پروین شاکر ایک ماں کے روپ میں
پروین شاکر کی شاعری میں اسلامی تہوار! پروین شاکر کی ایک نظم جس کا عنوان لیلتہ الصک (یعنی تقسیم امور کی رات) ہے لیلتہ الصک جسے شب برات بھی کہا جاتا ہے اس نظم میں انہوں نے اپنے عقیدے، مذہبی تہواروں، قدرت کے فیصلوں اور انسانی تمناؤں کی کشمکش کو اجاگر کیا ہے۔ یہ نظم۔ ان۔ کے اولین مجموعہ کلام خوشبو میں موجود ہے اور یہ بات بھی پروین کے فن سے محبت کرنے والوں کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ جیسے ہم۔ نے پروین کی زندگی کے پورے اور ادھورے عکس ان کی شاعری میں دیکھے اسی طرح مذہبی تہواروں کو منانے اور ان کو پوری قدرت اور قوت سے شاعری میں فنکارانہ چابک دستی سے بیان کر نے کا عکس بھی نظر آتا ہے بات یہ نہیں کہ ان کے ہاں مذہبی شاعری، رثائی شاعری، نعتیہ کلام، منقبت اور سلام کے الگ الگ خانے ہیں۔ ان کا عقیدہ اور مذہب سے گہرا لگاؤ زندگی میں زندگی بن کے سرایت کر چکا تھا۔ اور یہ تمام پہلو زندگی کی طرح رواں دواں دکھائی دیتے ہیں اور وہ کسی تساہل کے بغیر ان کا انتہائی فنکارانہ اظہار کرتی ہیں۔
”لیلتہ الصک“
شب برات
۔ ۔
عجیب پراسرار فضا تھی
ہوا میں لوبان و عود و عنبر کی
آسمانی مہک رچی تھی
سپید، مخروطی، مومی شمعیں
عجیب ناقابل بیاں مذہبی تیقن سے جل رہی تھیں
کہ جیسے آبی قباوٴں میں کچھ اداس معصوم لڑکیاں
دونوں ہاتھ اٹھائے
دعا میں مصروف ہوں
اور ان کی چنبیلی سی انگلیوں کی لو تھرتھرا رہی ہو
دریچوں میں طاقچوں میں
ننھے چراغ یوں جھلملا رہے تھے
کہ جیسے نوزائیدہ فرشتے
زمیں کو دیکھ کر
تعجب سے اپنی پلکیں جھپک رہے ہوں
کتاب الہام کی تلاوت سروش جبرائیل کے تصور
کی جیسے تجسیم کر رہے ہوں
میں ہلکے رنگوں کے اک دوپٹے میں
اپنی زیبائشیں چھپائے
ترے بہت ہی قریب سر کو جھکائے بیٹھی ہوئی تھی
اور تو اپنے سادہ ملبوس میں مرے پاس تھا
مگر ہم ایک اور ہی دنیا میں کھو چکے تھے
زمیں کی خواہش دھنک پر ہی رہ گئی تھی
وجود تتلی کے پر کی صورت لطیف ہو کر
ہوا میں پرواز کر رہا تھا
ہمیں بزرگوں نے یہ بتایا کہ آج کی رات
آسمانوں میں زندگی اور موت کے فیصلے بھی
انجام پا رہے ہیں
دعاوٴں کی باریابیوں کا یۂی سمے ہے
سو، ہم نے اپنے دیے جلا کر
حیات تازہ کی آرزو کی
محبتوں کی ہمیشگی کی دعائیں مانگیں
آج اپنے اکیلے گھر میں
ہوا کے رخ پر چراغ ہاتھوں میں لے کے بیٹھی
خدا کے اس فیصلے کا مفہوم سوچتی ہوں
کہ جس کی تکمیل میں یہ دیکھا
بدن تو زندہ ہے میرا اب تک
مگر مری روح مر چکی ہے
میں آج جا کر سمجھ سکی ہوں
کہ آج سے ایک سال پہلے
ترا جلایا ہوا دیا کیوں جلد بجھ گیا تھا
ذرا دیکھئے زندگی سے بھرپور ایک حساس روح کس طرح اپنی ذاتی زندگی کی اس پرفضا وادی سے جس میں محض چاہے جانے کی خواہش میں دل ایک ہی شخص پر توجہ مرکوز کیے رہتا ہے انہوں نے اپنی ازلی آگہی اور ذہانت کا بیان کیا ہے۔ وہ کسی محاذ پر سست اور کاہل دکھائی نہیں دیتیں بلکہ ہر جگہ ان کے اندر کا فنکار وہ سب کچھ کہنا چاہتا ہے جسے مشاہدے اور تجربے کی گہرائی۔ سے کشید کرتا ہے۔ ان کا ظاہر باطن کے ساتھ ہم آہنگ رہتا ہے اور کبھی دھوکے اور فریب کا شکار نہیں ہوتا۔
ان کا دیگر کلام کی طرح مذہبی رنگ میں رچا ہوا کلام۔ بھی سرتاپا جمال و عرفان و آگہی کے ساتھ ساتھ نور میں نہایا ہوا محسوس ہوتا ہے جہاں شاعری محض ایک خواب اسا خیال کی صورت سیدھی حافظوں کا حصہ بن۔ جاتی ہے اور اجتماعی شعور کے ساتھ ساتھ زندگی بن جاتی ہے انسانی زندگی کے عظیم واقعے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر وحی نازل ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دنیاوی زندگی اور دنیا میں ان کا ظہور ہونا اور ان کی تریسٹھ سالہ 63 حیات مبارکہ میں پیش آنے والے معجزات، حالات، مدنی اور مکی زندگی، فتح مکہ، دعوت اسلام اور ترویج دین کے لئے مصائب و الام۔
پر تخلیق کاروں نے بڑے دل موہ لینے والے اور پر عقیدت انداز میں قلم اٹھایا ہے تاہم چند نام ایسے ہیں جنہوں نے اس کلام میں محبت اور عقیدت کو ترازو کر ڈالا پروین شاکر بھی ایسے ہی تخلیق کاروں میں شامل ہیں انہوں نے زندگی میں ہمت، حوصلے اور اعلیٰ ظرفی کا جو مظاہرہ کیا اس کا ایک سبب ان کی دینوی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی مذہبی اور اخلاقی تعلیم بھی ہے۔ آہنگ کے جمال میں انجیل کی دعا/ نرمی میں اپنی سورہ ء رحمان کی طرح۔ اگرچہ ان کی یہ نظم نعتیہ نظم نہیں تاہم اسے نظمیہ نعت کے پیرائے سے کم درجہ بھی نہیں دیا جاسکتا اسی نظم میں پروین نے واقعہ معراج کو بھی بڑے سلیقے اور عقیدت سے بیان کیا ہے۔
وحی
—————–
عجیب موسم تھا وہ بھی، جب کہ
عبادتیں کور چشم تھیں
اور عقیدتیں اپنی ساری بینائی کھو چکی تھیں
خود اپنے ہاتھوں سے ترشے پتھر کو دیوتا کہہ کے
خیر و برکت کی نعمتیں لوگ مانگتے تھے!
مگر وہ اک شخص
جو ابھی اپنے آپ پر بھی نہ منکشف تھا
عجیب الجھن میں مبتلا تھا
یہ وہ نہیں ہیں، وہ کون ہو گا کا کرب بے نام چکھ رہا تھا!
سو اپنے ان نارسادکھوں کی صلیب اٹھائے
غموں کی نا یافت شہریت کو تلاش کرتے
وہ شہر آذر سے دور
اپنے تمام لمحے
حرا کے غاروں کے خواب آساسکوت کو سونپنے لگا تھا
یہ سوچ کا اعتکاف بھی تھا
اور ایک ان دیکھی روح کل کے وجود کا اعتراف بھی تھا
وہ رات بھی ارتکاز کی ایک رات تھی
جبکہ لمحہ بھر کو
فضا پہ سناٹا چھا گیا
اور ہواؤں کی سانس رک گئی تھی
ستارہ شب کے دل کی دھڑکن ٹھہر گئی تھی
گریزپا ساعتیں تحیر زدہ تھیں
جیسے وجود کی نبض تھم گئی ہو!
یکایک اک روشنی جمال و جلال کے سارے رنگ لے کر
فضا میں گونجی
” پڑھو“ !
” میں پڑھ نہیں سکوں گا“ !
” پڑھو“ !
” میں پڑھ نہیں سکوں گا“ !
” پڑھو“ !
) ”مگر ) میں کیا پڑھوں؟“
پڑھو۔ تم اپنے ( عظیم ) پروردگار کا نام لے کے
جو سب کو خلق کرتا ہے
جس نے انسان کو بنایا ہے منجمد خون سے
پڑھو ( کہ ) تمھارا پروردگار بے حد کریم ہے
( اور ) جس نے تم کو قلم سے تعلیم دی
اسی نے بتائیں انسان کو وہ باتیں
کہ جن کو وہ جانتا نہیں تھا ”۔
فضائے بے نطق جیسے اقراء کا ورد کرنے لگی تھی
وہ سارے الفاظ، جو
تیرگی کے سیلاب میں کہیں بہہ چکے تھے
پھر روشنی کی لہروں میں
واپسی کے سفر کا آغاز کر رہے تھے
دریچہ بے خیال میں
آگہی کے سورج اتر رہے تھے
اس ایک پل میں
وہ میرا امی
مدینتہ العلم بن چکا تھا۔ عجیب اتفاق ہے کہ پروین شاکر آج سے اٹھائیس برس قبل جب اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو اسلامی تقویم کے اعتبار سے ماہ رجب ہی تھا جب واقعہ معراج وقوع پذیر ہوا تھا۔ وقت اس لمحے رک گیا تھا۔


