ناول: زرد پتے، مصنف: خلیل جبران (تبصرہ) ۔


خلیل جبران کا ”زرد پتے“ ایک شاندار تاریخی ناول، جو مذہبی لوگوں اور سرمایہ داروں کے درمیان گٹھ جوڑ کے بارے میں ہے۔ اس ناول میں سرمایہ دار طبقہ اور چرچ کے پادری اپنے زیر اثر لوگوں کے خلاف ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یہ گٹھ جوڑ لبنان میں اس وقت ہوا جب مصنف اپنی جوانی کے سالوں میں قدم رکھ رہے تھے۔

مصنف اس معاشرے کے لوگوں کو تین بڑی اقسام میں تقسیم کرتے ہیں ؛ سرمایہ دار، مذہبی اور غریب! خلیل نامی شخص اس وقت یتیم ہو جاتے ہیں جب وہ اپنی زندگی کی ساتویں خزاں گزار رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے علاقے کے چرچ میں پناہ لیتے ہیں۔ وہ چرچ کے مویشیوں کا چرواہا بنائے جاتے ہیں۔ اور ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی؛ مفلسی، فرمانبرداری اور پاکدامنی میں گزارنے کا حلف اٹھائیں۔ خلیل اس بات کی اطاعت کرتے ہیں لیکن وہ دیکھتے ہیں کہ پادری اور چرچ کے دوسرے لوگ پرتعیش زندگی گزارتے ہیں۔ وہ تازہ کھانا کھاتے ہیں اور پر سکون بستروں پر سوتے ہیں۔ دوسری طرف خلیل حلف اٹھائے ہوئے ہیں ؛ وہ ایک حقیقی بے سہارا زندگی گزارتے ہیں ؛ باسی کھانا کھاتے ہیں اور بے پردہ فرش پر اندھیرے کمرے میں سوتے ہیں۔

ایک دن خلیل کو معلوم ہوتا ہے کہ جن جگہوں پر پادریوں نے اپنے چرچ اور خانقاہیں بنا رکھی ہیں وہ غریب محنت کش طبقے کی ہیں۔ یہ جگہیں ایک سرمایہ دار، شیخ عباس نے بے سہارا مکینوں سے زبردستی چھین کر چرچ کے لوگوں کو دی ہیں اور اس کے بدلے میں پادری شیخ کے کھیتوں اور باغات کی حفاظت؛ لوگوں میں اطاعت کا جذبہ، قسمت پر صبر، اور ہر چیز کی فنا پر تلقین کرنے سے کرتے ہیں۔ خلیل کو جیسے ہی گٹھ جوڑ کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے، وہ چرچ کے لوگوں کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں اور ان سے کتاب کی تعلیمات کے مطابق غریب لوگوں کی تمام زمینیں واپس کرنے کو کہتے ہیں۔ پادری اسے چرچ سے باہر پھینک دیتے ہیں اور اسے کافر کہتے ہیں۔ سردیوں کی ٹھنڈی رات میں، اسے ایک عورت، راحیل اور اس کی بیٹی مریم بچا لیتے ہیں۔

دو ہفتے بعد ، ایک پادری، الیاس شیخ کو مطلع کرتے ہیں اور اس سے ”کافر خلیل“ کو سزا دینے کا کہتے ہیں۔ شیخ عباس خلیل کو اپنے سپاہیوں کی مدد سے لاتے ہیں اور تمام غریب لوگوں کی موجودگی میں اسے کھلی عدالت میں سزا دینے کا ارادہ کرتے ہیں۔ جب شیخ خلیل سے چرچ کے احکامات کی نافرمانی کی اپنی کہانی سنانے کو کہتے ہیں، تو خلیل، ایک فصیح و بلیغ مقرر آگے بڑھ کر وہ ساری کہانی سنا دیتے ہیں جو چرچ اور شیخ کے گٹھ جوڑ کے پیچھے تھی۔

وہ شیخ عباس کو زمینوں کا قابض اور غریب عوام کو زمینوں کے اصل مالک قرار دیتے ہیں۔ وہ تمام غریبوں کو چرچ اور شیخ کی چھپی سازش کے بارے میں بتا کر قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ شیخ اپنے سپاہیوں کی مدد سے اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کوئی اس کی مدد نہیں کرتا۔ خلیل چرچ اور شیخوں کے چنگل سے غریب لوگوں کو زمینیں واپس کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اب ہر کسان اپنے کھیتوں اور ان کی پیداوار کا مالک ہے۔ جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں۔ خلیل اب بھی لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اناج جمع کرنے، جوس نچوڑنے اور پھلوں کو توڑنے میں حصہ لیتے ہیں۔

زرد پتے اس وقت کے سرمایہ داروں کے خلاف بغاوت اور اشتراکی نظام پر مبنی معاشرے کی تشکیل کی ایک گہری، دل کو چھو لینے والی کہانی ہے، جو آنے والے طویل عرصے تک لوگوں سے جڑی رہے گی۔

Facebook Comments HS