چائے کا بیٹا


2737 قبل مسیح کے چینی بادشاہ شین ننگ کے حوالے سے ایک قصہ منسوب ہے کہ وہ کسی باغ میں بیٹھے تھے اور اپنے کارندوں سے کہا کہ وہ اس کے لئے ایک پیالے میں ابلتا ہوا پانی لے کر آئیں تاکہ وہ اسے پی سکے جب پیالہ چینی بادشاہ کے ہاتھ میں دیا گیا تو اسی دوران کسی پودے کے چند پتے ہوا میں اڑتے ہوئے اس پیالے میں آگرے اور ایسے میں بادشاہ کیا دیکھتا ہے کہ ان پتوں کے گرنے سے پانی کا رنگ تبدیل ہو گیا ہے اور جب اس نے یہ پانی پیا تو اسے نہ صرف ایک الگ ہی ذائقہ محسوس ہوا بلکہ راحت بھی میسر آئی، اس کے بعد بادشاہ نے اپنے کارندوں سے کہا کہ وہ اس پودے کو تلاش کریں جس کے یہ پتے ہیں اور اس طرح چائے کا پودا دریافت ہوا۔

چائے جسے انگریزی میں Tea اور چینی میں چا کہتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر میری مادری زبان مارواڑی میں بھی چائے کو چا کہتے ہیں جبکہ برصغیر کی پنجابی سمیت دیگر بڑی بولیوں میں بھی چائے کو چا ہی کہا جاتا ہی اور اس کا اصل وطن مشرقی چین، جنوب مشرقی چین، میانمار اور آسام (بھارت ) ہیں۔ چینی بادشاہ اور چائے کی دریافت کے حوالے سے اس قصے میں کتنی حقیقت ہے اس پر حتمی کچھ نہیں کہا جاسکتا، اگر یہ دیومالائی قصہ ہے تب بھی اپنے اندر ایک ایسی افسانوی حقیقت رکھتا ہے جسے ہمیشہ سے تاریخ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

برصغیر پاک و ہند میں چائے برطانوی سامراج لے کر آئے جسے ابتدا میں دوائی کے طور پر متعارف کروایا گیا اور بعد ازاں یہ ایک خوش ذائقہ اور راحت بخش مشروب ٹھہرا۔ لیکن برصغیر والوں نے اس چائے کے ساتھ یہ بدعت بھی کر ڈالی کہ اس میں دودھ کی آمیزش کر دی۔ اس ضمن میں میرے مرشد امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اپنی کتاب غبار خاطر میں لکھتے ہیں کہ چائے میں دودھ کی آمیزش کر کے ہندوستانیوں نے اس کو آلودہ کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ہندوستان کے لوگ چائے نہیں پیتے بلکہ چائے کے نام پر سیال حلوہ کھاتے ہیں۔

حالانکہ مولانا ابوالکلام آزاد کی طرف سے اس کتاب میں چائے کے عنوان پر اپنے قلم کی بہت سی سیاہی کا ضیاع کیا گیا لیکن وہ پھر بھی کالی چائے کا تحفظ یقینی نہیں بنا سکے۔ کہا جاتا ہے کہ یورپ والوں کا سولہویں صدی کے ابتدا میں چائے سے تعارف ہوا اور اس وقت پرتگالی چائے کی پتی کی تجارت کرتے تھے لیکن ہندوستان میں چائے کا استعمال برطانوی سامراج کے دور میں ہوا حالانکہ چائے بھارت کے پڑوس چین میں پائی جاتی تھی اور خود اس کے بعض حصوں میں بھی چائے کے پودے پائے جاتے تھے لیکن وہ چائے سے تعارف نہیں رکھتے تھے۔

میرا یہ دعوی کہ دنیا میں میرے ہونے کا احساس ڈھائی ہزار قبل مسیح سے ہے۔ جی ہاں کان کھجانے، کندھے اچکانے، ناخن چبانے اور زبان دانتوں میں دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ دعوی خالصتاً تشبیہات اور اشتعاروں پر مشتمل ہے جو عربی ادب کی اصناف میں سے ایک صنف ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ میں چائے کثرت سے پیتا ہوں اور اگر یوں کہا جائے کہ میں چائے کا دھتی ہوں تو بے جا نہ ہو گا۔ اس ضمن میں میرے والدین کا کہنا ہے کہ میں ڈھائی تین برس کی عمر یعنی کمسنی سے چائے پینے کا شوق رکھتا ہوں اور یہ شوق میرا اپنی زندگی کے ابتدائی پانچ برس میں ہی میری علت بن گئی۔

میرے والد بزرگوار اس حوالے سے اکثر مجھے کہتے ہیں کہ تم نے اپنے بچپن میں بہت زیادہ تھرماس توڑے ہیں کیونکہ میرے بچپن میں میرے سرہانے چائے سے بھرا تھرماس دھرا ہوتا تھا جبکہ اس ضمن میں میری والدہ ماجدہ کا کہنا ہے کہ میں جب بھی نیند سے بیدار ہوتا تو دودھ کی جگہ چائے طلب کرتا اور بسا اوقات نیند میں میرے ہاتھ ہلانے سے پاس رکھا ہوا تھرماس زمین پر گر پڑتا اور یوں تھرماس کی زندگی تمام ہو جاتی اور نیا تھرماس لایا جاتا۔

چائے پینے کی علت آج بھی مجھ سے لپٹی ہے یا یوں ہے کہ میں چائے کے ساتھ جڑا ہوں، یعنی میری رگوں میں چائے خون بن کر دوڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں جب سوچتا ہوں تو چائے کے ساتھ سوچتا ہوں، جس قدر چائے گرم ہو اتنے ہی تازہ افکار، خیالات اور تصورات میرے ذہن میں ابلنے لگتے ہیں۔ بس یوں ہے کہ چائے مجھ سے ہے اور چائے سے میں ہوں، ایسا ہے کہ میں چائے کا بیٹا ہوں۔ لیکن یہاں ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ میں چائے کا ہی بیٹا نہیں ہوں بلکہ مجھے الدخان نے بھی گود لے رکھا ہے یعنی میں دھویں کا لے پالک بھی ہوں۔

اب یوں ہے کہ مجھ سے چائے کے ساتھ سگریٹ کی علت بھی جڑی ہے۔ چائے اور سگریٹ کا یہ حسین امتزاج بھی میرے ساتھ ایسے ہی ہے جیسا کہ چینی بادشاہ کا چائے کا دریافت کرنا ہے۔ اس ضمن میں مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ قصہ بیان کرنا ناگزیر ہے کہ مولانا آزاد تحریک آزادی کے دنوں میں قلعہ احمد نگر میں قید تھے اور اس دوران ان کا روز کا یہ معمول تھا کہ وہ صبح سویرے یعنی تڑکے سے پہلے چار بجے اٹھتے اور سب سے پہلے کالی چائے ( قہوہ) بناتے اور اسے اپنی فنجان میں ڈالتے اور قہوے کا پہلا گھونٹ لینے سے پہلے اپنی سگریٹ بھی سلگا لیتے اور اس طرح ایک گھونٹ چائے کا لیتے اور ایک کش سگریٹ کا لگاتے۔

مولانا لکھتے ہیں کہ ہر بار یہ حسین اتفاق ہوتا کہ چائے کے آخری گھونٹ کے ساتھ ہی سگریٹ بھی آخری کش پر آجاتی، یعنی دونوں چیزوں کا اختتام ایک ساتھ ہوتا۔ اب یوں ہے کہ دنیا میں میرے ہونے کا احساس ڈھائی ہزار قبل مسیح کے چینی بادشاہ سے ہو کر انیسویں اور بیسویں صدی کے مولانا ابو الکلام آزاد تک سے ہوتا ہوا مجھ تک یعنی میرے مجسم ہونے تک پہنچا ہے۔

Facebook Comments HS