خوشحال خان کاکڑ اور نصراللہ زہری کے چیلنجز
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ایک دھڑے کی باگ ڈور دو نوجوان اور توانا لیڈروں نے سنبھال لی ہے۔ حالانکہ پارٹی کے نام کا دعویٰ محمود خان اچکزئی بھی کرتے ہیں کہ وہ حقیقی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین ہیں۔ دوسری طرف قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور پھر معزز عدالتیں اس حوالے سے فیصلہ کریں گی کہ پی کے میپ کا نام کس گروپ کو دیا جائے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نومنتخب چیئرمین خوشحال خان کاکڑ 25 سالہ نوجوان رہنما ہیں جو سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کے بڑے صاحبزادے ہیں جب کہ دو بار رکن صوبائی اسمبلی رہنے والے جناب نصر اللہ خان زہری پارٹی کے صوبائی صدر منتخب ہوئے ہیں۔
خوشحال خان کاکڑ کے پاس اپنے والد عثمان خان کاکڑ کی شہادت کا فیکٹر بھی موجود ہے جس کا وہ اپنی سیاسی جدوجہد میں بھرپور فائدہ اٹھا بھی رہے ہیں۔ ایک بات جو یقینی ہے وہ یہ کہ خوشحال کاکڑ ایک کرشماتی اور بڑا ہجوم اکٹھا کرنے والا لیڈر بن چکا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور طالبان کے حوالے سے اپنے سخت گیر موقف کی وجہ سے انہیں پارٹی کی جانب سے زبردست حمایت اور پذیرائی مل رہی ہے۔
دوسری طرف، نصر اللہ زہری ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں جنہوں نے تقریباً تین دہائیاں پی کے میپ میں گزاری ہیں اور دو مرتبہ ایم پی اے رہ چکے ہیں۔ وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک عوامی رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں جن کی شہرت ایک فون کال پر عام شہریوں کے لیے ہمیشہ دستیاب رہنے کی ہیں۔ وہ گراس روٹ لیول سے لوگوں کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور پی کے ایم اے پی میں تقسیم کے بعد سے ہم جو مشاہدہ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ نصر اللہ خان زہری پارٹی میں عثمان خان کاکڑ کی طرح یونٹ لیول سے گراس روٹ لیول پر پارٹی کو منظم کر رہے ہیں۔
خوشحال خان کاکڑ اور نصر اللہ خان زہری دونوں کے سامنے متعدد چیلنجز ہیں۔ ایک طرف وہ تجربہ کار سیاستدان محمود خان اچکزئی کو پالیسی معاملات اور پارٹی کے اندر جمہوریت کو نظرانداز کرنے پر (جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں ) الوداع کہہ چکے ہیں۔ ان دونوں لیڈروں کو مستقبل میں انہی جمہوری اصولوں اور اقدار پر قائم رہنے کے لیے ایک ایسے معاشرے میں جہاں پر زئی، خیلی اور فیوڈلزم سرایت کرچکے ہو کے لیے ان تھک جدوجہد کرنے پڑے گی۔ وہ اپنے ان جمہوری وعدوں کی کیسے تکمیل کرتے ہیں یہ ان کے لیے ایک حقیقی چیلنج ہو گا۔ کیا وہ پارٹی کے اندر سوال اٹھانے اور پالیسیوں پر اختلاف رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں گے یا حوصلہ شکنی؟ اس بابت ان کی قیادت کا امتحان شروع ہو چکا ہے۔
مزید براں پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن جو کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا اہم بازو رہا ہے۔ وہ پی ایس او جو کبھی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو قیادت فراہم کرنے کے لئے نرسری کا کام کر رہی تھی، اب بدحالی کا شکار ہے۔ پارٹی کی طرح یہ بھی تقسیم ہو چکی ہے۔ کیا خوشحال خان کاکڑ اور نصراللہ خان زہری پی ایس او کو دوبارہ صحیح ڈگر پر ڈال سکیں گے؟ یہ دونوں کے لیے کڑا امتحان ہو گا۔ اگلے عام انتخابات زیادہ دور نہیں۔ کیا خوشحال خان کاکڑ اور نصراللہ خان زہری اپنے ووٹرز کو متحرک کرنے اور محمود خان اچکزئی کو ٹف ٹائم دینے میں کامیاب ہوں گے؟ جو کہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور کیا وہ ووٹرز کو اپنی طرف کھینچ پائیں گے؟ یہ ان کے لیے ایک اور امتحان ہو گا۔ خوشحال خان کاکڑ اور محمود خان اچکزئی دونوں خود کو پی کے میپ کے چیئرمین ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس ضمن میں خوشحال خان کاکڑ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اپنا کیس کیسے پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں؟ اس حوالے سے ان کو قانونی مسائل کا سامنا پڑ سکتا ہے۔ وہ اس چیلنج سے کیسے نمٹتے ہیں۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی میں داخلہ امور، خارجہ پالیسی اور معاشی ماہرین کی شدید قحط پائی جاتی رہی ہے۔ کیا خوشحال کاکڑ اور نصراللہ زہری اس اہم ترین چیلنج سے نمٹنے میں کامیاب ہو سکیں گے؟ کیا وہ ان امور کے حوالے سے بہترین ٹیم تیار کر سکیں گے؟ اور کیا وہ پارٹی کو جدید سائنسی بنیادوں پر چلانے میں کامیاب ہو سکیں گے جن کی شدت محسوس ہوتی رہی ہیں مزید براں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی میں انٹلیکچوئل طبقے کو پالیسی کے معاملات میں شامل کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ پارٹی کے ایسے بے تحاشا لکھاری ہیں جو اپنی کتابیں استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے چھاپنے سے قاصر ہے۔ کیا خوشحال کاکڑ اور نصراللہ زیرئی عوامی نیشنل پارٹی کی طرز پر باچا خان مرکز کی طرح ایسا میکانزم بنا سکیں گے جو ان کتابوں کو پبلش کرے؟ کیا وہ میڈیا کو ہینڈل کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی پالیسیوں کے حوالے سے پارٹی کے نمائندوں اور ماہرین کی ٹیم بنا سکیں گے؟ ان سب چیلنجز کے جوابات کے لئے انتخابات تک کے اگلے ماہ اہم ہے۔


