آزاد کشمیر سے ایک باہمت خاتون کی داستان


دل کا آپریشن، اوپن ہارٹ سرجری، والوز کی بندش، اینجیوگرافی، اینجیو پلاسٹی وغیرہ یہ وہ تمام اصطلاحات یا دل کی بیماریوں کے علاج/تشخص کے ذرائع ہیں جن سے آج کل ہر یک ہی واقف ہے۔ ہماری خوراک اور ہمارے طرز رہن سہن، آرام کرنے کی کثرت، جسمانی طور پر کوئی کام نہ کرنے کی وجہ سے گزشتہ سالوں میں دل کے امراض میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور دل کی بیماریوں یا دل کے دورے کے باعث اموات اور نوجوان لوگوں کی اموات بھی اب عام ہو چکی ہیں۔ اور ساتھ ساتھ ان بیماریوں کے علاج بھی اب میسر ہیں۔

لیکن آج کی یہ تحریر ایک ایسی خاتون کے متعلق ہے کہ جن کا پورا دل ہی تبدیل کر کے کسی دوسرے انسان کا دل لگا دیا گیا ہے اور وہ یہ کہتی ہیں کہ ”یہ میرا دل ہے لیکن یہ میرا نہیں“ ۔

اگر تو یہ کسی اخبار، فیس بک یا کسی اور جگہ لکھی ہوئی کوئی کہانی ہوتی تو شاید نظر سے گزار کر نظر انداز کر لیتا لیکن یہ کہانی میری اپنی انتہائی قابل احترام استاد اور بڑی بہن کی ہے جنہوں نے مجھے خود سنائی۔ ان سے میرا تعلق گزشتہ 15 سالوں سے ہے اور وہ ہماری یونیورسٹی دور میں استاد رہی ہیں۔ ان کا تعلق بھی ہمارے اپنے آزاد کشمیر کے علاقے دھیر کوٹ کے نواحی گاؤں چمیاٹی سے ہے۔

ان کی اور میرا شعبہ بھی ایک ہی ہے یعنی کمپیوٹر سائنس، آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد میں اسی شعبہ میں لیکچرر تھی، بعد ازاں سعودی عرب کی ایک یونیورسٹی میں 10 سال تک بطور لیکچرر اپنی خدمات سر انجام دیتی رہی۔ میں اگر چہ 2008 کے بعد ان سے مل نہیں سکا لیکن اس وقت بھی وہ ایک بھرپور صحت کی حامل، جذبوں سے سرشار اور قوت اعتماد سے بھرپور خاتون تھی۔ یونیورسٹی کے طلبا بڑے شرارتی ہوتے لیکن وہ اپنی رعب دار آواز کی وجہ سے ان کو ڈرا کر رکھتی تھی۔

2018 میں جب وہ اپنے گاؤں میں تھی تو ان کو میں تھی تو اچانک ایک روز سینے میں درد محسوس ہوا اور ان کو مقامی ہسپتال لے جایا گیا، ظاہر ہے مقامی ہسپتال میں تو علاج کے ذرائع میسر نہیں تھے اس لیے ان کو مظفرآباد لے جایا گیا جہاں پر بھی کوئی افاقہ نہ ملا۔ جب ان کو راولپنڈی کے ایک ہسپتال لے جایا گیا وہاں ڈاکٹر نے ان کو بتایا کہ ان کے دل کی کی وہ طاقت (Ejection Fraction) جو جسم کے دیگر اعضا کو خون مہیا کرتی ہے وہ انتہائی کم ہو گئی ہے یا آسان لفظوں میں اگر کہیں تو دل کی دھڑکن کم ہو کر 25 فیصد تک رہ گئی ہے۔ اور یہ ایسی بیماری ہے کہ جس کا ادویات کے ذریعے علاج ممکن نہیں۔

دو سال تک اسی حالت میں رہنے کے بعد وہ 2020 میں کینیڈا شفٹ ہو گئی کیونکہ ان کے شوہر وہیں تھے۔ لیکن اس بیماری کی وجہ سے ڈاکٹر انہیں اجازت نہیں دے رہے تھے کہ وہ اتنی لمبی فلائٹ لیں کیونکہ ہوا میں دل کی کام کرنے کی استعداد مزید کم ہوجاتی ہے۔

بہرحال کینیڈا پہنچنے کے صرف دو ماہ بعد وہ ہسپتال میں داخل ہو چکی تھی، وہاں کے ڈاکٹر بھی حیران تھے کہ اتنے کمEjection fraction جو کہ صرف 17 فیصد تھا کے ساتھ کیسے اتنا عرصہ تک زندہ رہی ہیں۔ یاد رہے کہ صحت مند خواتین میں یہ ejection fraction، کی مقدار 55 فیصد سے زائد ہوتی ہے۔

ڈاکٹر نے ان کو بتایا کہ اس دل کے ساتھ ان کی زندگی صرف 20 یا 22 دن تک رہ گئی ہے اور ہم فوراً ان کا دل تبدیل بھی نہیں کر سکتے کیونکہ اس آپریشن کے دوران ہی ان کا انتقال ہو جائے گا۔ اس لیے وقتی طور پر ہم ان کو ایک مشین لگا دیتے ہیں جو خون کو دل سے دوسرے اعضا تک پہنچانے میں مدد دے گی۔ لیکن یہ مشین محض کوئی چھوٹا سا آلہ نہیں ہوتا کہ جو جسم کے اندر ہی لگا دیا جائے بلکہ ایک پورا سسٹم ہوتا جس میں چارج ہونے والی بیٹریاں، کنٹرول سسٹم جسم کے ساتھ چوبیس گھنٹے لگا رہتا اور پھر جسم سے سوراخ کر کے باقی سسٹم جس کو LVAD (Left ventricular assist device) کہا جاتا وہ دل کے ساتھ لگایا جاتا۔

اس کے ساتھ دل کی دھڑکن کو مربوط کرنے کے لیے اک اور آلہ جسے Pace Maker کہا جاتا وہ بھی لگایا گیا۔ اور یہ سارا عمل مسلسل کئی ہفتوں کی اذیت جھیلنے کے بعد ایک آپریشن کے ذریعہ کیا گیا۔

آپ تصور کریں کہ اتنی ساری چیزیں جسم کے ادر گرد لگا کر زندہ رہنا ایک مریضہ خاتون کے لیے جو ایک 6 سال کے بچے کی ماں بھی ہو کتنا مشکل ہے۔ میری جب ان سے بات ہوئی تو کہتی ہیں کہ اس سارے عرصہ میں وہ اللہ کے بہت قریب ہو گئی، ان قدرت پر کامل یقین آ گیا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے ماں باپ اور شوہر کا ساتھ اور ہمدردیاں ان کے لیے مضبوطی کا باعث تھی۔

ان ساری مشینوں اور کمر کے ساتھ بندھی بیٹریوں کے ساتھ وہ 16 ماہ تک ایک طرح سے مصنوعی طریقہ سے زندہ بستر پر رہی اور یہ کتنا اذیت ناک حالت ہوئی ہو گی اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اگر چہ اس دوران وہ کافی حد تک ریکور ہو گئی اور اپنے معاملات بخوبی سر انجام دے رہی تھی لیکن اضافی مشینیں ساتھ تھی۔ اس دوران بھی میری کبھی کبھی بات ہوتی رہی تو وہ ہمت کا کوہ گران بنی رہی۔

زندگی کیا سے کیا ہو جاتی ہے۔ جن واقعات و حادثات کا کبھی تصور نہیں ہوتا، جب اچانک آپ کی دہلیز پر دستک دیتے ہیں تو گھر اجڑ جاتے ہیں مسکراتی آنکھیں ویران ہو جاتی ہیں۔ ان حالات میں ایک 6 سالہ بیٹے کی ماں کے احساسات و جذبات کیا تھے ایک عام انسان کے کیے اس کا تصور بھی محال ہے۔

آخر گزشتہ ماہ انہیں اچانک ہسپتال سے کال موصول ہوئی کہ آپ کے لیے ایک دوسرے انسان کے دل کا انتظام ہو گیا ہے اور بالآخر مختلف آپریشنز کے بعد نومبر کے آخری ہفتہ میں یونیورسٹی ہسپتال ایڈمنٹن کینیڈا میں ایک کامیاب آپریشن سے ان کے جسم میں کسی اور کا دل لگا دیا گیا۔

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کو یہ نہیں پتا کہ میرے سینے میں کس کا دل لگایا گیا ہے اور ایسے ہی دل عطیہ کرنے والے انسان کے خاندان کو یہ نہیں پتا کہ ان کا عطیہ کیا گیا دل کس مریض کو لگا یا گیا ہے۔ ہسپتال نے ان کو اجازت دی ہے کہ وہ 6 ماہ بعد اس فیملی کو ہسپتال کے ذریعے ہی ایک خط لکھ کر شکریہ ادا کر سکیں گے لیکن اس میں ان کا نام نہیں بتایا جائے گا۔

2 ہفتے قبل وہ اپنے گھر منتقل ہو چکی ہیں اور بتاتی ہیں کہ اب ان کا دل جو حقیقت میں کسی اور کا تھا بالکل نارمل کام کر رہا اور مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی۔ ان تمام مشینوں سے بھی جان چھوٹ چکی ہے اور وہ سب سے پہلے اللہ تعالی کی ذات کا، اس عطیہ کرنے والے انسان کا، اپنے ماں باپ، شوہر، اور تمام جاننے والے اور دعا کرنے والوں کی مشکور ہیں۔

لیکن یہ سب ان کی اپنی ہمت، اللہ پر کامل یقین کے بغیر ممکن نہیں تھا کیونکہ اگر کوئی نارمل شخص ہوتا تو یہ سن کر ہی اس دنیا سے چلا جاتا کہ اب وہ صرف 20 دنوں کا مہمان ہے۔

میں نے جب ان سے پوچھا کہ کسی اور کا دل لگنے کی وجہ سے کیا آپ کے جذبات، خیالات میں بھی کوئی تبدیلی آئی ہے تو ان کا کہنا تھا بالکل نہیں، میں بالکل ویسا ہی محسوس کر رہی جیسا پہلے تھی، میرے جذبات، خٰیالات، احساسات ویسے ہی ہیں لیکن مجھے پتا ہے کہ ”یہ میرا دل ہے لیکن یہ میرا نہیں”۔