سیاست دان، الزامات اور مکافات عمل
قدرت کا اپنا کھیل، اپنا نظام ہے۔ بشری بی بی کی مبینہ آڈیو لیک سن کر یقین آ گیا کہ ہر چیز پلٹ کر آتی ہے۔
سن اٹھاسی جنرل ضیا کی موت کے بعد سیاسی سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف دو بڑے کھلاڑی کے طور پر ایک دوسرے کے سامنے آئے، بلکہ ”لائے“ گئے۔ بے نظیر بھٹو تو اپنے والد کی سیاسی میراث کی وجہ سے ابھریں مگر نواز شریف کو اسی طرح لانچ کیا گیا جس طرح جنرل پرویز مشرف کے ہٹنے کے بعد عمران خان کو ادارے کی جانب سے تیسری قوت کے طور پر لانچ کیا گیا تاکہ جو خفت و ہزیمت جنرل مشرف کو مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے ہاتھوں اٹھانا پڑی، اس کا مستقبل میں ازالہ اور بندوبست کیا جا سکے۔
سن اٹھاسی سے نوے تک نواز شریف اور اس کے سرپرستوں نے اس وقت کے ”اسلام دوست“ میڈیا کی خدمات لے کر پیسہ پانی کی طرح بہا کر ثابت کیا کہ بے نظیر بھٹو اخلاق باختہ ہے۔ اور جب وہ وزیراعظم بن گئیں تو دن رات پروپیگنڈا کیا کہ وہ سکیورٹی رسک ہے۔ غدار ہے، بھارتی ایجنٹ ہے۔ وغیرہ
اسی طرح عمران خان اور اس کے سرپرستوں نے اپنے وقت کے میڈیا کو اسی طرح استعمال کیا اور نواز شریف کو نیچا دکھانے کے لیے مریم نواز پر کیچڑ اچھالنا حب الوطنی کا تقاضا گردانا۔ وہی غداری کے الزام جو بے نظیر بھٹو پر لگے، اس سے کئی گنا زیادہ شدت سے کئی من پسند ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر نواز شریف کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا گیا اور انتہائی نا مناسب انداز میں ان ٹی وی چینلز پر شریف فیملی کی کردار کشی ”سرپرستی“ میں جاری رہی اور عوام کے ایک طبقے کا جزو ایمان بن گئی۔ گویا قدرت کی طرف سے بے نظیر بھٹو کی کردار کشی کی سزا تھی۔
پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی کردار کشی کرنے والے اس سزا سے بچ جاتے۔ اب جو آڈیو ویڈیو لیکس آ رہی ہیں، اسی بے رحم سلسلہ کی توسیع ہے۔
جو اینکر و تجزیہ گرد ہر روز بلا ناغہ اپنے پروگرام کا آغاز ہی اس بات سے کرتے تھے کہ نواز شریف اپنے ملک کی فوج کو کمزور کر کے بھارت کے ایجنڈے پر کام کرتا ہے، وہی آج کل آرمی، ادارے کے خلاف پروگرام یا ولاگ کر کے ”چور چوکی دار“ کہہ رہے ہیں۔
بے نظیر بھٹو کو ”عورت“ اور ”کمزور ہدف“ سمجھ کر گولہ باری کرنے والے کس طرح قدرت کے نظام عدل سے بچ پاتے، ان کو بھی مکافات عمل سے گزرنا پڑا اور اب ”ان“ کی باری شروع ہے جو مریم نواز پر کیچڑ اچھالتے رہے
روحانیت اور روحونیت کی مالا جپنے سے، تسبیح کے دانے پھیرنے سے ہی من کی صفائی نہیں ہوتی۔
بشری بی بی کی آڈیو لیکس سن کر یونہی، یونہی میرے دل میں خیال آیا کہ مرشد گھبرانا نہیں ہے۔ یہ سائیکل یوں ہی چلتا رہے گا۔ کچھ نام، ادارے، پالیسی اور مہرے سیاست دان بدلتے رہیں گے اور یہ سب ایک دوسرے سے ذلت کما کر اپنے حاشیہ نشینوں سے ”عزت“ کا تقاضا کرتے رہیں گے۔


