کراچی کا مقدمہ۔ پہلا حصہ


کہا جاتا ہے کہ کراچی تباہی کے دہانے پر ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی تو کب کا تباہ ہو چکا ہے اور کراچی کے شہری ایسے کھنڈرات پر زندگی بسر کر رہے ہیں جس کے نشانات جاتے جاتے ہی جائیں گے۔ کراچی کیوں اور کیسے تباہ ہوا؟ اس کے بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں لیکن یہ تاریخ کا پہلا شہر ہے جس کی تباہی کے اسباب میں ”سیاسی سبب“ سر فہرست ہے۔ جہاں تک کراچی کے سماجی بگاڑ کا تعلق ہے تو اس میں میں بھی سیاسی سبب ہی نمایاں ہے۔

اب تو یہ کہتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے کہ کراچی کو ”روشنیوں کا شہر“ کہا جائے یا پھر اسے ”عروس البلاد“ کہا جائے۔ ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور کچرے دانوں کا منظر پیش کرتے ہوئے کراچی کو اگر کوئی نیا نام دیا جاسکتا ہے تو وہ صرف اور صرف یہی ہو سکتا ہے کہ اسے ”کچرے والا شہر“ کہا جائے۔ اس وقت کراچی کی جو صورتحال ہے ایسی صورتحال سے کراچی اپنے آباد ہونے کے ابتدائی ایام میں بھی نہیں گزرا ہو گا کیونکہ شہر ہمیشہ وہاں آباد کیے جاتے ہیں جہاں زندگی جینے کے آثار پائے جاتے ہوں جس میں پانی اور آکسیجن بنیادی آثار میں سے ہیں اور وقت کی ستم ظریفی کہیں یا کچھ اور کہ کراچی میں پینے کو صاف پانی کی شدید قلت ہے تو آکسیجن زہریلی ہوتی جا رہی ہے۔

یعنی کراچی میں زندگی کے آثار بھی ختم ہونے کو ہیں اس کے باوجود کراچی کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کراچی ”ہم سب کا ہے“ لیکن کیا یہ کبھی سوچا گیا ہے کہ کوئی ”کراچی کا بھی ہے“ ۔ کراچی میں ملک بھر کے طول و عرض سے لوگ آ کر آباد ہوئے ہیں اور ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا کہ یہاں کوئی اپنے شہر یا گاؤں سے نقل مکانی کر کے یہاں آتا نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کراچی کو ”منی پاکستان“ کہا جاتا ہے جہاں ملک بھر کی تمام علاقائی قومیت کے حامل افراد آباد ہیں جن اردو بولنے والے، مارواڑی، کاٹھیاواڑی، مکرانی، شیدی، بلوچ، بہاری، بنگالی، سرائیکی، پنجابی، گلگتی، بلتی، کشمیری، ہزارہ، پختون اور سندھی سمیت دیگر علاقائی قومیں شامل ہیں۔

کراچی کی سب سے بڑی آبادی قیام پاکستان کے وقت ہندوستان کے شہروں سے ہجرت کر کے آنے والے گھرانوں کی ہے جنھیں ”مہاجر“ کہا جاتا ہے جن میں اردو بولنے والے اور مارواڑی سمیت دیگر زبان بولنے والی برادریاں شامل ہیں۔ اسی طرح سقوط ڈھاکہ کے بعد ہجرت کر کے آنے والے مشرقی پاکستان کے بہاریوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی کراچی میں ہی آباد ہے۔ مہاجروں کے بعد پختونوں، ہزارہ، پنجابیوں اور سرائیکیوں کی ایک بڑی آبادی کراچی میں مقیم ہیں جبکہ بلوچ اور سندھی بھی کراچی کی نمایاں برادریوں میں شامل ہیں۔

یہاں ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے کراچی پر پہلا حق بلوچوں کا ہے یا سندھیوں کا ہے؟ یہ سوال تاریخی نوعیت کا ہے جس کے جواب میں ایک الگ سے مضمون لکھا جائے گا لیکن قیام پاکستان کے اس شہر کی ترقی اور خوشحالی میں سب سے بڑا حصہ مہاجروں کا ہے ایسے میں اس شہر پر مہاجروں کے پہلے حق کو بھی ہر صورت تسلیم کرنا پڑے گا۔ لیکن ایسے میں یہ اعتراف بھی کرنا پڑے گا کہ کراچی کی ترقی و خوشحالی میں دیگر علاقائی قوموں کا بھی کردار نمایاں ہے۔ لیکن ایسے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اب اس شہر کی تباہی میں سب سے بڑا حصہ کس کا ہے؟ اور یہی سوال در اصل میرے اس عریضے کا حقیقی سوال ہے۔

کراچی کی تباہی کے قصے اس قدر شہرت پا گئے ہیں کہ ”عالمی بینک“ جیسے ادارے بھی وقفے وقفے سے اپنی تشویش کا اظہار کرنے پر مجبور ہیں۔ عالمی بینک نے 2019 میں اپنی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ کراچی رہائش اور سہولیات کے اعتبار سے دنیا کے 10 سب سے نچلے ترین شہروں میں شامل ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بدقسمتی سے شہر کراچی بلدیاتی خدمات کے تمام اشاریوں اور اہلیت، صحت، ماحولیات، حفاظت اور تعلیم کی تمام جہتوں پر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

اسی طرح عالمی بینک کی جانب سے 2017 میں اپنی شائع شدہ تشخیصی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق شہری ڈھانچے میں اہم خلا کو پر کرنے اور خطے میں معاشی صلاحیت میں اضافے کے لئے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے صرف سرمایہ کاری ہی کافی نہیں ہوگی بلکہ اس تبدیلی کی سطح پر پہنچنے کے لئے حکومت اور شہریوں کا نظریہ مشترک ہونا اور طویل مدت کے لئے وابستگی بھی ضروری ہے۔

اس مقصد کے لئے عالمی بینک نے کراچی میں ہر سطح کی حکومت کے ساتھ کام کیا تاکہ گورننس کے اصول بنائے جائیں اور ایک طویل مدتی لائحۂ عمل کے نقشے کو زیادہ قابل، جامع اور محفوظ بنایا جا سکے تاکہ اسے پیداواری میگا سٹی کے لحاظ سے تشکیل دیا جا سکے جس میں حکومت، عالمی بینک اور دیگر شراکت دار مشترکہ طور پر شریک ہوں۔ اسی طرح کراچی اپنے بڑھنے کے تناسب کے لحاظ سے نہ تو ترقی کی رفتار قائم رکھ سکا ہے اور نہ ہی مکینوں اور کاروبار کی بنیادی ضروریات کو مساوی طور پر فراہم کر سکا ہے۔

مثال کے طور پر، پانی کی فراہمی اور نکاسی کے نظام سے صرف آدھے شہر کی ضرورت پوری ہوتی ہے۔ چنانچہ پانی روزانہ ٰصرف چند گھنٹوں کے لئے ہی دستیاب ہوتا ہے۔ بیشتر نکاسی شدہ پانی کو بغیر صاف کیے سمندر میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ 60 فیصد سے زیادہ کچرے کو کھلے عام پھینک دیا جاتا ہے، جس سے نکاسی آب اور شہری ماحولیات پر انتہائی منفی اثرات پڑتے ہیں۔ شہریوں کی آمدن کے مطابق سستے مکانات دستیاب نہیں ہیں۔ جس کے باعث ایک اندازے کے مطابق 50 فیصد شہری غیر رسمی آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

سڑکیں اور عوامی مقامات، جو کراچی کے بیشتر رہائشیوں کی روزی روٹی کمانے میں مدد کرتے ہیں، آہستہ آہستہ ناپید ہو رہے ہیں۔ شہری ڈھانچے میں خلاء اور کمزور شہری منصوبہ بندی کا غیر مساوی بوجھ غریب رہائشی اٹھاتے ہیں۔ یہ آفات کے رحم و کرم پر بھی ہوتے ہیں اور ان سے حفاظت کی صلاحیت بھی کم رکھتے ہیں۔ بہر کیف کراچی کی سماجی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے عالمی بینک کی طرف سے بہت سے منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں۔

یہ بات ہو گئی عالمی بینک کی رپورٹ کی جس میں کراچی کے شہریوں کر درپیش مسائل کو تیکنیکی بنیادوں پر اجاگر کیا گیا ہے۔ لیکن کراچی کے شہریوں کو درپیش مسائل کو سیاسی بنیادوں پر اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ملک کی مجموعی ٹیکس آمدنی میں کراچی کا حصہ 65 سے 70 فیصد ہے اس کے باوجود اس کی تعمیر و ترقی پر اخراجات کرتے وقت کنجوسی سے کام لیا جاتا ہے جو کہ محض روایتی بے حسی نہیں بلکہ یہ ایک خالصتاً سیاسی مسئلہ ہے۔ اس وقت ملک بھر میں جہاں کہیں بھی ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں اور ان پر جو بیرونی قرضوں کا جو بوجھ ہے اس کا سب سے بڑا حصہ کراچی کو ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ کراچی خود ترقیاتی منصوبوں سے محروم ہے اور جو منصوبے چل رہے ہیں وہ محض کاغذی اور تختیوں کی حد تک ہیں۔

کراچی میں میٹرو پولیٹن گورننس کا نہ ہونا بھی ایک سیاسی مسئلہ ہے جو اس لیے نہیں مضبوط بنیادوں پر استوار کی نہیں جاتی کیونکہ ایسا کرنے سے صوبائی حکومت کو کراچی کے لیے مختص فنڈ سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ کراچی کی مردم شماری سے لے کر انتخابی حلقہ بندیاں تک کے تمام معاملات سیاسی مسائل سے جڑے ہوئے ہیں۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS