ریکوڈک معاہدہ: ماضی حال اور مستقبل
ریکوڈک۔ وہ منصوبہ جو پاکستان کا مستقبل بدل سکتا ہے۔ پاکستانی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا سہارا بن سکتا ہے۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کا ماضی تنازعات سے بھرا ہوا ہے۔ یہ وہ منصوبہ ہے۔ جس کا سنتے سنتے پاکستان میں ایک پوری نسل جوان ہو چکی ہے لیکن کچھ اپنوں کی غلطی اور کچھ دوسروں کی مہربانی سے یہ آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ تقریباً انتیس سال قبل انتیس جولائی انیس سو ترانوے کو بلوچستان میں قائم نگراں حکومت نے آسٹریلوی کمپنی بی ایچ پی سے چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر ایگریمنٹ کے نام سے ایک معاہدہ کیا تھا حالانکہ اس نگراں حکومت کا مینڈیٹ صرف اور صرف صوبے میں عام انتخابات کا انعقاد تھا۔
اس معاہدے کے تحت آسٹریلوی کمپنی نے چاغی کے علاقے ریکوڈک سے معدنیات کو نکالنا تھا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا پچھتر فیصد خود رکھنا تھا اور صرف پچیس فیصد حکومت کو دینا تھا۔ حکومت کو اس منصوبے کی دو فیصد رائلٹی بھی حاصل ہوتی۔ ہمارے مقابلے میں اگر صرف پڑوسی ملک بھارت کو ہی لے لیا جائے تو وہ ہمارے مقابلے میں سو فیصد سے بھی زائد یعنی چار اعشاریہ دو فیصد رائلٹی وصول کرتا ہے۔ یعنی ہم آمدن میں اپنے حصے اور رائلٹی دونوں میں ہی پیچھے تھے۔
بلوچستان حکومت نے انیس سو چھیانوے میں بی ایچ پی کو لائسنس جاری کر دیا۔ کام چلتا رہا لیکن کسی انجام تک پہنچے بغیر اچانک اپریل دو ہزار میں بی ایچ پی نے کچھ مسائل کی بنا پر اپنا کام روکتے ہوئے ایک اور آسٹریلوی کمپنی منکور ریسورسز کے ساتھ اشتراک کر لیا اور آپریشنل رائٹس بھی منکور ریسورسز کو منتقل کر دیے۔ منکور ریسورسز۔ بی ایچ پی کے مقابلے میں کافی چھوٹی کمپنی تھی اور صرف چار سال قبل ہی قائم ہوئی تھی۔ منکور نے یہاں ایک اور ذیلی کمپنی۔
ٹیتھیان کوپر کمپنی قائم کر کے تلاش کا کام شروع کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب حکومت بلوچستان اس منتقلی اور ماضی میں عدم پیشرفت کو بنیاد بنا کر معاہدہ منسوخ کرتی اور مارکیٹ میں اوپن بڈنگ کے ذریعے دوبارہ معاہدہ کیا جاتا لیکن یہاں حکومت نے موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اسی معاہدے کو آگے بڑھانے پر ترجیح دی۔ دو ہزار دو میں نئی قومی منرل پالیسی آنے کے بعد تین سال کے لیے لائسنس کا اجرا ہوا۔ جس میں بعد میں دو بار تین تین سال کی توسیع بھی ہوئی۔
لیکن پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سنہ دو ہزار چھہ میں کینیڈا اور چلی کی دو کمپنیوں کے کنسورشیم نے ٹیتھیان کوپر کمپنی کے تمام شیئرز کو خرید لیا۔ یہی وہ سال تھا جب پہلی بار چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر ایگریمنٹ کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا لیکن بلوچستان ہائی کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ اسی سال بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
سنہ دو ہزار دس میں تقریباً پانچ سال کی محنت کے بعد ٹیتھیان کوپر کمپنی نے اپنی فزیبلٹی رپورٹ مکمل کی۔ جس سے پتا چلا کہ ریکوڈک میں دو لاکھ ٹن سے زائد تانبا اور آٹھ ہزار کلو کے قریب سونے کے ذخائر ہیں اور ان ذخائر کو چھپن سال کے عرصے میں نکالا جائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ذخائر اس سے کہیں زیادہ ہیں اور ٹی سی سی نے تانبے کے ذخائر کو پینتیس فیصد اور سونے کے ذخائر کو پچیس فیصد کم دکھایا ہے۔ فروری دو ہزار گیارہ میں ٹیتھیان کوپر کمپنی نے لائسنس کی تجدید کے لیے دوبارہ درخواست جمع کرائی لیکن اس کو حکومت نے مسترد کر دیا۔
حکومت بلوچستان کا کہنا تھا کہ تانبے اور سونے کی ریفائننگ کے لیے پاکستان میں پلانٹ لگائے جائیں تاکہ لوگوں کو روزگار ملے۔ مالی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے اور ساتھ ہی رائلٹی کو بھی بڑھایا جائے۔ اس منسوخی کو بنیاد بنا کر ٹیتھیان کوپر کمپنی نے عالمی بینک کے ثالثی مرکز کا دروازہ کھٹکھٹا لیا اور پاکستان کے خلاف پانچ اعشاریہ نو سات ارب ڈالر کا ہرجانہ دائر کر دیا جبکہ لندن کورٹ آف آربی ٹریشن میں بلوچستان حکومت کے خلاف چار ارب ڈالر کے قریب رقم کا دعویٰ دائر کر دیا اگر اس میں سود کو ملا لیا جائے تو پاکستان کو کل ملا کر گیارہ ارب ڈالر سے بھی زائد کی ادائیگی کرنا تھی۔
اسی دوران سپریم کورٹ نے منصوبے کے خلاف دو ہزار سات اور دیگر سالوں میں دائر درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت شروع کردی اور دو ہزار تیرہ میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ریکوڈک معاہدے کو کالعدم قرار دیدیا گیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ معاہدہ قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں کیا گیا۔ گورنر اس طرح کے معاہدوں کی منظوری دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ محسوس ہوتا ہے معاہدہ تحفے کے طور پر غیر ملکی کمپنی کو دیا گیا۔
سنہ دو ہزار انیس میں عالمی بینک کے ثالثی مرکز نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا۔ پاکستان کو تقریباً چھ ارب ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ پاکستان نے اس کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کی۔ جس پر فروری دو ہزار بیس میں عبوری حکم امتناع اور ستمبر دو ہزار بیس میں مستقل حکم امتناع مل گیا۔ اس کے بعد پاکستان کی جانب سے آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی کوششیں کی گئیں اور بالآخر رواں برس مارچ میں کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ سے معاہدہ طے پا گیا۔
جس کے تحت گیارہ ارب ڈالر جرمانے کی تلافی کے ساتھ ساتھ دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی طے پائی جبکہ معاہدے میں شامل چلی کی کمپنی اینٹافوگاسا باہر ہو گئی۔ پاکستان کمپنی کو نوے کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرے گا۔ بدلے میں کمپنی ہر جانے کا کیس واپس لے لے گی۔ معاہدے کے بعد اس وقت کے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ منصوبے سے آٹھ ہزار نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ پاکستان ان ذخائر سے سو سال تک فائدہ اٹھا سکے گا اور اس سے سو ارب ڈالر سے زائد کی آمدنی کا بھی امکان ہے۔
مستقبل میں کسی بھی قانونی مشکل سے بچنے کے لیے وفاقی اور صوبائی کابینہ سے باقاعدہ اس کی منظوری لی گئی۔ سپریم کورٹ سے بھی رائے طلب کی گئی۔ سپریم کورٹ نے معاہدے کو قانونی قرار دیدیا۔ وفاقی حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کا بل منظور کیا۔ بلوچستان اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل ایک سو چوالیس کے تحت قرار داد کے ذریعے صوبائی اختیارات وفاقی حکومت کو منتقل کر دیے۔ جس پر بلوچستان کی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا۔
اختر مینگل نے تو وفاقی حکومت سے علیحدگی کا اشارہ بھی دیا۔ بلوچ قیادت نے معاہدے کو اٹھارہویں ترمیم کے خلاف قرار دیا اور ساتھ ہی صوبے کو پچاس فیصد حصہ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ نئے معاہدے کے مطابق کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کا حصہ پچاس فیصد ہو گا۔ آمدن کا پچیس فیصد بلوچستان حکومت کو جائے گا جبکہ باقی پچیس فیصد میں وفاقی حکومت کے اداروں کی شراکت داری ہوگی۔ بلوچستان حکومت کو منصوبے کی پانچ فیصد رائلٹی بھی ملے گی۔
معاہدے کے بعد بیرک گولڈ کارپوریشن کے سربراہ مارک برسٹو کے جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کی دو ہزار دس اور گیارہ میں کرائی گئی فزیبلٹی اسٹیڈیز کی تجدید کا کام شروع کر دیا۔ نئی فزیبلٹی اسٹیڈیز دو ہزار چوبیس تک مکمل ہوگی۔ منصوبے سے پہلی کمرشل پیداوار دو ہزار اٹھائیس میں شروع ہوگی۔ سالانہ اسی ملین ٹن کی پروسیسنگ کی جائے گی اور اس سے صوبے کو صرف رائلٹی کی مد میں سالانہ پچاس ملین ڈالر ملیں گے۔


