ڈپلیکیٹ پختونخوا ملی عوامی پارٹی

عثمان کاکڑ زخمی ہوئے تو جو کنفیوژن پھیلائی گئی وہ بظاہر تو افراتفری پر مبنی رہی لیکن بہت مثالی تھی۔ ایسی کنفیوژن ہمیشہ سیاسی لیڈر کی موت پر مخصوص حلقے پھیلاتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ گولی لگی، سن روف کی ہیچ سر میں لگی، بم دھماکے کی ردعمل میں نیچے گری، باہر کیوں نکلی، کس نے دبئی سے فون کر کے گاڑی سے نکلنے اور بھیڑ کو ہاتھ ہلانے کو کہا؟ وغیرہ وغیرہ۔ عثمان کاکڑ مرحوم کی موت پر بھی یہی کیا گیا۔
اس کے پسماندگان کسی خاص شخصیت اور رخ میں انگلی سے اشارہ نہیں کر رہے تھے تو میں نے اس وقت بھی عمومی فضا بننے کے خلاف لکھا اور اس پر میری مخالفت اور ناراضگی ظاہر کرنے والوں کو ایک ہی جواب دیتا رہا کہ جب تک اس کے پسماندگان کسی کے خلاف ایف آئی آر نہیں کاٹیں گے، جو افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں میں ان کے رو میں نہیں بہوں گا۔ جب تک وہ ہسپتال میں تھے تب تک ایک ماحول بنایا گیا جس کو بعد میں کیش کرنا مقصود تھا۔
یہ بالکل ویسی صورت حال تھی جس طرح ضیاء الحق کے مرنے کے بعد اس کے جنازے تک بنائی گئی تھی۔ اس کے بعد جب میں نے عثمان کاکڑ کے سانحے پر ’عوامی ردعمل‘ کو دیکھا تو چونک گیا اور وہ اس لیے کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے دوسرے درجے کے لیڈر کو، جن کی کہیں پر حکومت بھی نہیں تھی، پس از مرگ جو اہمیت مل رہی تھی وہ نارمل نہیں تھی۔ میرا تجربہ مجھے بتا رہا تھا کہ ضرور اس کے پیچھے کوئی دوسری منصوبہ بندی ہے۔ شاندار جنازے کے بعد عثمان کاکڑ مرحوم کو ملی شہید کا لقب دیا گیا تو بات کچھ واضح ہوتی گئی کہ مستقبل میں صرف موجودہ لیڈرشپ کو پیچھے دھکیلنے کا بندوبست نہیں کیا جائے گا بلکہ پارٹی کا بیانیہ ہائی جیک کرنے کے ساتھ ساتھ خان شہید کی طرز پر ملی شہید کا نعرہ بھی عام کیا جا رہا ہے جو آگے جاکر پارٹی کو دولخت کرنے کے وقت بہت مفید اور کارآمد ہو گا۔
میں نے کبھی بھی عبد الصمد خان اچکزئی مرحوم کے لئے خان شہید کا لقب مناسب نہیں جانا۔ وہ کسی حادثے یا سانحے میں شہید ہونے والے صرف شہادت کے واحد لقب کے حقدار نہیں تھے۔ شہید تو اس ملک میں لاکھوں کروڑوں ہیں۔ وہ تو انسانی سیاسی جمہوری حقوق کی خاطر اپنی زندگی کا ہر دوسرا دن جیلوں میں گزارنے والا زندہ ضمیر تھا جس پر انسانیت ہمیشہ فخر کرے گی۔ انہوں تعلیمی صحافتی علمی اور اصلاحی میدانوں جو جدوجہد کی تھی، خان شہید کے لقب نے ان سب پر سایہ کر دیا ہے۔
مجھے کوئی چھ سال پہلے بہت معتبر ذریعے سے معلوم ہو گیا تھا کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی میں ’بغاوت‘ تیار ہے جو مناسب موقع پر محمود خان اچکزئی کے سامنے لائی جائے گی۔ لیکن دوسری طرف محمود خان اچکزئی بھی ایک زیرک سیاستدان ہیں اس لیے انہوں نے اسی مناسب وقت کا انتظار اور انتظام پہلے سے کر رکھا تھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سازش کرنے والے پکڑے جانے پر اپنے کیے پر پشیمانی کا اظہار کر کے شرمندہ ہو جاتے لیکن پھر ’فائدہ‘ کیا تھا۔ محمود خان اچکزئی تو صرف عزت اور پارٹی عہدہ دے سکتا تھا اور وہ ان کو پہلے سے حاصل تھا۔
ایک وقت تھا جس کو اکبر بادشاہ کا زمانہ کہا جاتا تھا، ایک وقت تھا جن کو انگریزوں کی غلامی کا دور کہا جاتا تھا، ایک وقت تھا کہ چور یا سازشی پکڑا جاتا تو وہ شرمندگی کے مارے چپ جاتا یا زیادہ شرمندگی محسوس کرتا تو اپنا علاقہ چھوڑ کر کہیں دور چلا جاتا لیکن اب وہ وقت ہے کہ چور اور سازشی پکڑا جائے تو وہ پکڑنے والے پر الزامات لگا کر شرمندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
جن لیڈران کو پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے نکالا گیا ہے وہ بنیادی اور نظریاتی طور پر قوم پرست نہیں تھے بلکہ ماؤسٹ تھے۔ جنہوں نے محمود خان اچکزئی کی پارٹی میں اس کی غیر موجودگی کے دوران پناہ لی تھی۔ پشتو میں کہتے ہیں کہ آگ مانگنے آئی تھی گھر کی مالکن بنی۔ ان نظریاتی مہاجرین نے بھی یہی کیا۔ پارٹی کو آگے لے جانے کی بجائے یہ اس کی جڑوں میں بیٹھ گئے جس کی وجہ سے وہاں پہلے تو کسی کو آنے نہیں دیا گیا اور کوئی آیا تو اسے ٹکنے نہیں دیا گیا۔ یہ حقیقت پارٹی کے ساتھ تعلق رکھنے والے اور نکالے جانے والے بخوبی جانتے ہیں۔ آگ مانگنے والے اب یہاں تک مالک بن گئے تھے کہ ان کو پارٹی چیئرمین تک کو برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا۔
محمود خان اچکزئی اور نکالے جانے والے لیڈران کے درمیان بنیادی اختلاف موجودہ دور میں اس بات پر ہے کہ ماؤسٹ افغانستان کو روس کی مرضی سے امریکہ کے لئے میدان جنگ بنانے پر مصر ہیں جبکہ محمود خان اچکزئی افغانستان میں مستقل امن کے متمنی ہیں اور چاہتے ہیں کہ طالبان کو دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان میں ایک ہمہ شمول حکومت بنانے میں مدد دی جائے۔ تبھی انہوں نے ان کو اپنے بچے اور خود کو ان کا وزیر خارجہ بتایا تھا تاکہ ان کو پختون ولی کے تحت ایک جرگے کی صورت میں قائل کر کے باقی افغان گروہوں کے ساتھ بٹھا کر کسی متفقہ سیاسی حل پر پہنچایا جائے اور یوں افغانستان اور پاکستان میں موجود پختون جاری جنگ سے کسی طریقے سے نکل کر امن ترقی اور خوشحال زندگی گزاریں۔
پاکستان میں موروثی سیاست کا پروپیگنڈا کہاں سے ہوتا ہے کوئی نہیں جانتا تو وہ سیاست نہیں جانتا۔ اس ملک میں سیاست دو حصوں میں تقسیم ہے جس میں ایک حصہ سیاسی جماعتوں اور دوسرا حصہ غیر سیاسی قوتوں اور ان کے راتب زادوں پر مشتمل ہے۔ غیر سیاسی قوتیں مسلسل سیاسی جماعتوں کو بدنام اور کمزور کرنے میں لگی ہوتی ہیں۔ لیکن ان سازشوں کا مقابلہ سیاسی جماعتوں میں موجود موروثی کردار ادا کرتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ پاکستان میں موروثی سیاست غیر سیاسی قوتوں کی دخل اندازی کے خلاف اینٹی وائرس کی حیثیت رکھتی ہے، جو پیپلز پارٹی میں بینظیر اے این پی میں ولی خان نون لیگ میں مریم نواز جے یو پی میں فضل الرحمان اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی میں محمود خان اچکزئی کی شکل میں نظر آتی ہے۔ اگر بینظیر ولی خان مریم نواز فضل الرحمان اور محمود خان کی موروثی سیاست نہ ہوتی تو پاکستانی سیاست پر کب کا جتوئی چوہدری نثار اور مختیار یوسفزئی جیسے ہمہ وقت منتظر کردار قبضہ کر چکے ہوتے اور یہ پارٹیاں جماعت اسلامی کی شکل اختیار کرچکی ہوتیں۔
پاکستان اور خصوصاً پختونخوا اس وقت ایک نازک سیاسی فکری اقتصادی اور مبنی بر انتشار دلدل میں اترنے والا ہے۔ اس بارے میں اے این پی کیا کرنے جا رہی ہے ابھی اسے خود بھی نہیں پتہ۔ منظور پشتون نے بہت کچھ کرنے کے باوجود، صرف مزاحمت کا جو طریقہ اپنایا ہوا ہے اس کی کوئی واضح سمت نظر نہیں آتی۔ بچتا ہے تو ایک محمود خان اچکزئی جن کے پاس ایک واضح نظریہ، ٹھوس منصوبہ اور طے شدہ اہداف ہیں۔ وہ بلوچستان، موجودہ پختونخوا اور پختونخوا سے کاٹے گئے پختون آبادی پر مشتمل علاقوں کو ایک ایسی وحدت میں پرونا چاہتے ہیں جہاں پر آباد سارے لوگ اس وحدت میں برابر کے حصہ دار ہوں۔
ان کی سیاست علیحدگی اور تقسیم کی نہیں بلکہ اشتمال اور بھائی چارے پر استوار ہے۔ لیکن آگے بڑھ کر وہ اپنا یہ تاریخی کردار ادا نہ کرسکے، اس لیے پہلے ان کو سازش کے ذریعے بے دست و پا کرنے کی کوشش کی گئی اور اس میں ناکامی ملنے کے بعد اب ان کی پارٹی جھنڈے اور نعروں کو چرا کر متوازی تنظیم قائم کرنے کی ناکام کوشش جاری ہے۔
خوشحال خان کاکڑ کو محمود خان اچکزئی کے مقابل آنے اور اپنا مستقبل داؤ پر لگانے کی بجائے اپنی صفوں میں والد کے قاتلوں کو تلاش کرنا چاہیے جن کو اپنی نئی پارٹی کے لئے ایک شہید کی ضرورت تھی، جو انہوں نے عثمان کاکڑ کی شکل میں چن لیا تھا۔ کارکنان کنفیوز ہوں گے لیکن پارٹیوں میں بنائے گئے فارورڈ گروپس اور پارٹیوں سے نکالے گئے خودساختہ لیڈران ہمیشہ خود پرست اور کسی کے پلانٹڈ ہوتے ہیں، جن کا چند دن گزرنے کے بعد کوئی نام و نشان نہیں ملتا۔
جونئیر کاکڑ کو بھی اپنے والد کے ’آرگنائزڈ‘ بڑے جنازے سے کنفیوز ہونے کی بجائے سوچنا چاہیے کہ عثمان کاکڑ مرحوم زندگی میں خود محمود خان اچکزئی کے بغیر کوئی وزن رکھتے ہوتے تو کب کے اپنی الگ پارٹی کا اعلان کرچکے ہوتے۔ یہ بھی سوچیں کہ مختار یوسفزئی بابت لالا اور رضا محمد وغیرہ محمود خان اچکزئی کی لیڈرشپ پر ناراض لیکن اپنے بچے کے برابر خوشحال خان کاکڑ کی لیڈرشپ پر راضی ہیں کیونکہ محمود خان کو اپنی مرضی سے چلانا مشکل اور خوشحال کاکڑ کو چلانا آسان ہے۔ نکالے گئے ممبران کا المیہ یہ ہے کہ وہ سب لیڈر ہیں کارکن نہیں اور جہاں لیڈروں کی اکثریت ہو جائے وہاں پارٹیاں بنتی نہیں تقسیم ہوتی ہیں۔

