ہندی اساطیر: کائنات کی ابتدا، فلسفہ شیو اور شکتی: قسط 4
ویدوں کی رو سے کائنات کی ابتداء تقریباً ویسے ہی بتائی گئی ہے جیسے کہ دوسرے الہامی مذاہب بتاتے ہیں۔ وید ایشور کو نراکار، نرگن، بتاتے ہیں۔ جس کا کوئی روپ، آکار، کوئی صفت نہیں ہے۔ تو پھر یہ دیوی دیوتا کیا ہیں؟ اور یہ تمام علامات کیا ہیں جنھیں مختلف ناموں سے پوجا جاتا ہے۔
قارئین کرام! ان سب پر گفتگو سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ دور جدید میں آپ این ایل پی نامی ایک جن سے واقف ہیں۔ یہ نیورو لنگوسٹک اسٹڈی ہے۔ یہ بیک وقت علم نفسیات و روحانیات اور کوسمولوجی پر بات کرتا ہے۔ لیکن کیا انیسویں صدی سے قبل آپ سب لوگ اس جن سے واقف تھے؟ کیا کسی مصنف کی تحریر یا کسی دانشور فلسفی کی تقریر کا کوئی حصہ، کوئی دستاویز محفوظ ہے کہ یہ بھی ایک علم تھا؟ نہیں۔
لیکن ہندی لٹریچر، فلسفے اور اساطیر میں یہ ہزاروں برس سے موجود بھی ہے اور محفوظ بھی۔ انگریز ہندوستان سے صرف مصالحے اور ہڑپہ و موئن جو دڑو کے نوادرات نہیں لے گیا بلکہ۔ وہ ویدوں کی تعلیمات کا نچوڑ بھی ترجمہ کر کے لے گیا تھا۔ اور یہ سب انہی تراجم کا بگاڑ ہے جو ہم نے انگریزی میں پڑھا ہے لیکن سنسکرت میں نہیں سمجھا۔ اور جس طرح اسلام کی تاریخ محض چودہ سو برس میں ہمارے ہی ہاتھوں بدلی جا چکی ہے تو ایک لاکھوں برس پرانے مذہب سے ہم کیوں توقع کریں کہ اس کی تاریخ اور تعلیمات کے مطالب مسخ نہیں کیے گئے ہوں گے؟
شری کرشن گیتا میں کہتے ہیں۔
”میں ہر جاندار کے دل میں بیٹھا ہوں اور مجھ سے سمرتی، گیان اور وسمرتی آتی ہیں۔ میں ہی تمام ویدوں کے ذریعے جاننے کے لائق ہوں۔ بے شک، میں ویدانت کا مرتب کرنے والا اور تمام ویدوں کو جاننے والا ہوں۔“
(ادھیائے 15، اشلوک 15 )
اسی طرح کہا گیا ہے کہ شری پورن پرش کہتے ہیں۔
” میادھیکشین پرکرتیح سویتے سہ چراچرم“
یہ بھوتیک پراکرتی (مادی قدرت) میرے زیر ہدایت کام کرتی ہے۔ ”
اس فانی کائنات کے متعلق ویدوں کے نظریات اٹل اور حقیقت پر مبنی ہی ہیں۔ تخلیق کائنات کے بارے میض رگ وید کی دو اہم سکت نسادیہ اور پرش میں بحث کی گئی ہے۔ جو کہ رگ وید میں بہت بعد میں داخل کی گئی۔
منتروں میں لکھا ہے کہ :
” اس وقت نہ عدم تھا اور نہ وجود۔ نہ عالم خلا میں پانی تھا اور نہ اس سے دور آسمان تھا۔ کیا چیز ان کا احاطہ کرتی اور وہ سب کچھ کہاں قائم ہوتا؟ اس وقت پانی بھی نہیں تھا۔ اس وقت موت نہ تھی۔ نہ ابدی حیات اور نہ دن رات کا کوئی فرق تھا۔ بے حرکت نفس آہنی قدرت کے ساتھ ایک تھا، اس کے سوا کچھ اور نہیں تھا، تاریکی ہی تاریکی چھائی ہوئی تھی، یہ سب (کل کائنات) بے نام و نشان اور غیر موجود صورت میں تھے۔ اس اولین روح میں خواہش پیدا ہوئی۔
جسے عقلمندوں نے اپنی دانائی سے معلوم کر لیا یہ وہ عدم اور وجود کا باہم اتصال ہے۔ ان کی دانش کا خط ترچھا کھینچا گیا۔ اس خط کے اوپر اور نیچے کیا تھا؟ وہاں خالق اور عظیم طاقتیں تھیں۔ یہاں فعل اور اس کے اوپر کی قدرت تھی۔ کون فی الحقیقت یہ جانتا ہے اور کون اسے یہاں بیان کر سکتا ہے کہ کہاں سے یہ دنیا پیدا کی گئی۔ اور کہاں سے یہ خلقت وجود میں آئی۔ دیوتا تو اس دنیا کی پیدائش کے بعد کے ہیں تو پھر کون جانتا ہے کہ کب وہ پہلے پہل وجود میں آئی۔ وہ جو اس خلقت کا اولین سبب ہے۔ اس نے یہ سب بنایا بھی ہے یا نہیں۔ وہ کہ جس کی نگاہ عرش اعلی دنیا پر حکومت کرتی ہے۔ وہ فی الحقیقت اس جو جانتا ہے یا وہ بھی نہیں جانتا۔“
رگ وید منڈل 10 سکت۔ 129
ایک اور جگہ یہی گفتگو یوں مذکور ہے
” ہزاروں سروں والا پرش (ایشور) ، ہزاروں آنکھوں والا، ہزاروں پاؤں والا، کائنات کو سب طرف وے دس انگل دور سے گھیر کر ٹھہرا ہوا ہے۔ جو کچھ ہوا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب پرش (ایشور) ہی ہے۔ اس پرش سے کائنات کی تخلیق ہوئی۔ اور اس کائنات سے آدی پرش (اولین انسان) ۔ جیسے ہی وہ پیدا ہوا اس نے خود کو تقسیم کیا اور پھر ساری زمین پر پھیل گیا۔ انہوں نے شہر تعمیر کرنا شروع کیا۔ جب دیوتاؤں نے پہلے انسان کی اپنے شکار کی حیثیت سے قربانی کی۔ اس کا گھی موسم بہار بنا دیا گیا۔ ایندھن کو گرمی اور چڑھاوا (نذر) کو خزاں بنایا گیا۔
(رگ وید۔ منڈل 10 سکت 90۔ منتر 1۔ 6 )
یہ حقائق ویدوں کی رو سے بتائے گئے ہیں۔ یوں تو کائنات کی خلقت اور مظاہر فطرت کی ابتدائی شکل و صورت کے بارے میں رگ وید میں بہت سے منتر تفصیل سے لکھے ہوئے ملتے ہیں لیکن مسئلہ شاید انھیں محفوظ کرنے کا رہا ہو گا، یہ وہ ابتدائی صحائف رہے ہوں گے جو عین ممکن ہے اس دور میں نازل ہوئے ہوں جب کہ انسان کو لکھنا نہیں سکھایا گیا تھا یا انسان نے ابھی تک لکھنے کی ابتداء نہیں کی۔ اور اگر کی بھی تھی تو وہ ان مراحل کا آغاز ہو گا۔ ہم یقیناً سوچ سکتے ہیں کہ آغاز دنیا کا انسان لکھنے کے لیے پتھر اور چٹانیں ہی استعمال کرتا ہو گا۔ لیکن شاید اس وقت سب بڑا مسئلہ ان تعلیمات کی حفاظت اور پھر ان کی تفہیم رہا ہو گا

