وضو کی طرح نازک اسمبلیاں


لگتا ہے کہ پاکستان کی منتخب اسمبلیاں جیسے جمہوریت کا وضو ہوں، ظہر سے عصر تک اگر بمشکل چل بھی جائیں تو مغرب سے پہلے بہرحال نئے الیکشن درکار ہوتے ہیں۔ کم از کم ہماری جمہوریت کا معدہ تو اتنی ہی استطاعت رکھتا ہے۔ ہمارے جمہوری معدے کی خرابی دائمی، لا علاج اور بہت مقبول ہے۔ دائمی اس لیے کہ پچھتر برس سے اسمبلیاں ٹوٹتی آ رہی ہیں، لا علاج اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ہمارے سب سے مشہور اور تجربہ کار حکیم جناب حکیم الامت صاحب کے تیر بہدف نسخے سے بھی اس کا علاج نہیں ہو سکا۔

بلکہ نسخہ جتنا زیادہ استعمال کیا جمہوریت کا معدہ اتنا ہی کمزور ہوتا گیا۔ خیر حکیم الامت صاحب کا اس میں کوئی قصور بھی نہیں کیونکہ وہ تو جمہوریت کو ہی گندے انڈے سے تشبیہ دیتے تھے لیکن ہم ہیں کہ بس انہیں پر یقین رکھتے ہیں اور یہ بھی یقین ہے کہ آدھی بیماری تو یقین سے ہی دور ہو جاتی ہے۔ اس لیے حکیم بدلنے کو تیار نہیں ہیں۔

اور وضو ٹوٹنے کو مقبولیت، اوہ میں معافی چاہتا ہوں، میرا مطلب تھا کہ اسمبلیاں ٹوٹنے کو مقبولیت تو ہینڈسم کے ہاتھوں نصیب ہوئی اور ریکارڈ ہو جانے کی وجہ سے تاریخ کا حصہ بھی بن گئی۔ ان کی زندگی تو خیر ریکارڈز سے بھری پڑی ہے، ایک اعلی پائے کے کھلاڑی جو تھے۔ کھیل کا میدان چھوڑ کر جب وہ سیاست میں آئے تو کہنے لگے کہ ریکارڈ بنانے چھوڑ دیے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم ہاؤس کی ریکارڈنگ بتاتی ہے کہ تمام مصروفیت کے باوجود انہوں نے ریکارڈ بنانے جاری رکھے۔

شہباز شریف کی حکومت بھی حکیموں سے بھری پڑی ہے۔ وہ حکیم الامت نہیں لیکن اپنے اپنے محلے کے حکیم ہونے کا دعوی رکھتے ہیں۔ حکومت میں آنے سے پہلے تو کہتے تھے کہ ان کے دیسی نسخے میں ویاگرا کی طاقت ہے اور کمزوری کا ایسا علاج کریں گے پاکستان کی زندگی خوشیوں سے بھر دیں گے۔ لیکن اب معلوم ہوا کہ وہ سب سہانے خواب ہی تھے۔ ان نئے حکیموں کے پاس معدے، معیشت اور مقبولیت کا کوئی علاج نہیں ہے۔ پاکستان میں ان تینوں چیزیں کا کنٹرول ورلڈ بنک، آئی ایم ایف اور جنات کے پاس ہے۔ اس لیے پہلے تو حل صرف جماعت اسلامی ہوتی تھی اب بزدار صاحب کو بھی اس میں شامل کر لینا چاہیے۔

مرض جتنا بھی لا علاج تھا لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پاکستان میں جمہوریت نے ترقی نہیں کی۔ ترقی کی ہے اس لیے اب اسمبلیاں ٹوٹنے کے طریقہ کار میں کافی فرق پڑ گیا ہے۔ مثلاً پہلے تو اسمبلیاں باہر اور اندر یعنی دونوں اطراف سے ٹوٹتی تھیں یعنی جرنیل اور سیاست دان دونوں ہی توڑتے تھے لیکن اب صرف سیاست دان ہی توڑنے کے در پے ہیں۔ کچھ عرصے سے جرنیلوں نے اسمبلیاں توڑنے کی بجائے چلانی شروع کر دی ہیں۔

اور ہاں جرنیلوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اسمبلی بہت موثر طریقے سے چلا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں نیب کا خاص طور پر شکر گزار ہونا چاہیے کہ اسمبلیاں اور حکومت چلانے کے لیے انہوں نے بہت کلیدی کردار ادا کیا۔ باہر، میرا مطلب ہے کہ اپنے دفتر میں بیٹھ کر اسمبلیاں چلانے میں مزا تو بہت ہے لیکن آئندہ نئے تجربات سے اجتناب برتنا چاہیے۔ یہ بہت مہنگے پڑتے ہیں۔ ملازمتوں میں توسیع تو پہلے بھی لوگوں نے لی لیکن اتنی مہنگی کسی کو نہیں پڑی جتنی اب پڑ رہی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تو حالات ہی بدل گئے۔ اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے ہوئے بت اب ہمیں سے سجدہ مانگتے ہیں۔ اور اب ہم عوام کو بتاتے ہیں کہ یہ خدا نہیں ہیں تو عوام بھی نہیں مانتی۔

واضح رہے کہ ان کی اس دلیری کی وجہ عوام نہیں ہیں۔ ان کی اس دلیری کی وجہ اور کچھ نہیں بس معیشت کی کمزوری ہے جو کسی بھی نسخے سے ٹھیک ہو کر نہیں دیتی۔ اسمبلیاں توڑنے کا سوچو تو پاکستان کے قرض خواہ خواب میں آ کر ڈراتے ہیں۔ اتنے ڈالر اکٹھے کر کے اگر قسطیں ادا کر دیں تو پھر فیملی کا خیال کیسے رکھ پائیں گے۔ اور کل ریٹائر بھی ہونا ہے۔ کاش یہ ریٹائرمنٹ نہ ہوتی۔

ویسے تو پاکستانیوں کے لیے خوشی کے دن قریب ہونے چاہیے کیونکہ حکومت کے نو مہینے پورے ہونے کو ہیں۔ اور ہم پاکستانی صرف ایک ہی خوشی سے واقف ہیں اور وہ وہی نو مہینے والی ہوتی ہے۔ اس خوشی کا شوق بھی تو معیشت کو سنبھلنے دیتا ہے نہ وضو کو۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik