ہمارا طرز مسیحائی کیسا ہے؟


آج دوپہر سے ہی وہ دل پر بوجھ ہونے کی شکایت کر رہا تھا۔ اس نے دوپہر کے کھانے کو بھی ہاتھ نہیں لگایا۔ اور آ کر بستر پر لیٹ گیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد اچانک اٹھا اور غسل خانے کی طرف دوڑا۔ مشکل سے ہی پہنچ پایا جب اسے پورے زور سے الٹی آئی۔ اس کا بیٹا اور بیوی اس کے پیچھے دوڑے۔ اور اسے سہارا دینے لگے۔ پورا سنک خون کا تالاب بن چکا تھا۔ جس میں بہت سارا خون جم کر لوتھڑے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ اس کا گریبان خون سے لال ہو چکا تھا۔

جب اس کا دل کچھ ہلکا ہوا تو انہوں نے اسے سہارا دے کر بستر پر لٹا دیا۔ ابھی اس کا سر تکیے تک نہیں پہنچ پایا تھا کہ اسے پھر شدید متلی ہوئی اور زور سے دوسری الٹی آئی۔ اس بار بھی خون، جو فرش پر پھیل چکا تھا۔ اور وہ نڈھال ہو کر بستر پر گر پڑا۔ اس کی نبض پر بیوی نے ہاتھ رکھا تو مشکل سے ہی محسوس ہو رہی تی۔ اتنی دیر میں بیٹا گھبرا کر گاڑی نکال چکا تھا اور کپڑوں کا خیال کیے بغیر اسے سہارا دے کر بغیر وقت ضائع کیے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈال لیا۔ بیوی ساتھ ہی سر کو سہارا دی کر بیٹھ گئی اور وہ قریبی ہسپتال کی طرف گاڑی کو فل سپیڈ سے دوڑاتے ہوئے بھاگے۔

اسلام آباد کے ہولی فیملی (Holy Family) ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں پہنچنے تک اس کی بیوی پشاور کے معدے اور پیٹ کے امراض کے سپیلشسٹ، ڈاکٹر شاہ کو فون کر چکی تھی اور انہیں اس واقعے سے آگاہ کر چکی تھی۔ ڈاکٹر شاہ نے چار دن قبل اس کے معدے کی سوجی ہوئی خون کی شریانوں کی بینڈنگ (Banding) کی تھی۔ اسے یہ رگیں تین ہفتے پہلے اینڈو سکوپی میں نظر آئی تھیں۔ اور عزیز کو بڑی مشکل سے اس بات پر قائل کیا تھا کہ یہ رگیں پھٹنے کا خطرہ ہونے کی وجہ سے سر پر لٹکی تلوار کی مانند ہیں۔ عزیز جو کہ ڈاکٹر کے پاس جانے کا کبھی بھی قائل نہیں تھا، بیوی اور بچوں کے کہنے پر بڑی مشکل سے مانا تھا۔

بینڈنگ کے بعد وہ بہت اچھا محسوس کر رہا تھا۔ جو گھبراہٹ اسے اینڈو سکوپی سے ہو رہی تھی، وہ مرحلہ بڑے آرام سے سر ہو چکا تھا۔ تین دن اسے لگا کہ سب کچھ نارمل ہو چکا ہے اور اپنی روزمرہ کے معمولات کی طرف واپس آنے کی سوچ سے اس کا دل بہت پرسکون تھا۔ جب چوتھے دن اسے متلی ہونے لگی اور پھر خون کی الٹیاں۔

ڈاکٹر شاہ نے اسلام آباد کے ہولی فیملی ہسپتال میں ایمرجنسی ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو فون کر دیا تھا۔ اور اسے اس کے پورے احوال سے آگاہ کر دیا تھا۔ اور عزیز کے گھر والوں کو تسلی دی کہ وہاں جلدی سے پہنچ جائیں۔ خدا خیر کرے گا۔ ایمرجنسی میں پہنچ کر انہیں ڈاکٹر کو احوال بتانے میں کچھ زیادہ دقت نہیں ہوئی۔ عزیز کا بلڈ پریشر بہت کم ہو چکا تھا۔ لیکن وہ نیم غنودگی کی حالت میں بھی اپنی بیگم اور بیٹے کو تسلی دیے جا رہا تھا۔ اس کے لئے جلد ہی خون کا انتظام کیا گیا۔ خون کے دو تھیلے اور ساتھ میں سیلائن کی ڈرپس سے اس کی حالت کافی بہتر ہو گئی۔ اس کا بلڈ پریشر نارمل ہوا۔ سب گھر والوں کی جان میں جان آئی۔

یہ سب کچھ سہ پہر کے دو اور شام کے سات بجے کے درمیان ہو رہا تھا۔

ایمرجنسی ڈاکٹر نے عزیز کا بلڈ پریشر بحال کرنے کے بعد اسے معدے اور پیٹ کے امراض کے یونٹ میں منتقل کرنے کے لئے ہدایات چارٹ میں لکھیں۔ عزیز کے معدے کی ایک شریان کھل چکی تھی اور اسے فوری اینڈو سکوپی کی ضرورت تھی۔ تاکہ اس شریان کو بند کیا جائے۔ لیکن اینڈو سکوپی یونٹ میں اس وقت کوئی نہیں تھا۔ لہذا اسے ایمرجنسی روم میں ہی بیڈ پر صبح تک رکھا گیا۔ اس دوران عزیز کے تمام ضروری ٹیسٹ کروا لئے گئے تھے۔ صبح چھ بجے اسے اینڈو سکوپی یونٹ منتقل کر دیا گیا۔ جہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ وہاں اس وقت کوئی نہیں۔ اگلے تین گھنٹے عزیز سٹریچر پر اینڈو سکوپی یونٹ کے بند دروازے کے سامنے انتظار میں پڑا رہا۔

نو بجے دروازہ کھلا اور اینڈو سکوپی روم کی صفائی کرنے والوں نے صفائی شروع کی۔ اور اگلے دو گھنٹے میں اینڈو سکوپی شروع ہوئی۔ لسٹ پر دو مریض عزیز سے آگے تھے۔ گیارہ بجے کے بعد آخر کار عزیز کی باری آئی۔ ابھی تک گھر والوں کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ عزیز کی بیوی کو ایک بے چینی تھی۔ اس کے ذہن میں سوالات کی بوچھاڑ تھی۔ اس نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو اس کی حالت اور اس کے پچھلے علاج اور خون کی الٹیوں کے بارے میں ایک بار پھر بتانا چاہا۔ لیکن ڈاکٹر نے اس کی بات یہ کہہ کر مختصر کردی کہ مریض کے چارٹ میں سب لکھا ہے۔ جبکہ چارٹ اس وقت تک عزیز کے سٹریچر پر اس کے ساتھ رکھا تھا۔

عزیز کی اینڈو سکوپی کی باری آنے تک اس کی کی طبیعت پھر سے خراب ہونے لگی تھی۔ اینڈو سکوپی شروع ہوئی۔ اس وقت تک عزیز کا معدہ خون سے بھر چکا تھا۔ سکوپ معدے میں ڈالتے ہی ڈاکٹر اتنے خون کو دیکھ کر حواس باختہ ہوا۔ اور ہنگامی حالت میں کچھ کیے بغیر عزیز کو اینڈو سکوپی کے کمرے سے باہر لے آیا اور گھر والوں کو ہدایت کی کہ جلدی سے خون کا انتظام کریں۔ مریض سیریس ہے۔ اس دوران عزیز کو خون کی ایک اور بڑی الٹی ہوئی۔ اینڈو سکوپی کرنے والے ڈاکٹر نے حواس باختہ حالت میں عزیز کی بیوی سے بلند آواز میں شکایتا پوچھا۔

آپ نے نہیں بتایا تھا کہ ان کی بینڈنگ ہوئی تھی۔ اس پر وہ غصہ کو سنبھالتے ہوئے اتنی ہی بلند آواز میں بولیں، سب کچھ چارٹ میں لکھا بھی ہے۔ اور میں نے بتانے کی کوشش بھی کی۔ لیکن آپ نے نہ صرف مجھے خاموش کرا دیا بلکہ اب مجھے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے مریض کے چارٹ کو بھی غور سے نہیں پڑھا۔ اتنی دیر میں جب عزیز کا بیٹا خون لانے کے لئے دوڑا، عزیز کو دوسری الٹی ہوئی اور اس کے ساتھ ہی اس کی جان اس کے وجود کا ساتھ چھوڑ گئی۔

عزیز کے گھر والوں پر کیا گزری۔ اور ان کی زندگیوں پر کیا اثر ہوا۔ اور ڈاکٹرز کے لئے ان کے دل سے کیا نکلتا ہے۔ اس کا ذکر تھوڑی دیر میں، لیکن اس سے پہلے ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میں کچھ کہوں گی۔

عزیز میرے چچا کا بیٹا تھا۔ اور میری بہن کا شوہر۔

میں خود ایک ڈاکٹر ہوں اور کینیڈا میں ایک ہسپتال میں سپیشلسٹ کے طور پر پریکٹس کرتی ہوں۔ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میں جانتی ہوں کہ ایسے حالات میں کیا ہونا ضروری تھا۔

جب خون کی الٹیوں کے ساتھ کوئی مریض آتا ہے، اور جب اس کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر چکا ہوتا ہے، اور خاص طور پر جب مریض کی چار دن پہلے بینڈنگ ہو چکی ہو، ایسی حالت میں اس مریض کا بلڈ پریشر بحال کرنے کے ساتھ ہی فوری طور پر اینڈو سکوپی ہونا ضروری تھی۔ ایک مریض جس کی ایک کھلی شریان سے خون تیزی سے بہہ رہا ہو، اس کا علاج فوری طور پر اس شریان کو بند کرنا ہی تھا۔ اس میں کسی بھی نوعیت کی تاخیر مریض کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف تھی۔ اس کیس میں جونیئر ڈاکٹرز ہی سب کچھ سنبھالے ہوئے تھے۔ اسے ایک عام معدے کی بیماری کا مریض سمجھ کر اگلے دن تک رکھا گیا۔ کسی نے مریض کا چارٹ وقت پر نہیں دیکھا۔ اس کی حالت کی شدت کا کسی نے کوئی اندازہ نہیں کیا۔

آج جب میں یہ کالم لکھ رہی ہوں اس کے شروع کرنے سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے میں شام کے ملٹی ڈسپلنری راؤنڈز (Multidisciplinary rounds) سے فارغ ہوئی ہوں۔ ان راؤنڈز میں ہمارے سرجن، پتھالوجسٹ، ریڈیالوجسٹ اور آنکالوجسٹ ہفتے میں ایک بار ملتے ہیں اور وہ والے مشکل مریض زیر بحث لاتے ہیں جن کے آگے کے علاج کے لئے ان سب کا مشورہ اپنی اپنی مہارت کے حساب سے ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ سب باقاعدہ ریکارڈ میں لکھا جاتا ہے۔

تاکہ اس پر عمل کرنے میں کوئی دشواری کا امکان نہ رہے۔ آج کے راؤنڈز میں ایک سرجن صاحب کے تین مریض بھی زیر بحث آنے تھے۔ لیکن ان سرجن کو ہنگامی طور پر اینڈو سکوپی کے کمرے میں بلایا گیا۔ تو انہوں نے اپنے مریضوں کے ڈسکشن کی باقی سب مریضوں سے پہلے کرنے کی درخواست کی اور فوراً اینڈو سکوپی کے لئے بھاگے۔ اس وقت شام کے چھ بج رہے تھے۔ عزیز کی طرح کا کوئی مریض ہسپتال لایا گیا تھا۔ اور سب کچھ چھوڑ کر اس کی اینڈو سکوپی کا شام چھ بجے انتظام کیا گیا تھا۔

یہاں پر کوئی بھی سپیشلسٹ مریض کی زندگی اور موت کی حالت کو نظر انداز کر کے گھر میں آرام نہیں کرتا۔ مزید کے آتے ہی پہلا مرحلہ مریض کی حالت کی خبرداری، اس کے کاغذات کا چیک کرنا اور فیملی ممبرز سے بات کر کے مریض کی حالت جاننا ہوتا ہے۔ اور اس پورے عمل کے راستے میں کوئی اور کام نہیں آ سکتا۔ یہاں پر اینڈو سکوپی کو اگلے دن پر نہیں رکھا جاتا۔ اور یہاں کا ڈاکٹر یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ مریض کے چارٹ کو غور سے پڑھے بغیر اور یہ جانے بغیر کہ مسئلہ کیا ہے اور اس کا کیا علاج ہونا ہے، مریض کو ہاتھ بھی لگائے۔

میں کینسر کے مریضوں کی تشخیص کرتی ہوں۔ جب کوئی بھی کینسر پہلی بار تشخیص ہوتا ہے۔ تو اخلاقی اور اصولی طور پر مریض کی بایاپسی (Biopsy ) ایک اور پتھالوجسٹ کو دکھائی جاتی ہے۔ جب کم سے کم دو پتھالوجسٹ ایک ہی تشخیص کرتے ہیں تو فائنل رپورٹ دی جاتی ہے۔ تاکہ غلطی کا امکان نہ رہے۔

میں کسی طور بھی یہاں کے سسٹم کا پاکستان جیسے غریب ملک کے سسٹم کے ساتھ موازنہ نہیں کر رہی ہوں۔ یہاں میرا صرف ایک نقطے پر زور ہے۔ جس کے لئے کسی پیسے یا کسی خاص انتظام کی ضرورت نہیں اور وہ نقطہ ہے، انسانی زندگی کو قیمتی سمجھنا۔ اور انسانی زندگی کو بچانے کے لئے اپنی ذمہ داری پوری طرح انجام دینا۔

”عزیز کا سینئیر ڈاکٹر صرف اس کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر دستخط کے لئے آیا تھا“ ۔ میری بہن نے ڈبڈباتی ٓانکھوں سے آٓنسو خشک کرتے ہوئے مجھے بتایا۔

جونیئر ڈاکٹرز جو ٹریننگ میں ہوتے ہیں، وہ اس طرح کے حالات میں اپنے حواس پوری طرح برقرار نہیں رکھ سکتے۔ اور نہ ہی مشکل مریضوں کو اپنے طور پر ہینڈل کر سکتے ہیں۔

عزیز کو کسی نے اس کیس کو ایمرجنسی کیس سمجھ کر نہیں سنبھالا۔ کیونکہ کسی نے چارٹ تک کو اینڈو سکوپی سے پہلے نہیں پڑھا۔ اور نہ ہی گھر والوں کی سنی اور جب وہ موت کے ہاتھوں میں پہنچ گیا تو ڈاکٹر فیملی پر چلائے کہ انہوں نے بینڈنگ کے بارے میں نہیں بتایا۔

جبکہ ساری فائلز جو فیملی ساتھ لے کر گئی تھی، اور اس کے ڈاکٹر نے پشاور سے فون پر جو پوری تفصیل بتائی تھی، سب معلومات فائل میں موجود تھیں۔ اسے اگلے دن کی اینڈو سکوپی کے لیے لسٹ پر رکھا گیا۔

میں ہر سال پاکستان جاتی ہوں۔ اور اپنے دوستوں سے ملتی ہوں۔ ہمارے ایک بہت اعلی مقام پر پہنچے ہوئے سپیشلسٹ ساتھی سے ایک ملاقات میں بات چیت ہو رہی تھی۔ وہ مجھے اپنے وطن واپس آنے کی تلقین کر رہے تھے۔ جو ہمیشہ سے میری خواہش رہی ہے۔ لیکن بعض اوقات جو ہم چاہتے ہیں وہ ہو نہیں پاتا۔ بہر حال مجھے واپس آنے کی تلقین کے ساتھ وہ کہنے لگے۔

”آپ کو معلوم ہے کسی غیر مسلمان ملک میں اپنی زندگی گزارنا بھی گناہ کے زمرے میں آتا ہے“ اور میں سوچنے لگی کہ ہمارے گناہ اور ثواب کا عقیدہ کتنی معمولی اور غیر ضروری باتوں پر ڈال کر ہم اصل اور بنیادی عقیدوں کو کتنی آسانی سے بالائے طاق رکھ لیتے ہیں۔ میرے اپنے خیال کے مطابق یہاں کے غیر مسلم ڈاکٹرز جو دن رات زندگیاں بچاتے ہیں، ان مسلمان ڈاکٹرز سے کہیں زیادہ اچھے انسان ہیں جو نماز تو پڑھ کر آ جاتے ہیں لیکن اپنی ڈیوٹی جونیئر ڈاکٹرز پر چھوڑ کر دوسرے کام اس وقت میں کرتے ہیں جن کی وہ تنخواہ لیتے ہیں۔ ہسپتال کی او پی ڈی میں کوئی سینئر ڈاکٹر مشکل سے ہی نظر آتا ہے۔ اس کی بجائے وہ شام کو اپنی پرائیویٹ کلینک میں جانے سے پہلے اپنا آرام مکمل کرتے ہیں کیونکہ صبح ہسپتال اور شام کو کلینک آسان کام نہیں۔

ہم ڈاکٹرز جب میڈیسن کی ڈگری لیتے ہیں تو ایک اوتھ لی جاتی ہے۔ یہ ایک وعدہ ہوتا ہے، ایک قسم ہوتی ہے جو میڈیکل پریکٹس شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹرز اٹھاتے ہیں۔ جس کے مطابق:

ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اپنے علم کو انسانی جان کے بچاوٴ، انسان کی بھلائی اور خدمت کے لئے استعمال کریں گے۔

ہمارے پاکستانی معاشرے میں جہاں ہر سسٹم مذہب کی بنیاد پر چلانے کی تگ و دو ہوتی ہے۔ وہاں ہم مذہب کے اصل معیار سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ انسانی زندگی سب سے سستی چیز بن چکی ہے۔ کتنے لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اور ان مرنے والوں کے چاہنے والے رو دھو کر اس بات پر صبر کر کے بیٹھ جاتے ہیں کہ موت کا ایک دن مقرر ہے اور شاید یہ موت اسی طرح ہی لکھی گئی تھی۔

مجھے ایک یقین سا تھا کہ طب کا شعبہ، مسیحائی کا شعبہ ہے۔ یہاں انسان انسان کو زندگی کے نہایت کمزور لمحات میں دیکھتا ہے۔ اور انسانیت کم از کم اس شعبے میں کسی حد تک برقرار ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے، یہ خام خیالی ہی ہے۔

عزیز کی فیملی جس حال سے گزر رہی ہے۔ میں اسے بہت قریب سے دیکھتی ہوں۔ عزیز کی حیثیت گھر کے ایک ستون کی سی تھی۔ اس کے چلے جانے سے ان کے گھر پر ایک ویرانی چھا گئی ہے۔ اس کی بیوی نے زندگی سے جیسے ہار مان لی ہے۔ ان کے گھر کا کمانے والا، مشکل میں ہاتھ پکڑنے والا چلا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس کی بیوی جو میری بہن بھی ہے، اس کا بلڈ پریشر اونچا ہو کر آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے۔ لیکن اس کا ڈاکٹروں سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ کیونکہ وہ ڈاکٹروں کو مسیحا نہیں سمجھتی۔ اور ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے یہ سوچ مجھے بہت اداس کر دیتی ہے۔ اور میں سوچتی ہوں کہ کیا ہم ڈاکٹر، جو انسانی زندگی کو ہر چیز سے بالاتر سمجھ کر انسانوں کی خدمت کا وعدہ کرتے ہوئے میڈیسن کی ڈگری حاصل کرتے ہیں، کیا ہم مسیحائی کا حق ادا کرتے ہیں؟

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالدہ نسیم

ڈاکٹر خالدہ نسیم کینسر کے امراض کی تشخیص کی ماہر ہیں۔ اور کینیڈا میں کنسلٹنٹ سرجیکل اور یورولاجک پیتھالوجسٹ کے طور پر پریکٹس کرتی ہیں۔ کینسر اور دوسرے امراض سے بچاؤ میں روزمرہ زندگی کے طور طریقوں کے اثرات میں ان کو خصوصی دلچسپی ہے۔

dr-khalida-nasim has 16 posts and counting.See all posts by dr-khalida-nasim