بہتا ہوں میں دریا کی روانی سے کہیں دور
ایک عزیز نے کتاب ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا آپ کے لیے تحفہ ہے۔ میں نے الٹ پلٹ کے دیکھا کور ڈیزائن دل کو موہ لینے والا تھا۔ کتاب کو اوپر سے دیکھ کر تھوڑے غور و فکر کے بعد سرسری طور پر اوراق الٹنے لگا کہ نگاہ یکایک ایک شعر پہ جم گئی۔
شام غم میں نے جو پوچھا مرا غم خوار ہے کون؟
اک غزل میر کے دیوان سے باہر آئی
میں کھو سا گیا، جانے کیا تھا اس شعر میں جو مجھے اس کے سحر سے نکلنے نہیں دے رہا تھا۔ شاید یہ شعر میری کیفیت کی ہو بہو عکاسی کر رہا تھا۔ میں نے کتاب بند کر دی۔ اور اپنے کام میں منہمک ہو گیا۔ لیکن دیر تک یہ شعر میرے کانوں میں گونجتا رہا۔
رات کھانے کے بعد میں نے پورے اہتمام سے کتاب اٹھائی اور ورق گردانی شروع کر دی۔ الفاظ کی بندش، خیالات کی بلندی، اور پیرایہ بیان نے اک دم جکڑ لیا۔ میں پڑھتا چلا گیا۔ کہیں تغزل تو کہیں تصوف، کہیں تعبیر سے بہت دور خوابوں کی حسرت، تو کہیں ہجر وصال کے جاں فزا و جاں گسل منظرنامے، کہیں زندگی سے بے زاری اور اس کے ستم، تو کہیں حلقۂ احباب سے نکلے ہوئے گلے شکوے اپنی آواز کے پر کھولتے نظر آئے۔
کتاب نہیں، بلکہ زندگی کے اتار چڑھاؤ کو الفاظ کا جامہ پہنا دیا گیا ہے۔ ہر ہر شعر زندگی میں بیتے کسی نہ کسی واقعہ کو ذہن کے پردے پر ریل کے مانند چلا رہا تھا۔
یہ اپنے عہد کے ممتاز شاعر عزیز الرحمن نبیل فلاحی کے دوسرے شعری مجموعہ ’آواز کے پر کھلتے ہیں‘ تھی۔ جو انھوں نے بڑی محبت سے مجھے اپنے ایک دوست کے ہاتھوں سمندر پار قطر سے بھجوائی تھی۔
مجموعہ کا آغاز جس شعر سے ہوتا ہے، یا یوں کہیں کہ مجموعے کا مرکزی خیال جو نبیل کی شاعری کی مکمل عکاسی کرتا ہے، وہ کچھ یوں ہے۔
عادتاً میں کسی احساس کے پیچھے لپکا
دفعتا ایک غزل دشت سخن سے نکلی
نہایت عمدہ اور بلند و بالا تخیلات کو جس طرح سادہ، سلیس اور عام فہم انداز میں عزیز نبیل نے پرویا ہے اس سے ان کی مہارت کا صاف پتہ چلتا ہے۔ آئیے آپ کو بھی محظوظ کراتا چلوں۔
وہی جو رشتہ ہے کشتی کا سطح آب کے ساتھ
وہی ہے میرا تعلق بھی اپنے خواب کے ساتھ
سنبھل کے چلنا یہ تعبیر کی سڑک ہے میاں
بندھی ہوئی کئی آنکھیں ہیں ایک خواب کے ساتھ
کون سے لوگ ہیں جو پھرتے ہیں تعبیر لیے
کن دعاؤں کے لیے باب اثر کھلتے ہیں
بہتا ہوں میں دریا کی روانی سے کہیں دور
اک پیاس مجھے لائی تھی پانی سے کہیں دور
کچھ تہمت و دشنام، شکایات و سوالات
کیا کچھ نہ میاں حلقۂ احباب سے نکلا
یوں لگتا ہے ساری دنیا بند ہے میری مٹھی میں
جس دم میری انگلی پکڑے میرا بیٹا چلتا ہے
بجھ چکے راستے سناٹا ہوا، رات ڈھلی
لوٹ کر ہم بھی چلے جائیں مگر گھر بھی تو ہو
روز دستک سی کوئی دیتا ہے سینے پہ نبیل
روز مجھ میں کئی آواز کے پر کھلتے ہیں
یہ چند اشعار بطور ”مشتے نمونہ از خروارے“ پیش ہیں، وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کا گلشن سخن اس قدر خوش گوار اور دل کش ہے کہ جس پھول کی طرف نگاہ جاتی ہے اسی کی ہو کے رہ جاتی ہے۔
عزیز نبیل کا پہلا شعری مجموعہ ’خواب سمندر‘ کے نام سے 2011 میں شائع ہوا تھا، جس نے ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی حاصل کی تھی، اور اب یہ دوسرا مجموعہ منظر عام پہ آیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ مجموعہ بھی ادب میں ایک بیش بہا خزانہ ثابت ہو گا اور سخنوران فن اسے سراہے بنا نہیں رہیں گے۔



