بلدیاتی انتخابات – شکریہ تنویر الیاس

سیاست میں دعوی اور وعدے، گویا کیے ہی توڑنے کے لیے جاتے ہیں۔ ہر آنے والی حکومت نئے نئے وعدے کر کے آتی ہے اور مدت پوری ہونے کے بعد اپنے وعدہ خلافیوں پر کہانیاں و بہانے تراشتی ہے۔ ایسا ہی ایک وعدہ آزاد ریاست جموں و کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں سے عوام سے کیا جاتا تھا اور پھر وقت آنے پر حیلے بہانوں سے اس سے منہ موڑ لیا جاتا تھا۔ یہ وعدہ ”بلدیاتی انتخابات“ کے انعقاد کا وعدہ تھا جو گزشتہ تین دہائیوں میں ہر آنے والی حکومت کرتی تھی اور مدت مکمل ہونے کے بعد اپنی ناکامی کا ملبہ کسی اور پر ڈال دیا جاتا تھا۔ گزشتہ حکومت میں، اس وقت کے وزیراعظم آزاد کشمیر، راجہ فاروق حیدر خان نے برملا اکثر مواقع پر کہا کہ بیوروکریسی اور اکثریتی ممبران قانون ساز اسمبلی اس حق میں ہیں ہی نہیں کہ اقتدار نچلی سطح پر منتقل ہوں، اور یوں ایک اور جمہوری حکومت بھی وعدہ وفا نہ کر پائی۔
پھر 2021 کے عام انتخابات میں آزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کی حکومت قائم ہوئی۔ اس وقت کے وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی یقین دہانی کروائی مگر تین دہائیوں سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہ ہونا، عوام کے ذہنوں میں یہ الجھن پیدا کر گیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔ پھر ”اللہ جسے چاہے عزت دے“ والی بات ہے، سردار تنویر الیاس خان کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کے لیے نامزد کیا اور یوں پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے ممبران قانون ساز اسمبلی نے نیا قائد ایوان سردار تنویر الیاس خان کو چنا۔ حکومتی اتحاد میں شامل، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ممبر قانون ساز اسمبلی، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے بھی سردار تنویر الیاس خان کو ووٹ دیا۔
سردار تنویر الیاس خان کے وزیر اعظم بنتے ہی متحدہ اپوزیشن نے کو اور تنقید کے لیے کچھ نہ ملا تو سردار تنویر الیاس خان پر الزامات لگانا شروع کر دیے۔ کبھی کہا جاتا ”وزیر اعظم غیر سیاسی آدمی کو بنا دیا ہے، کبھی کیا اور کبھی کیا“ ۔ پھر وہ ہوا جو تین دہائیوں سے نہ ہوا تھا، وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان کو اللہ نے عزت بخشی اور وہ بلدیاتی انتخابات کروانے میں کامیاب ہوئے۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ و وزیر محکمہ، اعلی عدلیہ، الیکشن کمیشن، آزاد کشمیر پولیس اور تمام اداروں کا کردار اپنی جگہ، پر اگر کسی ایک فرد واحد کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد کا مستحق قرار دیا جائے تو وہ ”وزیر اعظم آزاد ریاست جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس خان“ کی ذات ہے۔
بلدیاتی انتخابات کے پرامن و کامیاب انعقاد سے سردار تنویر الیاس خان نے اپنے سیاسی مخالفین کو ایک بہترین جواب یہ بھی دیا ہے کہ ”ایسے سیاسیوں سے غیر سیاسی وزیر اعظم ہونا قابل عزت ہے جو تین دہائیوں کا ازالہ ایک سال کے اندر کر گیا“ ۔
بلدیاتی انتخابات کا انعقاد، پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر و سردار تنویر الیاس خان کی حکومت کا وہ کارنامہ ہے جو شاید باقی سب کاموں پر بھاری ہے اور رہے گا بھی۔ ایک ایسے وقت میں جب بہت سے حکومتی وزراء و اپوزیشن ممبران، بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے خلاف تھے، وزیر اعظم آزاد کشمیر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے تاریخ میں اپنا نام لکھوا گئے ہیں اور بقول اشفاق احمد ”زندہ رہی رہتے ہیں جو اپنے کام کی بدولت تاریخ میں زندہ رے جائیں“ ۔

