۔
سادھو کی یہ ویڈیو ٹی وی چینل آج تک، ٹائمز ناؤ جیسے زیادہ تر نیشنل چینلز پر دکھائی جا رہی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’بھگوا رنگ ہندوؤں کا رنگ ہے اور فلم پٹھان کے گانے ’بے شرم رنگ‘ میں اس رنگ کی توہین کی گئی ہے‘۔
سوشل میڈیا پر جہاں شاہ رخ خان اور فلم کے اس گانے کی وجہ سے اس کے بائیکاٹ کے مطالبات ہو رہے ہیں وہیں متنازع گانے کے اب تک یو ٹیوب پر نو کروڑ سے زیادہ ویوز ہو چکے ہیں
سوشل میڈیا پر ہی اس سادھو کو گرفتار کیے جانے کے بھی مطابات کیے جا رہے ہیں اور ’اریسٹ پرمہنس‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔
https://twitter.com/NiteshS38042572/status/1605274970971688963
اس حوالے سے ہونے والے ٹی وی مباحثوں میں انتہا پسند ہندو جماعتوں کے ترجمان فلم کے بائیکاٹ اور شاہ رخ خان سے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ٹی وی چینلز پر مختلف انتہا پسند ہندو رہنماؤں کی انتہائی اشتعال انگیز بیانات دکھائے جا رہے ہیں جن میں ایک مخصوص فرقے کے لوگوں کو جہادی کہہ کر مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
ہندو قوم پرست جماعت وشوا ہندو پریشد کے جوائنٹ سیکریٹری سریندر جین کا کہنا تھا کہ شاہ رخ خان کو معافی مانگنی چاہیے۔جبکہ پی جے پی ایم پی سادھوی پرگیا بھی ’بھگوا رنگ کے تحفط‘ کے لیے میدان میں کود پڑی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بھگوا رنگ کی توہین کی گئی ہے‘ اور اسے ’برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔
اسی دوران بہت سے لوگوں نے اس حوالے سے میمز شیئر کیے اور کچھ کے خیال میں مذہب کو کسی رنگ سے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔
https://twitter.com/WasimMo23174171/status/1605437091159998466
اس تنازع کی گونج اب ملک کی پارلیمان تک جا پہنچی ہے۔ ریاست اترپردیش سے بی ایس پی کے رکن پارلیمان کے دانش علی نے اس بارے میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فلم کو منظور کرنے کی ذمہ داری سینسر بورڈ کی ہے تو پھر اس بارے میں اتنا ہنگامہ کیوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے بھی بھگوا رنگ پہن کر کئی اداکاروں یا اداکاراؤں نے فلم میں کام کیا ہے اور وہ اس وقت پارلیمان میں موجود ہیں‘۔
دانش علی کا کہنا تھا کہ ’کیا دھرم اتنا کمزور ہے کہ کسی اداکار کے بھگوا رنگ پہننے سے ختم ہو جائے گا‘۔
https://twitter.com/FaridAlidsra/status/1605286367982149632
کسی فلم کے بائیکاٹ یا فلم اداکاروں یا اداکاراؤں کو دھمکیاں دیے جانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی بڑی فلموں کے بائیکاٹ کی اپیلیں کی جا چکی ہیں اور دپیکا پادوکون کی فلم ’پدماوت‘ کی ریلیز کے موقع پر تو فلم کے پروڈیوسر سنجے لیلیٰ بھنسالی کے ساتھ مارپیٹ تک کی گئی تھی۔
یوں بھی آج کل ہر بڑی فلم کی ریلیز سے پہلے ایک بڑا تنازع پیدا ہونا معمول بن چکا ہے، اب چاہے وہ عامر خان کی ’لال سنگھ چڈھا‘ ہو یا دپیکا کی ’پدماوت‘ یا پھر رنبیر کپور کی ’برہماسترہ‘۔ عامر کی فلم ’پی کے‘ سب سے زیادہ متنازع رہی ہے۔

