کراچی کا مقدمہ۔ (دوسرا حصہ )
کراچی کے عوام کو پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کے ساتھ ساتھ بجلی، گیس اور دیگر مسائل کا سامنا بھی ہے جن میں اسٹریٹ کرائم، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر جرائم جیسے مسائل شامل ہیں۔ اس وقت کراچی میں سیاسی قیادت کا فقدان بھی موجود ہے۔ حالانکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) ، جماعت اسلامی، مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم حقیقی ) ، پاک سرزمین پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام (ف) ، جمعیت علماء پاکستان، تحریک لبیک پاکستان، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں کراچی کی سیاست کا غیر معمولی حصہ ہیں لیکن اس کے باوجود کراچی کی سیاست میں حقیقی سیاسی قیادت نظر نہیں آتی جس کے پیچھے کراچی والے چلتے ہوئے دکھائی دیں۔
ان تمام جماعتوں میں متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی دو ایسی جماعتیں ہیں جو صوبائی حکومتیں بناتی رہی ہیں یا پھر حکومت کا حصہ رہی ہیں جبکہ ان جماعتوں میں جماعت اسلامی وہ جماعت ہے جو کراچی میں میٹروپولیٹن حکومت کرتی آئی ہے جبکہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ بھی ایک سے زائد بار شہری حکومت قائم کر چکی ہے اور اسی ایک شہری حکومت کے ناظم اعلیٰ سید مصطفی کمال بھی رہے ہیں جو اس وقت پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین ہیں۔
اگست 2016 کے بعد سے متحدہ قومی موومنٹ نہ صرف ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہی ہے بلکہ اس جماعت نے اپنے بانی قائد الطاف حسین کا مواخذہ بھی کیا ہے اور اسی جماعت سے پاک سرزمین پارٹی کا جنم بھی ہوا۔ اس طرح 1984 میں بننے والی ایم کیو ایم سے اب تک مہاجر قومی موومنٹ حقیقی، متحدہ قومی موومنٹ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی جنم لے چکی ہیں۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ 1984 میں میں جس نظریے اور تصور کی بنیاد پر ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ اب چار مختلف دھڑوں یا وجود میں تقسیم ہو چکی ہے۔
اسی طرح پیپلز پارٹی کا معاملہ ہے اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کا ایک زمانے میں کراچی کے اندر بہت زیادہ سیاسی اثر و رسوخ تھا لیکن وہ ایم کیو ایم کی تشکیل کے بعد آہستہ آہستہ ختم ہو گیا اور اب پیپلز پارٹی کراچی کے محض چند علاقوں تک محیط ہو کر رہ گئی ہے اور اس کی وجہ آج کی پیپلز پارٹی کا اس نظریے پر قائم رہنا نہیں ہے جو اس کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے انھیں دیا تھا جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی کے حوالے سے یہ تاثر عام ہے کہ وہ کراچی کے عوام کے ساتھ تعصبانہ رویہ رکھتی ہے اس حوالے سے دلائل کے ساتھ بحث آگے کی جائے گی۔
رہی بات جماعت اسلامی کی تو وہ بھی ایک زمانے تک کراچی کے سیاہ و سفید کی مالک رہی ہے اور آج بھی جماعت اسلامی کا اگر کراچی میں زور نہیں ہے تو شور ضرور ہے اور اس وقت جماعت اسلامی کراچی یہ سمجھتی ہے کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں وہ اپنے ماضی کی روایات کا احیا ء کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرے گی۔ جہاں تک جمعیت علماء اسلام (ف) ، اور تحریک لبیک پاکستان کا معاملہ ہے تو یہ مذہبی جماعتیں اپنے اپنے مسلک کی بنیاد پر اپنی اپنی سیاسی حیثیت رکھتی ہیں جبکہ تحریک لبیک پاکستان نے بیک وقت جمعیت علماء پاکستان اور سنی تحریک جیسی سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک کو اپنی طرف رغبت دلائی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کراچی میں بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والی اکثریت تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ جہاں تک عوامی نیشنل پارٹی اور پختونوں کا تعلق ہے تو اس ضمن میں کراچی کی پختون آبادی دو واضح تقسیم رکھتی ہے ایک حصہ عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ہے تو دوسرا حصہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے ساتھ ہے اور یہ دونوں پارٹیاں ہی ہیں پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں اپنا غیر معمولی سیاسی اثر و رسوخ رکھتی ہیں جبکہ پختونوں کی آبادی کا ایک حصہ پی ٹی آئی کے ساتھ بھی ہے لیکن وہ نظریاتی اعتبار نہیں رکھتا۔
اسی طرح ایم کیو ایم سے علیحدگی اختیار کرنے والے سید مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی جماعت پاک سرزمین پارٹی کا تعلق ہے تو اسے ابھی تک وہ مقبولیت حاصل نہیں ہوئی جس کی توقع کی جا رہی تھی، یا پھر ایسا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں پاک سرزمین پارٹی کی مقبولیت کو پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ اب رہی بات مہاجر قومی موومنٹ ( حقیقی) کی جس کے چیئرمین آفاق احمد ہیں اور وہ اپنی جماعت کو کراچی کے مخصوص علاقوں سے زیادہ آگے نہیں بڑھا سکے۔
ایسے میں ایم کیو ایم (پاکستان) کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اینڈ کمپنی کا ذکر بھی ضروری ہے جو خود کو ایم کیو ایم (لندن) کا متبادل سمجھتی ہے جس میں عامر خان، امین الحق اور کامران ٹیسوری جیسے رہنما شامل ہیں۔ ان میں کامران ٹیسوری اس وقت گورنر سندھ کے منصب پر فائز ہیں اور ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کو یکجا کرنے کے حوالے سے متحرک ہیں، تاہم کامران ٹیسوری کو ایک انتخابی ٹکٹ کے معاملے پر اختلافات کے باعث ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت سے ناراض ہونے والے سینئر رہنما ڈاکٹر فارق ستار اب بھی ایم کیو ایم سے علیحدگی رکھتے ہیں۔
بلاشبہ ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ سے کراچی کے عوام کو درپیش سماجی مسائل مزید بگاڑ کا شکار ہوئے ہیں اور ایسے میں کراچی کے وہ عوام جو اگست 2016 پہلے والی ایم کیو ایم سے منسلک رہے ہیں یا اس کی قیادت سے سیاسی ہمدردی رکھتے آئے ہیں وہ خود کو ”سیاسی یتیم“ تصور کرتے آرہے ہیں یہ ایک عمومی تاثر ہے اور اس میں حقیقت کتنی ہے اس حوالے سے کوئی مستند سروے ہی کچھ بتا سکتا ہے لیکن عام چوراہوں اور چبوتروں پر ہونے والی سیاسی عوامی بحثیں بھی اس حوالے سے شمار کی جا سکتی ہیں۔
اسی تاثر کو ملحوظ خیال رکھتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم کے بطن سے پیدا ہونے والی دیگر جماعتیں اب متحد ہونے یا پھر ایم کیو ایم پاکستان میں ضم ہونے جا رہی ہیں اور ایسے میں یہ ممکنہ انضمامی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ اس سے وہ کراچی کے عوام کی حقیقی معنوں میں خدمت کرسکے گے اور اس کے نتیجے میں اپنی سیاسی ساکھ کو بھی بحال کرنے میں کامیاب بھی ہوسکتے ہیں۔ اب ہم بڑھتے ہیں ان وجوہات کی وجہ سے جس کی وجہ سے کراچی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور ”کراچی کا مقدمہ“ کے تیسرے حصے میں اس ضمن میں بحث کریں گے جس میں کراچی کے لیے ہونے والے سیاسی معاہدے اور امن و امان کے نام پر ہونے والے آپریشن کے تجزیاتی پہلو بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔ (جاری ہے )


