کیا پاکستان کا قیام انگریزوں کی سازش تھا آخری قسط


گزشتہ دو قسطوں میں یہ جائزہ لیا گیا تھا کہ جب آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے یہ مطالبہ پیش کیا گیا کہ ہندوستان کو تقسیم کر کے مختلف ممالک کی صورت میں آزاد کرنا چاہیے تو اس پر برطانوی حکمرانوں کا کیا رد عمل تھا؟ اس تجزیہ کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کیونکہ ہر کچھ عرصہ بعد کسی نہ کسی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آتا ہے کہ انگریزوں نے سازش کر کے ہندوستان کو تقسیم کروایا اور اس تقسیم سے وہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس سلسلہ میں ہم خان عبد الولی خان صاحب کی کتاب کا حوالہ پیش کر چکے ہیں۔

اسی طرح 18 ستمبر 2019 کو ”ہم سب“ پر پیر صاحب پگاڑا کا ایک پرانا انٹرویو شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے یہ دعویٰ پیش کیا تھا کہ ولی خان صاحب نے اس بات کے تحریری ثبوت ضیاء الحق صاحب کو دکھا کر انہیں خاموش کر دیا تھا۔ اور انگریز حکمران لوگوں کو مسلم لیگ میں شامل ہونے پر مجبور کر رہے تھے۔ انگریزوں نے مسلمانوں کی علیحدہ ریاست بنانے کا فیصلہ 1940 کی قرارداد سے بھی بہت پہلے کر لیا تھا۔ اور وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے یہ بات سکندر حیات صاحب کو بتائی تھی کہ انگریز مسلمانوں کی خدمات سے خوش ہو کر مسلمانوں کو ایک علیحدہ ملک دینا چاہتے ہیں۔

اور جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے ولی خان صاحب نے اس بات کے ثبوت کے طور پر اس خط و کتاب کا حوالہ دیا تھا جو 1940 میں برطانوی وزیر برائے ہندوستان اور وائسرائے ہندوستان کے درمیان ہوئی تھی۔ پہلی بات یہ کہ چرچل قرارداد پاکستان کے بعد وزیر اعظم بنے تھے اور وہ اس سے پہلے مسلمانوں کو اس بارے میں کوئی یقین دہانی نہیں کرا سکتے تھے کیونکہ اس سے قبل گیارہ سال انہوں نے سیاسی تنہائی میں گزارے تھے، جس کے دوران ان کی پارٹی کے اکثر لیڈر بھی ان کے خلاف تھے۔

ہم نے گزشتہ دو اقساط میں اس خط و کتابت کا جائزہ لیا تھا جو قرارداد پاکستان کے بعد وزیر برائے ہندوستان اور وائسرائے کے درمیان ہوئی تھی۔ اس خط و کتابت سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اس وقت برطانوی حکومت مسلم لیگ اور تقسیم ہند کے سخت مخالف تھی اور خاص طور پر قائد اعظم محمد علی جناح سے انہیں خدا واسطے کا بیر تھا۔ اس قسط میں بھی ہم اسی تجزیہ کو آگے بڑھائیں گے۔

20 ستمبر 1940 کو برطانوی وزیر برائے ہندوستان ایمرے نے وائسرائے کو لکھا:

”ریکارڈ کو پڑھنے کے بعد میں جس شخص کو پسند نہیں کرتا وہ شخص جناح ہے۔ اور میں سمجھ سکتا ہوں کہ کیوں اینی اور مونجے جیسے لوگ اس کے گرفت کرنے کے طریقوں کو پسند نہیں کرتے۔ میں اس بات کی امید کرتا ہوں کہ آپ اینی اور مہاسبھا کے متعلق یقین دہانی کر لیں خواہ اس کے لئے جناح کے ساتھ کافی سخت رویہ اپنانا پڑے۔

جہاں تک کانگرس کا تعلق ہے تو میں نے گاندھی کی تقریر پڑھ لی ہے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ وہ حکومت کے بارے میں کوئی ذمہ داری اٹھانا نہیں چاہتا لیکن اس کی یہ خواہش بھی ہے کہ حکومت سے کھلم کھلا جنگ نہ ہو۔ اس کی خواہش ہے کہ کانگرس متحد رہے اور کانگرس کی قیادت اس کے ہاتھ میں رہے اور دکھاوے کی اتنی جنگ ہوتی رہے جو کہ اس مقصد کے حصول کے لئے کافی ہو۔ ”

اسکے بعد وہ وائسرائے کو لکھتے کہ بہتر ہو گا کہ آپ گاندھی سے کسی موقف پر اتفاق کر لیں اور گاندھی کانگرس کو اس کی اطلاع کر دیں تاکہ جب آپ کو ضرورت ہو اور حدود سے تجاوز ہو رہا ہو تو اس وقت گاندھی آپ کی پشت پناہی کر سکیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس خط میں وزیر صاحب نے نے یہ ذکر کیا تھا کہ گاندھی جی حکومت سے صرف Sham Fight (جھوٹ موٹ کی لڑائی) چاہتے ہیں۔

اس کے بعد ان خطوط میں قائد اعظم کے متعلق عامیانہ زبانہ استعمال کرتے ہوئے منفی تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 30 ستمبر کو وزیر صاحب نے اپنے خط کے آغاز میں لکھا

So the miserable Jinnah has run out

یعنی بیچارا جناح بھاگ چکا ہے۔ اور پھر لکھتے ہیں کہ جب میں نے آپ کی جناح سے ملاقات کی رپورٹ پڑھی تھی تو میرا خیال تھا کہ ایسا ہی ہو گا اور لکھا کہ جناح کے متعلق میرا خیال ہے کہ خود پسندی (Vanity) اس شخص کو کھا چکی ہے۔ اس کے بعد وزیر صاحب نے مسلم لیگ اور کانگرس کے بارے میں اپنا تجزیہ ان الفاظ میں بیان گیا

”جہاں تک کانگرس کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ اس میں نہرو جیسے لوگ موجود ہیں جو واقعی ہم سے نبرد آزما ہونا چاہتے ہیں۔ اور اگر گاندھی ان کا ساتھ دیتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کانگرس میں اختلاف کو پسند نہیں کرتا۔ مسلم لیگ کے متعلق میرا خیال ہے کہ اگر جناح انہیں ایسا کرنے دے تو اس کے ممبران کی بڑی تعداد جلد ہمارے ساتھ تعاون کرے گی۔ لیکن وہ اس سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کے سیاسی حامیوں پر جناح کی گرفت مضبوط ہے۔ اگر اتنے فاصلے کے باوجود میرا اندازہ درست ہے تو ہمیں لیگ کے فیصلے باوجود اپنے مطلب کے بہت سے اچھے مسلمان نمائندے مل جائیں گے۔“

یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ برطانوی حکومت کا خیال تھا کہ صرف قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت ان کے راستے میں حائل تھی، ورنہ وہ بہت سے مسلمان سیاستدانوں کو اپنے لئے استعمال کر سکتے تھے۔ اور ان کے نزدیک گاندھی جی کی نسبت جواہر لال نہرو صاحب کا رویہ زیادہ جارحانہ تھا۔ اس کے بعد 5 اکتوبر کو وزیر برائے ہندوستان ایمرے نے جو خط وائسرائے کو لکھا تھا، اس میں لکھا کہ اگر کانگرس جنگ کے معاملے میں تعاون سے مکمل انکار کردے تو پھر جناح کو جس طرح اس نے اصرار کیا ہے ایک زائد ممبر اور یقین دہانی دے دی جائے اور ایک اور ممبر ایسے ہندو کو بنا دیا جائے جو کہ کانگرس میں شامل نہ ہو۔ اس طرح آپ کی انتظامیہ میں دونوں مذاہب سے وابستہ لوگوں کے درمیان توازن پیدا ہو جائے گا۔

14 اکتوبر کو وزیر صاحب نے اپنے خط لکھا کہ اگر کانگرس کے ساتھ تصادم شروع ہو جائے تو صورت حال اس طرح تبدیل ہو گی کہ آپ کو مسلم لیگ کی حمایت یقینی بنانی پڑے گی یا کم از کم دو ایسے اچھے مسلمان چننے پڑیں گے جو جناح کے ویٹو کی پرواہ نہ کریں۔ 16 دسمبر 1940 کو وزیر برائے ہندوستان ایمرے صاحب نے وائسرائے ایک نوٹ لکھا کہ ایک ایسی سکیم تیار کیا جائے جس کے نتیجہ میں ہندوستان متحد رہے جو کہ مسلمانوں اور ریاستوں کے نوابوں کے لئے قابل قبول ہو اور کانگرس کو بھی تقسیم شدہ ہندوستان اور خانہ جنگی سے بہتر کچھ چیز مل جائے۔

جیسا کہ پہلے عرض کی گئی تھی کہ یہ ریکارڈ برٹش لائبریری میں موجود ہے۔ اور لنلتھگو پیپرز میں فائل MSS EURF 125 / 9 & 10 میں اس ریکارڈ کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ریکارڈ سے مندرجہ ذیل باتیں واضح ہو جاتی ہیں۔

1۔ برطانوی حکومت مسلم لیگ کی تجویز کے مطابق ہندوستان کی تقسیم کی سخت مخالف تھی۔ ان کا خیال تھا کہ یہ تقسیم ہندوستان کی ترقی اور ان کے مفادات کے لئے نقصان دہ ہو گی۔ ان کی خواہش تھی کہ ہندوستان ایک متحدہ صورت میں موجود رہے۔

2۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت برطانوی حکومت قائد اعظم محمد علی جناح کے سخت مخالف تھی۔ ان کے وزیر انہیں ایک خود پسند انسان سمجھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر جناح کا وجود نہ ہو تو وہ بہت سے مسلمان لیڈروں ان سے تعاون کر سکتے ہیں۔

3۔ ان کا نظریہ تھا کہ گاندھی جی کی نسبت جواہر لال نہرو برطانوی حکومت کے بارے میں زیادہ جارحانہ رویہ رکھتے ہیں۔ بسا اوقات جب گاندھی جی اور کانگرس کا حکومت سے تصادم ہو رہا تھا تو وہ صرف دکھانے کے لئے ہو رہا ہوتا تھا۔

4۔ وہ مسلم لیگ کو صرف اس وقت قریب لانے کی کوشش کرتے تھے جب انہیں کانگرس کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑے۔ اور اس طرح وہ کانگرس پر اپنا دباؤ بڑھاتے تھے۔

آخر میں ایک بار پھر یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ تاریخی واقعات کا تجزیہ کرتے ہوئے جذباتی دعووں، سنی سنائی باتوں یا محض اپنے خیالات کو ایسے تجزیہ کی بنیاد بنانے کی بجائے، ٹھوس حقائق اور تاریخی دستاویزات کی بنیاد پر تجزیہ کرنا چاہیے۔ اور جب ایسی دستاویزات کے حوالے پیش کیے جائیں تو صرف اپنے مطلب کے ایک دو حوالوں پر انحصار کرنے کی بجائے مکمل تصویر پیش کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS