اداس مصور


کالے گھنے بادلوں نے شہر پر اندھیرا کیا ہوا تھا۔ شاید کچھ ہی دیر میں بارش ہونے والی تھی۔ بادلوں کی گرج ایک خوبصورت موسیقی بنا رہی تھی۔ جو اداس روحوں کے لیے سکوں تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے بادل خدا سے خفا ہیں۔ یا خدا کے کسی فیصلے پر رضامند نہیں۔ بادلوں کا خفا ہونا بنتا بھی تھا۔

آج خدا نے اک اداس مصور کو اور بھی اداس کر دیا تھا۔ آج زندگی کے سارے رنگ کینوس پر پھیکے پڑ چکے تھے۔

امجد آج کالے بادلوں کے نیچے ان کھیتوں کو دیکھ رہا تھا۔ جن کو اس کے باپ اکبر نے اپنے خون سے سیراب کیا تھا۔ امجد کی والدہ نو برس پہلے انتقال کر چکی تھی۔ اس کے بعد اکبر ہی امجد کی ماں اور باپ تھا۔ اکبر ایک کسان تھا۔ وہ کھیتوں کو اپنے خون پسینے سے سیراب کرتا اور پھر ان سے ملنے والی رقم کو امجد کی پڑھائی پر لگاتا تھا۔ امجد کو ڈرائنگ سے محبت تھی۔ اس لیے اکبر نے اس کا داخلہ شہر کے سب سے اچھے آرٹ کالج میں کروایا۔ اور آخر کار امجد ایک مصور بن گیا تھا۔ اب وہ دو مختلف رنگوں کو پلیٹ پر رکھتا اور ایک نیا رنگ بنا دیتا۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کے غربت اور ہنر کو ملا کر مسکراہٹیں کس طرح خریدی جا سکتی ہیں۔

آج خدا نے امجد سے اس کا آخری سہارا بھی چھین لیا تھا۔
اب وہ کھیت ویران تھے۔ اور امجد کی زندگی میں موجود رنگ پھیکے پڑ چکے تھے۔ زندگی ایک گاڑی کی طرح ہے۔ اس کی رفتار خوشی کے وقت حد سے زیادہ تیز اور غمی کے وقت شدید سست ہو جاتی ہے۔ باپ کے موت نے امجد کے جسم سے اس کی روح کو بھی جیسے جدا کر دیا تھا۔ جیسے تیسے دن گزرتے گئے۔ امجد اب دن رات اداس اور رنگ برنگی شکلیں اپنے کینوس پر اتارتا لیکن وہ امجد کو بے رنگ ہی لگتی۔ کیوں کے اس کے پاس اپنے باپ کے وہ اعزازی جملے موجود نہیں تھے۔ جو وہ ہر تصویر کے بعد اکبر میاں سے وصول کرتا تھا۔ کاش خدا ہمیں کسی کو قتل کرنے کے بجائے کسی کو زندگی دینے جیسی نعمت سے نواز دیتا۔

ایک دن بعد شہر کی مشہور آرٹ گیلری میں تمام آرٹسٹ کے آرٹ کی نمائش تھی۔ امجد نے بھی اپنا من بنا لیا تھا۔ دوسرے دن امجد اپنے آرٹ کے ہمراہ آرٹ گیلری چلا گیا۔ سب نے امجد کے اس آرٹ کی بہت تعریف کی۔ وہاں امجد کی ملاقات شازیہ سے ہوئی۔ جو آرٹ میں دلچسپی رکھتی تھی۔ شازیہ نے امجد کے کام کو چند تعریفی جملوں سے نوازا کچھ مزید باتیں ہوئی۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد شازیہ نے امجد کو کل رات کے کھانے پر مدعو کیا۔ جس پر امجد نے رضامندی ظاہر کی اور اپنے گھر کی طرف نکل گیا۔ نہ جانے کیوں لیکن امجد کو شازیہ میں کچھ اپنا پن سا لگا تھا۔ اکبر میاں کے بعد یہ کسی کے پہلے تعریفی جملے تھے جنہوں نے امجد کی چہرے کو مسکراہٹ جیسے تحفے سے نوازا تھا۔ دوسری طرف شازیہ کو بھی امجد کا آرٹ بے حد پسند آیا۔

دراصل یہ تصویر ایک اداس بڑھیا کی تھی جس کا آدھا چہرہ جوانی اور آدھا بڑھاپا پر مشتمل تھا۔ دوسرے دن امجد نے تیاری کی اور شام سات بجے وہ شازیہ کے گھر کی جانب نکل گیا۔ جو تیس منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔ امجد نے شازیہ کے لیے تحفہ کے طور پر وہ تصویر بھی ساتھ رکھ لیا۔ کچھ دیر بعد امجد شازیہ کے گھر پہنچ گیا۔ اور اسے اپنی خوبصورت پینٹنگ تحفے میں دی۔ جس کی کل شازیہ نے خوب تعریف کی تھی۔ شازیہ نے امجد کا بہت شکریہ ادا کیا۔

کچھ ہی دیر میں کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں شازیہ کے کمرے میں چلے گئے۔ شازیہ نے اس پینٹنگ کو سامنے والی دیوار پر لگا دیا۔ وہ دونوں وہاں بیٹھ گئے۔ رات کے دس بج چکے تھے۔ شازیہ امجد کے بہت قریب تھی۔ اتنی کے اس کے جسم کو لگی خوشبو کو امجد محسوس کر رہا تھا۔ میرے مطابق ہر انسان کے اندر ایک لاوا موجود ہے۔ جو مخصوص وقت پر گرمی کا احساس دلاتا ہے۔ ویسے بھی مرد اور عورت میں بہت دوریاں ہوتے ہوئے بھی کوئی دوری نہیں۔ جب ایک مرد عورت تنہائی میں ہوتے ہیں تو ان میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا۔ بس رہتا ہے تو ایک احساس فقط محبت کا۔ شازیہ نے امجد کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بنا کسی ہچکچاہٹ کے اس ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں جکڑ لیا۔ اور کمرے کی لائٹ بجھا دی۔

دوسرے دن امجد دس بجے شازیہ کے گھر سے نکالا۔ اسے یہ رات کسی خواب کی طرح لگ رہی تھی۔ وہ مسلسل یہ سوچ رہا تھا۔ کے کیا مرد اور عورت کے بیچ کوئی خلا موجود ہے۔ یا سب افسانوں باتیں ہیں۔ اسے یہ دنیا اب رنگین نظر آ رہی تھی۔ چند روز بعد امجد کسی کام سے دوسرے شہر چلا گیا۔ شازیہ سے اس کی روز بات ہوتی لیکن اس کی آنکھیں شازیہ کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھی۔ تقریباً ایک مہینے بعد وہ واپس شہر لوٹ آیا۔ وہ شہر آتے ہی سیدھا شازیہ کے پاس چلا گیا۔

بہت کم وقت میں وہ دونوں بہت قریب آ گے تھے۔ اب زندگی ایک نئی چال کی طرف گامزن تھی۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد دونوں نے ایک حسین رات گزاری۔ دوسرے دن امجد گاؤں اپنے کھیتوں کو دیکھنے آیا۔ جو اب بنجر ہو چکے تھے۔ وہ زمین جس میں اکبر کا خون پسینہ شامل تھا۔ وہ ویران ہو چکی تھی۔ شام کا سورج کونجوں کے ڈار کو الوداع کہ رہا تھا۔ کھیتوں کے پاس موجود ندی کی آواز ایک اداس گیت گائے جا رہی تھی۔ اس سورج کے ساتھ امجد کا دل بھی ڈوب رہا تھا۔ آج ان کھیتوں نے اکبر کی یادوں کو تازہ کر دیا تھا۔ امجد دل ہی دل میں سوچ رہا تھا۔ کے یہ قسمت بھی کیا چال باز ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کیسے انسان کو مصنوعی خوشیوں سے نواز کر اسے دنیا میں گم کر دیتی ہے۔

کونجوں کے اپنے مقام پر پہنچتے ہی امجد بھی شہر کے لیے نکل آیا۔ راستے میں شازیہ کی کال آئی کہ اس کی طبعیت اچھی نہیں ہے وہ ملنا چاہتی ہے۔ چار گھنٹے کے سفر کے بعد امجد شازیہ کے پاس پہنچ گیا۔ جو بے بس حالات میں بستر پر پڑی تھی۔ شازیہ نے امجد کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا۔ یہ وقت سوداگر اور یہ زندگی بہت چال باز ہے امجد، شازیہ نے کہا۔ اس کا سانس پھول چکا تھا۔ شاید وہ امجد سے طویل گفتگو کرنا چاہتی تھی۔ اور اسے زندگی کا سچ اور اصل چہرہ بتانا چاہتی تھی۔ لیکن آج تک زندگی نے کسی کو اتنی مہلت نہیں دی۔

Facebook Comments HS