اقلیتی طالب علم اور ان کے تعلیمی مسائل


چھوٹی بہن نے روایتی نمبروں میں پچھلے ماہ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات پاس کیے تو تمام گھر والوں کو اس کی تعلیم کے لیے کسی اچھی یونیورسٹی میں داخلے کی فکر لاحق ہوئی۔ بڑا بھائی ہوتے ہوئے ساری ذمہ داری میرے کندھوں پر تھی۔ چند دن تو بہن کو ساتھ لیے خاصی یونیورسٹیوں کے چکر لگائے (تاکہ اس سارے عمل سے گزرتے ہوئے اس کے عملی تجربے میں بھی مزید اضافہ ہو) ، پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کی چند ہی یونیورسٹیاں چھوڑی ہوں گی جن سے ہم نے آن لائن یا خود جاکر معلومات اکٹھی نہ کی ہوں۔ یہ عمل بے شک بہت تھکا دینے والا تھا لیکن اس سے معلومات اور معاملات دونوں کو سمجھنے میں اچھی مدد ملی۔

اگر چند ایک باتوں کو بیان کرنے کی کوشش کروں تو داخلے کے وقت تقریباً تمام یونیورسٹیوں میں پراسپکٹس دیا جاتا ہے، جس کا مقصد یونیورسٹی کی پالیسیاں، تمام کورسز اور قواعد و ضوابط کی فہرست کو امیدوار کے علم میں داخلہ سے پہلے لانے کی کوشش کرنا ہوتا ہے۔ لیکن یہ پراسپکٹس مفت فراہم نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کے لیے 1500 سے 4500 تک کی ایک رقم مقرر ہوتی ہے اور داخلہ فارم اسی پراسپکٹس میں موجود ہوتا ہے اس لیے اسے خریدنے سے انکار بھی واجب نہیں۔

حاصل کردہ نمبرز اور اچھی یونیورسٹیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہوئے امیدوار کو کم از کم 4 سے 5 یونیورسٹیوں کے پراسپکٹس خریدنا پڑتے ہیں۔ جس میں داخلہ سے پہلے ہی 15۔ 20000 کی ایک بھاری رقم خرچ ہوجاتی ہے۔ جو ایک متوسط یا غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے امیدوار کے لیے جمع کرانا انتہائی پریشان کن مرحلہ ہے۔ اس بنا پر یا تو وہ پبلک یونیورسٹیوں کو ترجیح دیتا ہے یا پھر پرائیویٹ اکا دکا یونیورسٹیوں میں قسمت آزمانے پر خود کو آمادہ کر لیتا ہے۔

کسی حد تک اچھی بات یہ ہے کہ بہت سی یونیورسٹیوں نے ڈیجیٹلائزیشن کی ترقی کو یقینی بناتے ہوئے داخلہ کو آنلائن کر دیا ہے، لیکن داخلہ فیس کی شرط اس میں بھی لازم و ملزوم ہے، جس میں امیدوار کو بینک سے یا آن لائن چالان لے کر اس کی 1000 سے 1500 فیس الگ سے جمع کرانا پڑتی ہے اور پھر آن لائن پورٹل امیدوار کی درخواست موصول کرتا ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اس ایک داخلہ فیس کی بنیاد پر امیدوار 3۔ 4 ڈپارٹمنٹس میں داخلہ فارم جمع کروا سکتے ہیں۔

جہاں کچھ آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں اس کے ساتھ مزید مشکلات بھی جنم لیتی ہیں۔ ہر کسی کے لیے آن لائن طریقہ سے داخلہ کا درخواست فارم پر کرنا ایک مشکل عمل ہے، خاص طور پر ان کے لیے جن کی کمپیوٹر یا انٹرنیٹ تک رسائی ممکن نہیں۔ خواتین کے لیے یہ ایک الگ طرح سے کٹھن صورتحال ہے کہ زیادہ تر انہیں نیٹ کیفیز جانے یا دوستوں سے مدد لینے میں دشواری پیش آتی، جس بنا پر وہ دسویں یا بارہویں جماعت کے بعد تعلیم ترک کر دینے یا گھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور پھر روایتی، معاشی و معاشرتی مسائل کی زد میں ممکنہ طور پران پر کسی حد تک، تعلیم ترک کر دینے کے لیے زور بھی ڈالا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ایک اور خیال ابھرتا ہے کہ اقلیتی امیدواروں کے لیے یہی مسائل کس قدر پریشانی کا باعث ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے اس طبقے کی تنگ معاشی صورتحال، لڑکوں کی تعلیمی رجحان میں کمی، لڑکیوں کے لیے خاندانی ترجیحات میں موازنہ اور ان جیسے دیگر مسائل کا سامنا کرتے ہوئے جو چند امیدوار یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے مرحلے تک پہنچ جائیں تو ان اداروں کی لاکھوں روپوں پر مبنی بھاری بھرکم فیسیں، روزمرہ کے اخراجات، ماحول میں خود کو ترتیب دینا اور معاشرے کے منفی رویوں کا سامنا کرنے جیسے بہت سے پیچیدہ مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

اور جو ان مسائل کا سامنا کرنے کی سکت نہ رکھتے ہوئے پبلک یونیورسٹیوں یا تعلیمی اداروں کو ترجیح دیتے ہیں انہیں پیش آنے والی دشواریوں کی ایک الگ فہرست تیار کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس پر بحث نہ کرتے ہوئے اگر میں اس بات پر زور ڈالنے کی کوشش کروں تو حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں میں اقلیتی طالبعلموں کے لیے % 2 کوٹہ انتہائی پر ستائش قدم ہے، جس میں اقلیتی امیدوار رعایتی طور پر کم نمبروں کے باوجود بھی داخلہ کی شرط پر پورا اتر سکتے ہیں لیکن ٪ 90 سے زیادہ لوگوں کو اس بارے میں علم ہی نہیں ہے۔

میری چھوٹی سی تحقیق کے مطابق پچھلے سال کوٹہ کی 906 نشستوں میں سے 170 نشستیں پر ہوئیں اور 736 نشستیں خالی گئیں تھیں۔ ایک سماجی کارکن اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرتے ہوئے مجھے اس بات سے واقفیت ہے کہ یونیورسٹیوں میں 100 میں سے 2 نشستیں اقلیتی طالب علموں کے لیے مقرر کی گئی ہیں لیکن داخلہ کو یقینی بنانے کے لیے انہیں کم از کم 6 سے 8 یونیورسٹیوں میں درخواست فارم جمع کرانا درکار ہوتا ہے اور امیدوار کے لیے اس بات کا جاننا بھی ضروری ہے کہ ان کے چنے گئے مضمون اور یونیورسٹی کے داخلہ کے رجحان میں کتنی مماثلت ہے کیونکہ یہ رجحان ہی ان کے داخلہ کے ہونے یا نہ ہونے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے۔

جس مضمون میں لوگوں کا رجحان زیادہ ہو گا اس میں داخلے نسبتاً زیادہ ہوں گے اور اقلیتی امیدواروں کے لیے نشستوں کی شرح بھی بڑھے گی اور جن اداروں میں نشستوں کی تعداد پہلے سے ہی مقرر ہوتی ہے وہاں پر یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ نشستیں 50 سے زیادہ ہیں بھی کہ نہیں۔ کیونکہ 50 سے کم نشستوں پر کوٹہ میں ایک بھی سیٹ مقرر نہیں ہوگی اور کم نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو اوپن میرٹ کی شرط کو مانتے ہوئے داخلہ کی درخواست جمع کرانی ہوگی، جس میں داخلہ ملنے کے مواقع کی شرح 1 فیصد سے بھی کم ہوتی ہے اس بنا پر ان 8 یونیورسٹیوں کی تقریباً 30000 سے زائد داخلہ فیس بھی ضائع ہوگی جو ایک عام معاشی صورت حال سے تعلق رکھنے والے امیدوار کے لیے اتنی رقم اکٹھی کرنا ہی ناممکن سی بات معلوم ہوتی ہے۔ اس تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ان مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS