آفتوں کے دور میں :میری کرسمس

یہ تحریر کرسمس کے دن لکھی جا رہی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے تو پوری دنیا میں اس تہوار کو منانے والوں کو ہم دل سے حضرت عیسی کے یوم پیدائش کی مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔
کرسمس پر برف اور سردی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن جس طرح ماحولیاتی آلودگی دیگر چیزوں اور رسموں کو تباہ کر رہی ہے۔ اسی طرح کرسمس پر سردی کے توازن کو بھی بگاڑ دیا ہے۔ مثلا جہاں برطانیہ، یورپ اور امریکا میں اس سال تاریخ ساز سردی پڑ رہی ہے تو دوسری طرف ایک خبر کے مطابق حضرت عیسی کی جنم بھومی یعنی اسرائیل میں سردیاں سکڑتی ہی چلی جا رہی ہیں۔ پہلے اسرائیل میں سردیوں کا مہینہ اکتوبر سے شروع ہوتا تھا تو اب دسمبر کے دوسرے ہفتے سے جا کر شروع ہو رہا ہے۔
اور تل ابیب کے رہائشی ایک دوسرے سے مذاق میں کہتے ہیں کہ سردی شروع ہو چکی ہے، آؤ ساحل سمندر پر چلیں۔ ماہرین موسمیات یہاں تک پیش گوئی کر رہے ہیں کہ اگر یہ چلن ہوں ہی جاری رہا تو آئندہ چند دہائیوں بعد اسرائیل میں سردی کا موسم سرے سے ہی ختم ہو جائے گا۔ یعنی حضرت عیسی کی جنم بھومی کرسمس کے موقع پر سردی اور برف سے محروم ہونے والی ہے۔
اور فی الحال اس تنزلی میں کمی آنا ممکن نہیں کیونکہ ابھی تو سنجیدگی سے ماحولیات کو آلودہ کرنے والے عوامل کے خاتمے کا آغاز نہیں ہوا ہے اور خود ماہرین یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ اگر آج ہی تمام آلودہ گیسوں کا اخراج ختم کر دیا جائے تو بھی ماحول کو دوبارہ پہلے جیسا ہونے میں کم از کم سو سال کا عرصہ تو لگ ہی جائے گا۔
آپ یہ سوچنے لگے ہوں گے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ بھلا چینی حکومت نے تو چند سالوں میں بیجنگ کی آلودگی کو بہت حد تک کم کر دیا ہے لیکن یاد رہے کہ بیجنگ کی فضاؤں کی آلودگی کم کرنے کے لیے چینی حکومت کے سخت اقدامات کے باوجود کم از کم ایک دہائی کا عرصہ لگا ہے۔ چینی حکومت نے یہ عمل ء 2008 کے اولمپکس کے موقع پر شروع کیا تھا لیکن بیجنگ کی آلودگی کو کم ہونے کہ جسے سب ہی محسوس اور دیکھ سکیں، کے واقع ہونے تک دس گیارہ سال لگ گئے اور اب بھی آلودگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آج آپ نے آلودہ گیسوں کا اخراج ختم کر دیا تو کل کو ماحول کی آلودگی ختم ہو جائے گی اور موسم پہلے جیسے مہربان اور معمول کے مطابق برتاؤ کرنے لگیں گے تو آپ کی معصومیت کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے کہ جیسے آپ نے سڑکوں اور بسوں میں لوگوں کو شرطیہ ”میلے دانتوں کو پانچ منٹ میں صاف چمک دار کرنے والا منجن“ بیچتے دیکھا ہو گا۔ اب یہاں سوچنے والی بات یہ ہے کہ دانتوں پر سخت پیلی میل کوئی ایک دن یا چند گھنٹوں میں نہیں چمٹ جاتی۔ اس عمل میں سالوں بلکہ دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ جو چیز دہائیوں میں جا کر لگی ہو، وہ پانچ منٹ میں کیسے صاف ہو سکتی ہے۔ لیکن مزے یا افسوس کی بات ہے کہ بہت سے لوگ یہ منجن خرید بھی لیتے ہیں۔
کیونکہ آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلی کا یہ عمل بہت آہستگی سے پچھلے ڈیڑھ دو سو سالوں کی صنعتی آلودگی کی وجہ سے وقوع پذیر ہو رہا تھا لیکن انسانوں کو اس کا صحیح معنوں میں ادراک پچھلے چند سالوں میں ہوا ہے کہ جب یہ تباہی بالکل سر پر آن کھڑی ہوئی ہے۔ بعض تو اب بھی بالکل مان کر نہیں دے رہے کہ بھلا ایسا بھی ہو سکتا ہے، مثال کے طور پر سابقہ صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کے بیانات دیکھ لیں کہ ہمیں اب بھی ماحولیاتی آلودگی پر یقین نہیں، ہمیں مزید ثبوت چاہیں، خواہ مزید ثبوت فراہم کرتے کرتے پوری دنیا تباہ ہو جائے، انہیں کوئی پروا نہیں۔
دوسری طرف اس ہفتے امریکا میں جو سخت برفانی طوفان آیا ہے اس نے مشہور فلم ”ڈے آفٹر ٹامارو“ کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ فلم میں بھی سردی کے ایک ایسے طوفان کو دکھایا گیا تھا جو چند گھنٹوں یا دنوں میں ساری دنیا کو منجمند کر کے رکھ دیتا ہے۔ اور آج ہی سی این این کی خبر ہے کہ بفیلو میں ایک عورت گھر سے کچھ لینے نکلی اور وہاں سے چند سو میٹر کے فاصلے پر سردی سے منجمد پائی گئی۔ یہ سردی اتنی شدید تھی کہ محکمہ صحت کو لوگوں کو انتباہ جاری کرنا پڑا کہ گھر سے چند منٹ کے لیے بھی باہر نہ نکلیں ورنہ پلکیں فراسٹ بائیٹ کا شکار ہو جائیں گی۔ اب صرف اس فلم کی طرح ایک ایسا طوفان آنا باقی ہے جو ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ آج ہی کی خبر یہ بھی تھی کہ ملک میں بیس اداروں کو بیٹری سے چلنے والی موٹرسائیکلوں کی تیاری کی اجازت دے دی گئی ہے۔

