جنگلے کے اُس پار کا پھول
دسمبر شدید ٹھنڈ کے ساتھ ساتھ اداسی کا مہینہ بھی خیال کیا جاتا ہے ۔ معلوم نہیں کہ ان دونوں میں کوئی طبی یا سائنسی تعلق ہے، اس میں محبوب کی یاد کچھ زیادہ ستاتی ہے، یا پھر سال کا الوداعی مہینہ ہونے کے سبب شاعروں اور ادیبوں نے اس میں ہجر کا پہلو تلاش کر لیا ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو، اس میں کم از کم مجھ پر اداسی کا غلبہ رہتا ہے۔ اور اگر مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جائے یا کوئی اداس خبر مل جائے تو ایسی کیفیات کا اثر دو آتشہ ہو جاتا ہے ۔
دسمبر کی پانچ تاریخ کو پروفیسر شاہد آزاد کی فیس بک پوسٹ کے ذریعے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چکوال (موجودہ یونیورسٹی آف چکوال) سے انگریزی ادب کے ریٹائرڈ پروفیسر چوہدری لیاقت علی خان کے انتقال کی خبر ملی۔ پوسٹ کے لفظ لفظ ہی نہیں انگ انگ سے دکھ، کرب اور بے چارگی ٹپکتی تھی۔ ”اداسی ہے کہ امڈتی ہی چلی آتی ہے۔ ایک بے انتہا چپ کی طلب اور ایک بے انت خلا۔ چند گھنٹے قبل پروفیسر چوہدری لیاقت علی خان موت سے لڑتے لڑتے اسی کے ساتھ ہو لیے ۔“
سائنس والے کہتے ہیں کہ ہمارے اندر مرر نیوران ہوتے ہیں۔ ان کے زیر اثر دوسروں کو جمائی لیتے دیکھنے پر ہمیں جمائی آ جاتی ہے، ان کی مسکراہٹ ہمارے چہروں پر مسکراہٹ لے آتی ہے اور دکھ بھری چیز دیکھ یا پڑھ کر ہمارے اندر بھی اس کا اثر اتر آتا ہے۔ لیاقت صاحب کی وفات اور شاہد صاحب کے الفاظ کے انتخاب نے مجھے بھی اس کیفیت کی چادر میں لپیٹ لیا۔ سچ پوچھیں تو میں اپنی کیفیت کو خود بھی پوری طرح سے نہ سمجھ پایا۔ میرا ان کے ساتھ براہ راست کوئی قریبی تعلق نہ تھا۔
نہ تو ان کے پسندیدہ شاگردوں میں سے تھا اور نہ کبھی ان کی محفلوں میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ البتہ ایک اور تعلق تھا، ذرا دور دور سے، ذرا مختلف قسم کا تعلق۔ وہ چکوال کالج میں جس فکری قبیلے کے سردار، سپاہ کے سالار اور تحریک کا دماغ اور اس کے روح رواں تھے ہم اس کے مقابل صف آرا قبیلے، سپاہ اور تحریک کے ایک معمولی اور گمنام سے کارکن تھے۔ یہ بھی تو تعلق کی ایک قسم ہے ناں! اسی رشتے کی بنا پر یوں لگا کہ کوئی اپنا کھو گیا ہے۔
بطور طالب علم ان سے تعامل کبھی کبھار ہوتا رہا لیکن ملاقات، اگر اسے ملاقات کہا جا سکے تو وہ زندگی میں ایک ہی ہے۔ کم و بیش 10 برس قبل اپنے ایک عزیز دوست ملک آصف جاوید سے ملنے الائیڈ پارک گیا تو دونوں صاحبان علم کو ایک ہی بنچ پر بیٹھے محو گفتگو پایا۔ میرے لئے یہ منظر خلاف توقع تھا، اس لئے کہ چوہدری صاحب بھلے ہمہ جہت شخصیت ہوں لیکن میرے لئے وہ سب سے پہلے ایک ترقی پسند دانشور تھے۔ دوسری طرف ملک صاحب بھی اپنوں اور غیروں کی نظر میں جو کچھ ہوں، میری نظر میں جماعتیے ہی ہیں۔
سلام دعا کے بعد آصف جاوید نے پروفیسر صاحب سے میرا تعارف کرایا، اور جانے انہیں کیا سوجھی کہ ساتھ یہ لقمہ بھی دیا کہ موصوف کمیونزم کے شدید مخالف اور کمیونسٹ دشمنی میں آخری حدوں کو پہنچے ہوئے ہیں۔
میں پروفیسر صاحب کے سامنے اپنے اس طرح کے تعارف کے لئے ذہنی طور پر تیار نہ تھا لہٰذا کچھ سٹپٹا سا گیا۔ پروفیسر صاحب مسکرائے، اور بولے کہ کوئی بات نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ سر، مجھے آج آپ کے سامنے ایک اعتراف کرنا ہے اور وہ یہ کہ میں نے عمر بھر آپ سے نفرت کی ہے، اور سچ پوچھیں تو بلاوجہ کی ہے۔ مجھے اختلاف تک ہی رہنا چاہیے تھا۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ انسانوں کی بھلائی اس سے مختلف نظریے میں ہے جسے میں درست سمجھتا ہوں تو اس میں نفرت کا کیا جواز؟ مادیت پرستی اور چھینا جھپٹی کے اس دور میں اگر کوئی شخص ذاتی مفاد سے بالا ہو کر کسی نظریے کے ساتھ کھڑا ہے تو وہ انمول ہے اور اس کی قدر کی جانی چاہیے، اور پھر کمیونسٹوں کی کمٹمنٹ تو کمال کی ہے۔
انہوں نے توجہ سے اس طالب علم کی بات سنی اور پھر کہنے لگے کہ آپ سے کوئی گلہ نہیں۔ اصل میں میرے خلاف پروپیگنڈا اتنا زیادہ اور شدید تھا کہ لوگ مجھے پتا نہیں کیا سمجھنے لگے۔ آپ نے جن احساسات کا ذکر کیا، اس میں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ میں کلاس میں پڑھا رہا ہوتا تو کالج میں نئے نئے آنے والے فرسٹ ائر کے بچے مجھے دروازوں اور کھڑکیوں سے جھانک جھانک کر دیکھتے، جیسے میرے سر پر کوئی سینگ نکل آئے ہوں۔
رفتگان کی یاد میں کچھ لکھنا ایک حسین روایت ہے اور سچ پوچھیں تو پروفیسر شاہد آزاد اور نبیل ڈھکو نے مزید کچھ لکھنے کو چھوڑا ہی نہیں ہے۔ البتہ ایک پہلو ذرا تشنہ ہے، اور وہ ہے ایک مخالف کی نظر سے ان کی شخصیت کا جائزہ لینا۔ قریبی تعلق نہ ہونے کی وجہ سے تجزیہ تو شاید کچھ زیادہ اچھا نہ ہو سکے، چلیں کچھ یادیں ہی تازہ کر لیتے ہیں۔
1988 میں میٹرک کے بعد جب کالج پہنچا تو جن اولین عوامل سے متعارف ہوا، ان میں کچھ طلبہ تنظیمیں اور ایک پروفیسر صاحب تھے جن کے بارے میں شد و مد سے سنا کہ وہ خدا کو نہیں مانتے۔ اگرچہ آج کے دور میں الحاد ایک فیشن بن گیا ہے لیکن تب، کم از کم چکوال کی حد تک یہ صورت حال نہ تھی۔ ہم بھی فرسٹ ائر کے ان بچوں میں شامل تھے جنہیں ”خدا کا دشمن“ پروفیسر دیکھنے کا اشتیاق تھا، سو پہلے پہل انہیں نظریں بچا کر اور ذرا دور سے ہی دیکھا۔ باڈی بلڈروں جیسا مضبوط جسم، گھنی سیاہ مونچھیں، جٹکی سٹائل کا بھاری بھرکم لہجہ، گونج دار آواز، آستینیں کے کف اور قمیض کے اوپری بٹن اکثر کھلے ہوئے۔ عجیب رعب دار قسم کی شخصیت تھی۔
نظریاتی اور مزاج کی ہم آہنگی کے سبب اسلامی جمیعت طلبہ اپنے من کو بھائی اور جب اس تنظیم کے ساتھ وابستگی ہو گئی تو اس کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا۔ جب داخلہ مہم چلی تو نئے طالب علموں کے داخلہ فارموں کی تصدیق کے لئے ہمیں کسی پروفیسر کے پاس جانا ہوتا تھا۔ میں یہ فارم لئے بالعموم ان اساتذہ کے پاس جاتا جو دائیں بازو کے یعنی اسلام پسند شمار ہوتے تھے۔ سچی بات ہے کہ ان کے پاس جاتے ہوئے گھبراتا تھا۔
ایک تو وہ اصل اسناد ساتھ لانے کو کہتے جو اکثر طلبہ کے پاس نہٰیں ہوتی تھیں۔ دوسرا، ساتھ ساتھ وہ کچھ جلی کٹی بھی سناتے جاتے تھے۔ جب اس مشکل کا ذکر اپنے ناظم تبسم مرتضیٰ سے کیا تو کہنے لگے کہ آپ چوہدری لیاقت صاحب کے پاس چلے جایا کریں۔ میرے چہرے پر بننے والے بڑے سے سوالیہ نشان کو بھانپتے ہوئے بولے کہ وہ بہت مختلف آدمی ہیں، کم از کم اپنے ”پسندوں“ سے اچھے ہیں۔ البتہ ایک مشورہ بھی دیا کہ پین اپنا لے کر جانا اور وہ انہیں فوراً پیش کرنا، اس لئے کہ ان کے پاس ہمیشہ سرخ روشنائی والا پین ہوتا ہے۔ ہمیں ان کی صرف تصدیق چاہیے، ان کے سرخ نظریات نہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ طلبہ سے ایسے جملوں کی ٹرانسلیشن کراتے ہیں کہ ”وہ دیوار پر سرخ رنگ کرا رہا ہے، مجھے سرخ رنگ پسند ہے، وغیرہ وغیرہ۔“
میں ہمیشہ جمیعت کا ”اللہ اکبر“ والا انسگنیا سینے پر سجا کر ان کے پاس جاتا۔ اس کے باوجود کبھی ان کی طرف سے انکار تو درکنار، ماتھے پر شکن تک نہ پائی۔ انہوں نے کبھی اصل فارم لانے کا تقاضا نہ کیا۔ میں ہمیشہ ان کے پاس خوشی خوشی جاتا اور خوشی خوشی واپس آتا۔ ان کی عالی ظرفی نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا۔ البتہ ایک بات، کہ میرے پین پکڑانے سے پہلے وہ اپنا قلم نکال لیتے۔ استاد بہرحال استاد ہے۔
ان کی ہمت، جرات اور اعلیٰ ظرفی کی مثال کے طور پر ایک اور منظر آج بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے۔ ایک دفعہ جمعیت نے کسی ایشو پر کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ ہم لوگ ”بائیکاٹ، بائیکاٹ“ کے نعرے لگاتے اس کلاس روم کے دروازے پر پہنچے جہاں چوہدری صاحب پڑھا رہے تھے۔ ایک کارکن نے ان سے کلاس چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کلاس سے کہا کہ جو لڑکے ان کے ساتھ جانا چاہیں، جا سکتے ہیں، لیکن کوئی بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ معاملے کو یوں چھوڑنے کا مطلب ہار تھی لہٰذا چند کارکن زبردستی کلاس ختم کرانے آگے بڑھے۔
چوہدری صاحب کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے آستین چڑھا لی اور بولے ”جو زیادہ بدمعاش ہے، سامنے آئے۔“ اصغر اقبال طور اس وقت ناظم ضلع تھے۔ فوراً آگے بڑھے، معاملے کو سنبھالا اور بولے کہ ”نہیں سر! آپ ہمارے استاد اور قابل احترام ہیں۔ ہم واپس جا رہے ہیں۔“ انہوں نے سر کو پکڑ کر کرسی پر بٹھا دیا۔ جب جلوس واپس پلٹا تو انہوں نے کلاس ختم کی اور بولے، ”جاؤ بھئی سب لوگ، ان کے ساتھ جاؤ۔“
کالج میں ان کے حامی طلبہ کا ایک جتھا تھا جس کے جمعیت کے ساتھ یا جمعیت کے اس کے ساتھ اکثر پھڈے رہتے۔ چوہدری صاحب کھل کر اپنے حلقے کی حمایت، مدد اور پشتی بانی کرتے جبکہ اسلام پسند اساتذہ ہماری حمایت میں ہمیشہ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے۔ نبیل ڈھکو نے لکھا کہ دائیں بازو کے اساتذہ نے ایک موقع پر جمعیت کو ٹاسک دیا کہ وہ ترقی پسندوں کی طرف سے ڈرامے کا انعقاد زبردستی روک دیں۔ چونکہ ہمارے ہاں مخالفین کو براہ راست جاننے کا کلچر ذرا کم ہے، اس لئے ان سے گلہ نہیں ورنہ جمعیت نے ”ٹاسک دینے“ ٹائپ کا مینڈیٹ کسی اور کو تو درکنار کبھی اپنی مادر تنظیم جماعت اسلامی کو بھی نہیں دیا۔ جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد اور جنرل ضیاء الحق میں جب ماموں بھانجے کا رشتہ تھا تب جمعیت مارشل لاء کے خلاف تحریک چلا رہی تھی اور اس کے ناظم اعلیٰ کو کوڑے مارنے کی سزائیں سنائی جا رہی تھیں۔
اشرف آصف دائیں بازو کے دانشور، شاعر اور جماعت اسلامی کے مقامی راہنما ہیں۔ وہ چوہدری صاحب کے شاگرد بھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب کے بارے میں ان کی رائے دریافت کی تو کہنے لگے کہ انہوں نے اپنے نظریات کا پرچار زبردست طریقے سے کیا اور اپنا حلقہ اثر قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ ہم اسلام پسندوں کو ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے خصائص یا فضائل بیان کرتے ہوئے بولے کہ پہلی بات یہ کہ ان کی اپنے نظریات کے ساتھ کمٹمنٹ کمال کی تھی اور وہ ان کے لئے ہر قربانی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔
دوسری بات، وہ لوگوں کی ذہن سازی اور ان کی فکری تربیت کرتے تھے۔ اس کے لئے انہیں کتابیں تجویز ہی نہ کرتے بلکہ خرید کر بھی دیتے تھے۔ تیسری بات، وہ اپنے زیر تربیت لوگوں پر ذاتی حیثیت میں اپنی مالی حیثٰیت سے بڑھ کر اور بے پناہ خرچ کیا کرتے تھے۔ داعی کے لئے یہ بہت اہم بات ہے۔ چوتھی بات، ان میں ٹھہراؤ کمال کا تھا۔ وہ مخالف کی مخالفانہ باتوں پر کبھی طیش میں نہیں آیا کرتے تھے۔ جب اگلا بحث پر اتر آتا تو وہ خاموشی سے موضوع بدل دیا کرتے تھے۔ صرف اختلاف رائے پر تعلق نہیں توڑا کرتے تھے۔
مجھے نہیں معلوم کہ ان کا فکری سفر کہاں جا کر اختتام پذیر ہوا۔ تاہم جانے کیوں مجھے وہ ان لوگوں میں سے لگتے تھے جو کبھی نہیں مر سکتے۔ مجھے ان کے انتقال کی خبر ذرا دیر سے ملی لہٰذا جنازے میں پہنچنا مشکل تھا۔ تاہم اس کی وہ وجہ ہر گز نہ تھی جو اپنے ایک فکری دوست نے بتائی کہ ”بھائی، جنازہ صرف مسلمانوں کا ہوتا ہے۔“ دلوں کے حال اللہ جانتا ہے اور میرے لئے تو ان کا ”کامریڈ لیاقت“ سے ”لیاقت صوفی“ ہوجانا، اور کسی کی کوئی بات یا جملہ پسند آنے پر بے ساختہ ”سبحان اللہ“ کہنا کافی ہی نہیں، بہت کافی ہے۔ بقول حالیؔ
قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا
اک بندۂ نا فرماں ہے حمد سرا تیرا
اور جہاں تک حقوق العباد کا تعلق ہے، تو ان کی بجا آوری میں وہ بہت سے دین داروں سے بہت آگے تھے۔ اگر کوئی ہم سے اچھا سلوک کرے تو ہمیں اچھا لگتا ہے لیکن اگر کوئی ہمارے بچوں کے ساتھ اچھا کرے تو ہم زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے کہ ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کا عیال یعنی کنبہ ہے۔ پس اللہ کو اپنی ساری مخلوق میں زیادہ محبت ان بندوں سے ہے جو اس کے عیال کے ساتھ احسان کریں۔ دنیا شاہد ہے کہ چوہدری صاحب نے عمر بھر عیال اللہ سے محبت اور احسان کا رویہ اختیار کیا ہے۔
سرسبد کے معانی ٹوکری کے ہیں جبکہ گل سرسبد سے مراد وہ پھول ہے جسے اس کی خوبصورتی کی بناء پر پھولوں بھری ٹوکری کے اوپر رکھ دیا جاتا ہے تاکہ وہ اور بھی خوشنما معلوم ہو۔ چوہدری لیاقت اگرچہ وہ پھول ہیں جو ہمارے جنگلے کے اس پار کھلے مگر بہرحال وہ گل سرسبد ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی نہ صرف مغفرت فرمائیں بلکہ ان کا اسی طرح کا اکرام فرمائیں جس طرح کا چوہدری صاحب اپنی زندگی میں اس رحیم ذات کے عیال کا کیا کرتے تھے۔ آمین، یارب العالمین!
—


