ہمیں ماضی کو کوسنا نہیں ماضی سے سیکھنا ہے
پاکستان اس وقت ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے اور کنارے پر کھڑے ارباب اختیار ہاتھ ہلا کر کہہ رہے ہیں ”بھیا جی سمائل“ ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔ ملک میں ایک کے بعد ایک بحران جنم لے رہا ہے۔ دو ہزار بائیس پاکستانی سیاست اور معیشت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ نہ ملک میں سیاسی استحکام آیا نہ معاشی گاڑی ہی ٹریک پر آئی۔ معاشی اعشاریے ملکی معیشت کو منہ چڑھا رہ ہیں اور ملک کے وزیر خزانہ کہتے ہیں ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔
اور وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ 8 ماہ کی حکومت 30 سال کی خرابیاں ختم نہیں کر سکتی۔ پھر سوال یہ ہے کہ 30 سال میں کس کس نے کس کس طرح جمہوریت اور اس ملک کو نوچا؟ 30 سال بعد A پولیٹیکل تو ہو گئے لیکن پولیٹیکل لوگ اب بھی سہاروں کی تلاش میں ہیں۔ ایک سال میں ہم نے پایا کچھ نہیں البتہ کھویا بہت کچھ ہے۔ ہم نے سیاسی تنازعات میں اپنی معیشت کو قربان کیا ہے۔ سیاسی اختلاف میں اخلاقیات کا جنازہ نکالا ہے۔ رشتوں کا تقدس بھی بھول گئے۔ زبان پر کنٹرول رہا نہ سوشل میڈیا پر۔ قبولیت اور مقبولیت کے بیچ میں پھنسے ہیں۔ دہشت گردی پھر سے سر اٹھا رہی ہے۔ سیاسی انتقام میں ہم نے اپنا مقام گرا لیا۔
وہیں دوسری طرف ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر 5.8 ارب ڈالرز پر آ چکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک پاکستان کے پاس غیر ملکی ذخائر خطرناک رفتار سے کم ہو رہے ہیں ایسے وقت میں آئی ایم ایف ”انتظار کرو اور دیکھو“ کی پالیسی پر چل پڑا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی معاشی صورتحال پر سالانہ رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے جس کے مطابق ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام سے زرمبادلہ کے ذخائر سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ مہنگائی کی شرح ستائیس فی صد کو چھو رہی ہے۔ اشیائے ضروریہ کو ہاتھ نہیں لگ رہا۔ شرح سود سولہ فیصد پر ہے۔
ملک میں آٹے کا بحران ہے غریب دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے۔ موجودہ مخلوط حکومت جب اقتدار میں آئی تو اس وقت ڈالر ایک سو اٹھہتر روپے کا تھا آج ڈالر دو سو چھبیس سے اوپر کا مل رہا ہے۔ اسحاق ڈار صاحب جب وطن لوٹے تو کانوں میں آوازیں پڑتی تھیں کہ ڈار کے ڈر سے ڈالر ڈر گیا۔ اب ڈالر کے ڈر سے ڈار صاحب سہمے ہوئے ہیں۔ ڈالر کی قلت اور اس کے مہنگا ہونے کی وجہ سے درآمدات پر پابندیاں لگائی گئی جس کی وجہ سے ملک کی صنعتی پیداوار میں کمی آ گئی۔
برآمدات کم ہونے اور درآمدات بڑھنے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چار سال کی بلند ترین سطح پر ہمیں منہ چڑھا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بیرونی قرضوں اور سود کی بھاری ادائیگی سے ڈالر کی قیمت بڑھنا شروع ہوئی۔ پاکستان کو آئندہ چند ماہ میں 30 ارب ڈالرز کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ سیلاب سے ہونے والے 30 ارب ڈالرز کے نقصان نے معاشی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔ معاشی مسائل سے نجات دلانے والی حکومت سے عوام اب نجات چاہتے ہیں۔ تجربہ کاروں نے ملک کو تجربہ گاہ بنا دیا۔ حکومت کے لیے معاشی حالات آگے کنواں پیچھے کھائی جیسے ہیں۔ ہمیں ماضی کو کوسنا نہیں ماضی سے سیکھنا ہو گا تبھی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں


