زندگی اے زندگی:ایک جائزہ


دانش ور ظفر محی الدین کی پانچ تصانیف تمثیل آزادی (سیاسی و سماجی مضامین کا مجموعہ) ، سرورق کی لڑکی (افسانوں کا مجموعہ) ، سب اچھا ہے (فکاہیہ مضامین کا مجموعہ) ، سندھ کی عدالت، حیدرآباد (دکن) کی فلاحی خدمات سمیت ان کے گزشتہ چالیس سال سے ملک کے ایک معروف اخبار میں لکھے جانے والے سیاسی، سماجی، بین الاقوامی تعلقات اور ماحولیات کے موضوعات پر مبنی مضامین، ان کی ادبی تنظیم دائرہ ادب و ثقافت کی معیاری تقریبات کی روداد اور تاحال ان کی ذاتی زندگی کا بھی غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ مصنف اپنے نظریے، جدوجہد اور قلم کے ذریعے بلاتفریق انسانیت، علم و ادب، سماج اور وطن کی محبت میں زندگی بھر سخت ترین حالات کا پامردی سے مقابلہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔

کتاب زندگی اے زندگی ان کی چھٹی تصنیف اور خودنوشت ہے جس کا سرورق انوشا عمران کی تخلیق ہے جو درحقیقت مصنف کی آہنی شخصیت کا عکاس ہے۔ یہ سرورق قاری کو اپنی جانب شدت سے متوجہ کرتا ہے جس میں ساحل سمندر پر پانی کی لہروں کے آنے، پلٹنے سمیت سمندر کی لامحدود وسعت و گہرائی، اس میں آنے والی چھوٹی بڑی چٹانیں اور تاحد نگاہ پھیلے آسمان پر ہلکے ہلکے بادلوں میں چمکتا سورج بصیرت رکھنے والوں کو زندگی سے محبت کرنے اور کبھی ہمت نہ ہارنے کا پیغام دیتا ہے۔

پچیس ابواب پر مشتمل آپ بیتی کے ابتدائی باب کا عنوان ”یاد ماضی ایک خواب ہے یا رب“ مصنف کی اپنے شہر اور اس میں گزاری گئی زندگی کے سنہری لمحات سے محبت بھری ایک جھلک ہے جس میں انہوں نے نصف صدی سے بھی قبل ٹھنڈی ہواؤں کا شہر حیدرآباد جو اس زمانے میں سندھ کا دارالحکومت اور ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والوں کا سب سے بڑا مسکن بھی ہوا کرتا تھا کا منظر نامہ دلکش انداز میں رقم کرتے ہوئے قارئین کی معلومات میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ معروف درس گاہ سٹی کالج کی عمارت کا سنگ بنیاد مشہور سیاسی و سماجی راہ نما مسز سروجنی نائیڈوجن کو رابندر ناتھ ٹیگور نے بلبل ہند کا خطاب دیا تھا نے رکھا تھا۔

خود نوشت کے دوسرے باب ”شعور کا سفر“ میں انہوں نے بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے اپنے والد غوث محی الدین جو حیدرآباد دکن میں اپنی کتابوں کی دکان کے عقبی حصے میں قائم پرنٹنگ پریس سے معروف اخبار سویرا شائع کیا کرتے تھے اور ٹریڈ یونین کے علاوہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے سرگرم رکن کی حیثیت سے بھی فعال تھے کو اپنے نظریات پر ڈٹے رہنے اور معافی نہ مانگنے کی پاداش میں کانگریس کی جانب سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے، سویرا اخبار پر پابندی لگنے، دکان کو بم سے اڑا دینے جہاں پر اب ایک مندر قائم ہے اور دیگر ظلم و جبر کی وجہ سے خاندان سمیت ہجرت کرنے پر مجبور ہونے، وہاں معافی مانگ کر اتحاد المسلمین میں شامل ہونے والے چند نام نہاد ترقی پسند افراد کا پاکستان پہنچ کر دوبارہ بھیس بدل کر ترقی پسند بن جانے کے علاوہ سٹی کالج میں ترقی پسند ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن بنانے اور نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (کراچی) کے ساتھ مل کر تلک چاڑی پر قائم جامعہ عربیہ ہائی اسکول میں ذوالفقار علی بھٹو شہید کا تاریخی جلسہ جس میں بھٹو نے پیپلز پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا منعقد کرانے، آمریت کے خلاف مزاحمت، ان سمیت دیگر مخلص ترقی پسند کارکنان کی گرفتاریوں اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے حیدرآباد کے افراد کا سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے تعاون سے ممتاز شاعر مخدوم محی الدین کی تیسری برسی دیال داس کلب میں منانے کا ذکر بھی کیا ہے۔

ایک اور باب ”میرے دوست میری جدوجہد“ مصنف کی اعلی ظرفی کا ثبوت ہے جس میں انہوں نے اپنے دوستوں کے مثبت کاموں کو فراخ دلی سے جب کہ منفی کاموں کو اب بھی ان کی اصلاح کی خاطر شائستہ اور ڈھکے چھپے لفظوں کے پیراہن میں تحریر کیا ہے جو دیگر قلم کاروں کے لیے قابل تقلید عمل ہے اس کے ساتھ ساتھ میکارتھی ازم کے ذریعے طلبہ تنظیموں کے کارکنان کی جدوجہد کو کس طرح کمزور کیا گیا اس کا چشم کشا ذکر بھی رقم کیا ہے۔

کامریڈ ظفر محی الدین کی آپ بیتی میں ایک اچھوتا پن باب ”تاریخ ساز غلطیاں“ کے نام سے رقم ہے جس کو پڑھ کر قاری چونکے بنا نہیں رہ سکتا ہے بالخصوص جب اس کے علم میں یہ حقیقت آتی ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی جانب سے امریکی حکومت کو جنگ بندی کی رضامندی کے لیے بھیجے گئے خط میں جاپان کی جانب سے کچھ غیر مروجہ الفاظ استعمال کرنے کی وجہ سے امریکی مترجم کو اس کا ترجمہ کرنے میں چھ دن لگ گئے اور جب خط وائٹ ہاؤس پہنچا اس وقت تک تیر کمان سے نکل چکا تھا جو تاریخ عالم کے ایک انتہائی سیاہ باب کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اسی طرح ان کی خود نوشت کے مختلف ابواب جن میں میری اہلیہ میری ہم سفر، میری بیٹیاں، میرے داماد، نواسے نواسیاں، برادران حقیقی، بھاوجیں اور برادران نسبتی شامل ہیں کو آپ بیتی رقم کرنے کا ایک منفرد اور کامیاب انداز کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

اس کے علاوہ آپ بیتی میں مصنف نے تعلیمی غرض سے مختلف ممالک کا سفر کرنے اور پانی کے جہاز پر ملازمت کے دوران پیش آنے والے سنسنی خیز واقعات سمیت مسقط میں دوران نوکری حاصل ہونے والے تجربات جن کی وجہ سے آپ بیتی میں جگ بیتی کا رنگ بھی شامل ہو گیا ہے، بھارت کے چوٹی کے اداکار راج کپور کے ”آر کے“ اسٹوڈیو کی جانب سے ان کے نام بھیجے گئے خط کا عکس جس میں ان کو راج کپور کی کراچی آمد کے بعد ان کا انٹرویو لینے کی اجازت، معروف شخصیات جن سے وہ متاثر رہے، نامور شخصیات سے ملاقاتیں، اپنی اور والد کی یادگار تصاویر، دائرہ ادب و ثقافت کی تعمیری سرگرمیوں اور وفاقی اردو یونی ورسٹی میں اپنی خدمات انجام دینے کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ غرض یہ کہ مصنف نے اپنی 73 سالہ زندگی کو اختصار کے ساتھ 166 صفحات کی مختصر کتاب میں قلم بند کیا ہے جو ان کی قلمی مہارت اور خود نمائی سے پرہیز کا ایک اور ثبوت ہے۔

یاد رہے آپ بیتی کو تاریخ کہا گیا ہے لہذا اس حوالے سے کامریڈ ظفر محی الدین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنی آپ بیتی کی صورت میں معلومات، مشاہدات اور تجربات سے لبریز درست تاریخ لکھ کر اندھیرے سماج میں بالخصوص آنے والی نسلوں کو درست سمت دکھانے کے لیے مزید ایک روشن قندیل فراہم کردی ہے۔

Facebook Comments HS