ربا (سود) سے پاک نظام کا بدترین سیاسی استعمال
بلاشبہ سود کو اسلام نے قطعی طور پر حرام بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیا ہے، یقیناً قرآنی احکامات کی موجودگی میں مذہبی اعتبار سے مختلف کوئی دوسری رائے ممکن نہیں ہو سکتی، لیکن، یہ حقیقت بھی مد نظر رکھنی ہو گی کہ آج کی جدید دنیا میں پاکستان جیسی نحیف اور کمزور معیشت کا آنکھیں بند کر کے ربا یا سود سے پاک نظام کا نفاذ صرف خطرات اور مسائل سے بھرپور ہو گا، وفاقی شرعی عدالت کا ربا یا سود سے پاک بینکاری نظام نافذ کرنے سے متعلق فیصلہ جس میں سال 2027 تک نظام کے مکمل نفاذ کی ہدایت کی جا چکی ہے نظر ثانی اس لیے مانگتا ہے کہ ریاست اپنے ذمہ ایسے کوئی ضروری اقدامات کرتی نظر نہیں آتی جن کی بناء پر کہا جا سکے کہ ہمارا معاشرہ پاک صاف افراد پر مشتمل ہو سکے گا، ایمان کی روشنی سے منور معاشرہ بن جائے گا، جہاں انسان کی قدر ہونے لگے گی، جہاں تعلیم عام ہو جائے گی، جہاں انصاف کا بول بالا ہونے لگے گا اور کسی طاقتور کو کمزور پر برتری حاصل نہیں رہے گی، مختصر یہ کہ ریاست 2023 تک کے مختصر عرصے میں ایک آئیڈیل ریاست میں ڈھل جائے گی جبکہ آج کی صورتحال حقائق کو اس کے بالکل برعکس بتاتی ہے، کیونکہ سود سے پاک نظام کے نفاذ میں خطرات اور بے تحاشا مسائل ہیں اس لیے ریاست کو شرعی عدالت کے فیصلے کی نظر نہیں کیا جا سکتا البتہ اس پر نظر ثانی کی درخواست ضرور کی جا سکتی ہے۔
ریاست کو عملی طور پر آئیڈیل بنانے کے لیے نفاذ اسلام کا شور اکثر بیشتر زبانی کلامی طور پر تقریباً تمام سیاسی جماعتیں با آواز بلند کرتی نظر آتی ہیں، ظاہر ہے مذہب کی آڑ ہمارے ایک مضبوط ترین محکمے کی اہم ضرورت ہے اور اقتدار کے حصول کے لیے محکمہ سیاسی جماعتوں کی ضرورت، لیکن، اس معاملے میں زیادہ سرگرم مذہبی جماعتیں ہیں جن کے عزائم سیاسی بھی ہیں اور سرپرستی مفتیان دین کے حوالے ہے۔
ریاست کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کا اہم ترین مرحلہ ملک میں رائج بینکاری نظام کو حلقہ بگوش اسلام کرنا ہے۔ ظاہر ہے مغرب کا ترتیب دیا ہوا نظام بینکاری ساری دنیا کی مالی ضروریات کو بہ احسن پورا کرتا ہے لہذا اپنا کوئی نظام ناپید ہونے کی وجہ سے بھی موجودہ مغربی نظام کو مشرف با اسلام کرنے کی سعی لاحاصل جاری ہے، اس مقصد کے لیے خاطر خواہ سرمایہ کاری یہ کہہ کر اور بتا کر کی جا رہی ہے کہ معیشت کے پنپنے کا واحد راستہ بس یہی ہے، ربا یا سود ہی ساری برائیوں کی وہ جڑ ہے جو ملت اسلامیہ کو اپنے پاوں پر جم کر کھڑا نہیں ہونے دیتا۔
اس بحث میں الجھے بغیر کہ دنیا کے تمام ممالک، مالیاتی اداروں اور بینکنگ سسٹم ملک کی مالیاتی ضروریات کو دنیا میں رائج سودی نظام کو تسلیم کیے بغیر بالکل ممکن نہیں اور یہ بھی کہ ملک کا تمامتر مالیاتی نظام مانگے تانگے کے ان قرضوں کی بنیاد پر کھڑا ہے جس کا جزو لاینفک ربا یعنی سود ہے لیکن اس اہم نکتے کی طرف کوئی توجہ یا کسی کار آمد بحث کے بغیر ملک میں سود سے پاک بینکاری نظام کے نفاذ کی رٹ ہر طرف سے سننے کو ملے گی۔
حکومتی سطح سے ذمہ دار افراد بھی بطور مجبوری عوام کے ذہنوں میں مذہبی رجعت کی جڑیں مضبوط کرنے والوں کو خوش کرنے سے لے کر اقتدار کے ایوانوں میں سدا بہار مفتیان دین تک کو مطمئن کرنے کے لیے اس کار خیر میں دن رات ایک کیے نظر آتے ہیں۔ کان کو سیدھے طریقے سے پکڑنے کے بجائے گھما کر پکڑنے کا طریقہ سجھا کر یہ سمجھانے کی کوشش جاری ہے کہ بینکاری کے شعبے میں چند بینکوں کا اسلامی بینکاری کا لیبل لگا دینے سے ان بینکوں کی سرگرمی سود سے پاک ہو گئی ہے، مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسا نہیں ہے، آپ جسے منافع کہہ کر وصول کر رہے ہیں وہ درحقیقت منافع نہیں ربا یا سود ہی ہے، اسلام گھر بیٹھ کر کوئی محنت کیے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھوں پرورش پانے والے کاروبار سے اپنا منافع وصول کرنے کو حلال تسلیم نہیں کرتا، جو آج کے اسلامی بینک اپنے نظام کے تحت جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ چند مفتیان اس نظام کو اپنی کامیابی بتا کر ایک طرف اقتدار کے ایوان میں اپنی کرسی مضبوط رکھنے میں مصروف ہیں جبکہ دوسری جانب اسلام کے نام پر قائم کیے گئے بینکوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی آسامیوں کے مزے الگ لوٹ رہے ہیں۔
بینکاری نظام کو سود سے پاک کرنے کا غوغا کوئی نیا نہیں ہے لیکن پاکستان میں اس جانب پہلا بڑا اور نقصانات سے پر تجربہ ضیاء الحق مرحوم کی ڈکٹیٹر شپ کے دوران کیا جا چکا ہے جس کے تباہ کن اثرات بینکاری کی صنعت سمیت ملک اور اس کی عوام خوب بھگت چکی ہے، یہ ایسا وقت تھا کہ مطلق العنان حاکم کی بہ یک جنبش ابرو سے ملک کے کسی بھی نظام کو تلے اوپر یا درہم برہم کیا جاسکتا تھا جو ملک کے بینکاری نظام کے ساتھ کھلواڑ کر کے کیا گیا، جبکہ، سول جمہوری حکومتوں کے لیے اس نوعیت کے اقدامات اور ان پر آنا ”فانا“ عملدرآمد کروانا بے حد مشکل ہوتا ہے۔
یعنی ڈکٹیٹر کے دور حکومت میں اس مشکل کام کو کر گزرنا زیادہ آسان تھا، لیکن، پہلے ہی قدم کے اٹھانے، دنیا بھر میں رائج مالیاتی نظام سے ٹکرانے اور بلا تحقیق و بحث آنکھیں بند کر کے ایک پیچیدہ نظام کو الٹ پلٹ کر دینے کے نتائج کیا رہے اس بارے میں جاننے کے لیے ایک مختصر ذکر اس گورکھ دھندے کو سمجھنے کے لیے کافی ہو گا۔
ضیاء کے ارد گرد جمع نام نہاد ”ماہرین بینکاری“ اور مفتیان دین نے اپنی مہم جوئی اور ڈکٹیٹر کی نام نہاد اسلامی سوچ جو اسلام سے زیادہ اقتدار کے دوام کی خاطر تھی چاپلوسی سے خوش کرنے کی خاطر ملک بھر کے بینکاری نظام کو بہ جنبش یک قلم ”بلا سودی“ نظام میں تبدیل کر ڈالا، یہاں سودی نظام، بلا سودی نظام اور سود سے پاک نظام کے فرق کو جاننا ضروری ہے جسے عام قارئین آگے چل کر سمجھ پائیں گے۔ بلا سودی نظام کی تشریح کچھ یوں کی گئی کہ یہ نظام فی الحال ”بلا سودی“ اور سود کے بجائے مارک اپ (سود کو مارک اپ کا نام دے کر مشرف با اسلام کر دیا گیا) کی وصولی پر مبنی ہے جسے آگے چل کر سود یا مارک اپ سے مکمل طور پر پاک کر دیا جائے گا، یعنی اس بات کی وضاحت کر دی گئی کہ یہ مکمل طور پر اسلامی بینکاری کے زمرے میں نہیں آتا۔
سوال اٹھا کہ اگر یہ مکمل طور پر اسلامی نظام نہیں ہے تو پھر کیا ہے، تو استفسار پر توجیہہ پیش کی گئی جو واقعتاً ایک مضبوط توجیہہ ضرور تھی کہ یہ سود سے مکمل پاک نظام کی جانب پیشقدمی ہے، یعنی حرام سے حلال کی جانب قدم، نہ تو یہ حرام ہے اور نہ ہی حلال بلکہ درمیانی پڑاؤ ہے جسے ”مکروہ“ کہا اور سمجھا جائے۔ مکروہ یعنی نہ تو حلال ہے اور نہ ہی حرام۔
ہرچند کہ اس مکروہ کیفیت کے اثرات صرف بینکاری نظام تک محدود نہیں تھے بلکہ قانون کے وضع ہو جانے پر بینکاری سے ہٹ کر افراد اور کمپنیوں کے مابین لین دین پر بھی اثر انداز ہوئے، ستم ظریفی یہ رہی کہ اعلی ’عدالتوں نے بھی اس حساس موضوع پر مکمل گرفت نہ رکھنے کے باوجود حسب روایت اپنی ٹانگ اڑانا ضروری جانا اور اس بلا سودی نظام کے نفاذ سے پیدا ہونے والے انتشار اور تذبذب میں اپنا حصہ ڈال کر مزید الجھایا اور ناقابل تلافی نقصانات کا باعث بنے۔
اس مکروہ نظام کے نفاذ سے ہر طرح کے کاروبار یعنی زراعت، صنعت، اور کمرشل کاروبار کو قرض مہیا کرنے کے ناجائز فوائد پہنچنا شروع ہو گئے، ملک میں اندرونی طور پر برامدات اور درآمدات کی ضرورت پورا کرنے کے لیے قرض کی سہولیات بھی اسی نظام کے تحت طے پانے لگیں۔ کیونکہ آزاد پارلیمنٹ کا کوئی وجود نہیں تھا جہاں کار بد پر پہلے کھل کر سیر حاصل بحث ہوتی، اس کے خوفناک نتائج سے آگاہ کیا جاتا، لیکن، مطلق العنانیت کے آگے اور وہ بھی سیاسی مقاصد کے حصول کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا ایک نظام ملک کے تین مالیاتی اداروں نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور انوسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کو 1979 میں فوری طور پر اس عفریت کے سپرد کر دیا گیا جو بتدریج ضیاءالحق اور ان کے ”رفقاء“ کے ملکی معیشت کو دھچکہ لگانے کا باعث بنا، جنوری 1980 تک ملک بھر کے بینکوں میں سات ہزار ( 7000 ) کاؤنٹرز اس نقصانات سے پر پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مصروف عمل ہو چکے تھے، ان کے دائرہ کار نے وسیع ہوتے ہوتے تمام بینک انڈسٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ذیل میں مکروہ بینکاری نظام کے تحت صرف قرض جاری کیے جانے کے طریقہ کار کو موضوع بنایا گیا ہے، جبکہ اپنے گاہکوں سے بینک کے خود قرض لینے یا ڈپازٹ کا حصول بھی اس مکروہ نظام کا اٹوٹ حصہ رہا جسے مختصراً آخر میں بیان کیا جائے گا۔ مذہبی طور پر اس ”مکروہ“ بینکاری نظام کے تحت قرض مہیا کرنے کا طرز کچھ یوں تھا کہ کم سے کم قرضے کے حصول کے لیے دو شخصی ضمانتوں کی ضرورت کو قرض دینے کا کم از کم معیار رکھا گیا جب کہ سال گزر جانے پر گاہک یا کسٹمر کے لیے قرض کی ادائیگی ایک سالہ میعاد کے خاتمے یا اس سے پہلے ضروری قرار پائی، اس بلا سودی یا مکروہ نظام کا طریقہ کار یہ طے پایا کہ بینک ایک سال میں قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں اپنے گاہک یا نادہندہ سے بینک کے لیے ایک سال اور سال گزر جانے کے بعد مزید 210 دن تک کا مارک اپ وصول کرنے کا مجاز ہو گا یعنی نادہندگی کی صورت میں 211 ویں دن سے بینک مارک اپ وصول کرنے کا مجاز نہیں رہے گا۔
اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جن دستاویزات پر گاہک کے دستخط لیے جاتے ان میں اس طریقہ کار کو وضاحت سے بیان کر دیا گیا اور بینک کے گاہک کو مکمل اختیار دے دیا گیا کہ اس سے زائد دن بینک کے مہیا کیے گئے سرمائے پر جو کہ یقیناً بینک کے ان گاہکوں سے جمع کیا گیا سرمایہ تھا جو قرض دیتے ہیں لیتے نہیں ایک دن بھی زائد پر مارک اپ وصول کرنے کا مجاز نہیں ہو گا۔ ان 210 دنوں میں بینک ایسے ہر کیس کی پڑتال کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، عدالتوں کے کام بے تحاشا بڑھ گئے حتی ’کہ بینکنگ ٹربیونلز قائم کرنے پڑے صوابدیدی اختیارات کے تحت بینک کو بینکنگ ٹریبونل میں کیس دائر کرنے کا اختیار دیا گیا جس میں بینک قانونی چارہ جوئی کے نتیجے میں گاہک کی گرفتاری سے لے کر کاروبار کی بندش کے احکامات تک بینکنگ ٹریبونل سے مانگنے کا مجاز ٹھہرا۔
اس تمام نظام کی بنیاد اپنے طور پر یہ سمجھ کر فرض کر لی گئی کہ معاشرہ کیونکہ اسلامی ہے لہذا آئیڈیل ہے، بے ایمانی کا دخل تو ممکن ہی نہیں ہے لہذا بینکوں سے قرض حاصل کرنے والے تمام گاہک یا قرض لینے والے مکمل طور پر ایماندار تصور کر لیے گئے کہ قرض کے حصول بعد بینک کی رقم ایمانداری سے وقت مقررہ پر ادا کر دیں گے، جبکہ، حسب توقع ہوا یہ کہ ٹربیونلز کا قیام یا تو دیر میں عمل میں آیا یا بینکنگ ٹربیونلز ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتے رہے، تاریخوں پر تاریخ پڑتی رہی اور بینکاری نظام کا ستیاناس پھیرا جاتا رہا، نادہندہ مقروض کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوتا چلا گیا جس نے بینکوں کے کام میں بے تحاشا اضافہ کیا نتیجے میں بینکنگ ٹربیونلز میں بینکوں کی فریاد داخل ہونے میں تاخیر شروع ہو گئی جبکہ بینکوں کے سسٹم میں بلا سودی نظام نے قانونی ضرورت کے پیش نظر 210 دن کے بعد مارک اپ کی وصولی بند کردی جس نے بینکوں کے منافع کو خاطر خواہ کم کر دیا۔
ہر سطح کا گاہک عام طور پر بینکر سے زیادہ لائق و فائق نکلا کہ اس کے مفاد کا معاملہ تھا ایمان کا نہیں لہذا یہ عام ہو گیا کہ 210 دن سے زیادہ تو ایک پائی بینک کو ادا نہیں کرنی لہذا بینک سے قرض لی رقم کو ہتھیا کر سالوں استعمال کی جا سکتی ہے۔ بینکوں کے منافع میں کمی کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام سے جمع کی جانے والے رقومات پر بینکوں کی جانب سے دیے جانے والے منافع کی شرح میں کمی ہوتی چلی گئی، لیکن، ایک مزیدار بات یہ مشاہدے میں آئی کہ نفع نقصان کی بنیاد پر عوام سے حاصل کیے گئے سرمائے پر صرف نفع ظاہر کیا گیا کبھی نقصان کا ذکر سننے میں نہیں آیا اور وہ اس لیے نہیں آیا کہ ماہرین بینکاری مفتیان اسلام کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ ایک جانب بلا سودی قرضوں نے تباہی سے دو چار تو کر ہی رکھا ہے اس لیے اگر عوام کی امانتا ”رکھوائی گئی رقومات پر جو کہ نفع نقصان میں شراکت کے نام پر اکٹھی کی گئی ہے اگر نقصان دکھایا تو سارا سرمایہ بینکوں سے اڑن چھو ہو جائے گا۔
اس کیفیت نے ضیاء کے بعد آنے والی حکومتوں کے لیے بڑے مسائل کھڑے کیے، ضیاء کے بعد کی سول حکومتوں میں یہ جرات نہیں تھی کہ وہ اس نظام کو دریا برد کر سکتے لہذا ایک اور ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں گورنر اسٹیٹ بینک کو با آواز بلند اظہار کرنا پڑا کہ اس ساری مشق سے صرف ملک کو نقصان پہنچا ہے لہذا اس بلا سودی بینکاری کا فی الفور خاتمہ ضروری ہے، زیادہ شور مچائے بغیر بلکہ تقریباً خاموشی کے ساتھ جہاں سے چلے تھے وہیں واپس آن کھڑے ہوئے صرف گلاس توڑا لیکن بہت مہنگا گلاس توڑا۔
بلا سودی نظام بینکاری یا مکروہ بینکاری یا مکمل اسلامی بینکاری کی جانب قدم کی ناکامی پر اور محکمے کی تیار کردہ ذہنیت اور مفتیان کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے سمجھا گیا کہ تمام بینکاری نظام کو مشرف بہ اسلام کرنے میں جلد بازی نہ کی جائے، اس ہنگامہ خیزی کے برے نتائج بھگتے جا چکے ہیں لہذا بہتر ہو گا کہ اس بلا سودی نظام کے نام پر علیحدہ بینک قائم کر کے ثابت کریں کہ آپ کے خیال آپ کی سوچ میں کتنی جان ہے، ملکی بینکاری نظام، عالمی بینکاری نظام، قرض مہیا کرنے والے وہ مالیاتی ادارے جن کے سہارے ملک چلتا ہے پہلے ان سے مکمل آشنا ہوں تو قدم آگے بڑھانے کے بارے میں سوچا جائے۔
اب تک کی اطلاعات یہی ہیں کہ کسی بھی اسلامی بینک نے اپنے گاہک کو نقصان نہیں دیا صرف منافع ہی منافع ہے اور یہ بھی کہ عوام سے اکٹھا کیے گئے سرمائے پر بھی منافع ہے اور ان تمام گاہکوں کو جو پیسہ ان اسلامی بینکوں میں جمع کروا کر گھر بیٹھے کسی محنت میں شامل ہوئے بغیر منافع کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ غرض دنیا کہ جدید ترین نظام سے ٹکرانے کا نتیجہ مکروہ بینکاری کے نفاذ کی صورت میں تو بھگت ہی چکے، کہیں سود سے پاک نظام کا نفاذ کر بیٹھے تو کہانی کہاں جا کر تھمے گی ماہرین اقتصادیات و معیشت کے ماہرین بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔
کسی بھی نظام کو مشرف با اسلام کرنے کے بجائے موجودہ دور میں جدید ترین نظام وضع کر کے کام آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، غیر اخلاقی حدوں کو چھونے والی منافع خوری جس کا بینکوں نے حالیہ دنوں میں مظاہرہ کیا ہے قلع قمع کرنے کی ضرورت ہے، اسٹیٹ بینک کا یہ کہہ کر دامن چھڑا لینا کسی طور قابل قبول نہیں ہے کہ رسد اور مانگ میں تفاوت ہو گا تو یہ تو ہو گا، بینکوں کو عالمی نظام سے جوڑے رکھنے کا مقصد بیجا منافع خوری ہر گز نہیں ہے نہ ہی معمولی جرمانے انہیں ان حرکتوں سے باز رکھ پائیں گے، اسٹیٹ بنک کو ایک مربوط پالیسی وضع کرنے کی ضرورت ہے جو مکروہ بینکاری کے آگے بند باندھے رکھے اور منافع خوری کی انتہا پر چیک اور بیلنس قائم رکھ سکے۔
جب تک ملک میں معیاری تحقیق اور اس کے نتیجے میں عالمی مالیاتی نظام سے کئی درجہ بہتر اور قابل قبول ربا یا سود سے پاک نظام کا نمونہ دنیا کو پیش کیے بغیر دین کی رو سے اس پاک اور مقدس موضوع کا بدترین سیاسی استعمال تو جاری رکھا جا سکتا ہے جو حقیقتاً جاری ہے لیکن سود سے پاک بینکاری نظام کے قیام کی کوئی خاطرخواہ صورت پیش کیا جانا ممکن نظر نہیں آتی۔ موجودہ رائج سودی نظام کی خدمات اور مصنوعات کو مستعار لے کر عربی نام اور اسلامی پوشاک سے آراستہ کر کے پیش کیا جانا ہر طبقہ فکر اور عالمی سطح کے ماہرین کی نظر میں سودی نظام ہی رہے گا البتہ بدترین سیاسی مفادات کے حصول کے لیے اس کا استعمال جاری رکھا جاسکتا ہے اور جاری ہے، شرعی عدالت اپنی جگہ خود کے ہونے اور رہنے کے جواز کے طور پر فیصلے سناتی رہی ہیں لیکن صرف فیصلہ صادر کر دینا اور اس موضوع کے ثمرات اور نقصانات کی جانچ پڑتال بغیر فیصلے بدترین سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال کیے جا سکتے ہیں لیکن ملک اور قوم کے مفاد کا اس سے تعلق نہیں بن پائے گا، لہذا ضروری ہے کہ عدلیہ بھی بلا سوچے سمجھے فیصلے صادر کرنے سے اجتناب برتے ورنہ ان پر آنکھیں بند کر کے عملدرآمد کا نتیجہ ملک کی پہلے سے ڈوبی ہوئی معیشت کو زمین میں مکمل طور پر گاڑ دینے کا باعث ہو گا۔


