ترجیحات
ترجیحات ہماری دونوں جہانوں کی زندگیوں کی کامیابی اور ناکامی کا تعین کرتی ہیں۔ حدیث کے مطابق ترجیحات تربیت میں شامل ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہماری ترجیحات تعلیم کے ارد گرد گھومتی رہنی چاہیے مگر تعلیم اور اس کے معیار کا فقدان ہمیں مشرق سے مغرب تک لے گیا ہے۔ نسل نو جس بے راہ روی کا شکار ہے اس کا خمیازہ آنے والی پشتیں بھگتیں گی۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لیجیے کہ اسی دسمبر کے پہلے ہفتے میں ایک 18 سالہ بچی نجی شادی کی تقریب میں ڈانس کرتی ہے اور اس کی ویڈیو راتوں رات سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر وائرل ہو جاتی ہے یہاں لفظ وائرل سمجھنا ضروری ہے کہ“ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر موجود ہماری نوجوان نسل نے اس ویڈیو کو جی بھر کے پذیرائی بخشی ”۔
چند روز قبل پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کے معروف چینل اے آر وائی نیوز کے مارننگ شو کی میزبان ندا یاسر اسے مدعو کر کے ہماری ترجیحات کا منہ بولتا ثبوت پیش کرتی ہیں گو کہ چند حضرات نے ندا یاسر کو آڑے ہاتھوں لیا یہ بات میڈیا مالکان کو یا ارباب اختیار (پیمرا) کو قومی اخلاقیات کا جنازہ نکالنے سے پہلے سوچنا چاہیے۔ ہمارا دین، تہذیب اور ثقافت کن ترجیحات کا تعین کرواتی ہے اس بات کی ترویج مکتب اور گھر دونوں کی ذمہ داری ہے۔
یوں شو کے ذریعے فحاشی و عریانی پھیلانے پر بازپرس کی اشد ضرورت ہے۔ ترجیحات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ موصوفہ نے یا باقی کسی بھی میڈیا ہاؤس نے آج تک تعلیمی تحقیقی شخصیت کو بطور تشہیر یا نمونہ مدعو نہیں کیا، اس شو کے بعد تقریباً پورے پاکستان نے اس عائشہ کی ڈانس دیکھ لی تھی چند روز قبل کراچی سے 7 سالہ بچی اس کی نکل کرتے ہوئے ڈانس کر رہی ہے اور اس کے والدین ویڈیو بنا رہے ہیں۔ ایسے بدتہذیب کاموں کی تردید کی جائے تو اکثریت تنگی نظری، ملائیت، بیک ورڈ کا لیبل لگا کر خاموش کروا دے گی اور آئے روز ایسی مثالیں ملتی رہیں گی۔
ان معرکات کی سب سے بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے ہمارا معاشرہ تعلیم کے زیور سے اس حد تک محروم ہے کہ ہم اس وقت ریاست کو ضرورت کے تحت بیوروکریٹ فراہم نہیں کر سکتے حالیہ عرصہ میں 6 دسمبر کو پاکستان کے سب سے بڑے مقابلہ کے امتحان سی ایس ایس کا نتیجہ آیا جس میں 32059 امیدواروں نے درخواست جمع کروائی اور 2262 امیدوار امتحان میں شامل ہوئے جن میں سے محض 393 پاس کر سکے یاد رہے یہ پورے پاکستان کی اوسط ہے۔ یہ ہمارے تعلیمی نظام اور اس کے معیار کے منہ پر تھپڑ ہے۔
اس کی وجوہات سیر حاصل بحث کی متقاضی ہیں حکومتی سطح پر بھی ترجیحات اگر تعلیم کے بجائے سیاست دانوں کی عیاشیاں ہوں تو واقعتاً آنے والی نسل سوائے ڈانس کے کچھ نہیں کر سکے گی۔ حکومت 71 کھرب روپے کے بجٹ سے محض 80 ارب روپے تعلیم پر خرچ کرے وہاں معاشرہ کون سی تعلیم سے مستفید ہو سکے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے ہمیں اپنے تعلیمی ڈھانچے کو معیاری سطح پر استوار کریں اور نسل نو کی افزائش کے لیے اپنے حصے کی شمع جلا کر جائیں۔ تاریخ گواہ ہے ہر معاشرے کا عروج و زوال اس کی نسل نو کی ترجیحات متعین کرتی ہیں


