خواہشِ ضبط


خواہش اور ضبط دونوں یکسر متضاد تصورات ہیں۔ تصورات اس بنا پر کہ کوئی مادی وجود نہیں رکھتے۔ دونوں ایسی کیفیات ہیں جو یوں کہیے کہ فن تجرید کے کسی ایک تناظر کا ماخذ ہیں۔ جس طرح اشارات و کنایات فقط اصل مقصد کے ایک حصے کو مربوط رکھتے ہیں اور ان کا تعلق نہ آپس میں ظاہر ہوتا ہے اور نہ مفعول کے ظاہری وجود کے ساتھ کوئی رابطہ نظر آتا ہے۔ اسی طرح ان تصورات کے ابہام کی توضیح بھی بہت دقیق ہوتی ہے۔ خواہش اور ضبط اگر متضاد ہیں تو قوانین ریاضی کے مطابق ان کا ایک دوسرے کو قطع کرنا بھی لازم ہے۔ لیکن اس بات کا اطلاق اس صورت میں درست ہو گا جب ان دو کی صحیح تعریفات معلوم ہوں گی۔

خواہش کیا ہے؟ اس سوال کا آدھا جواب احمد جاوید صاحب کی اس بات میں ملتا ہے کہ ”اگر تم یہ سوال کرتے ہو کہ ’بینائی کیا ہے؟‘ تو اس کا مطلب ہے تم خود نابینا ہو“ ۔ وضاحت اس کی یہ ہے کہ جو آدمی دیکھ سکتا ہے اس کو اس سوال کی حاجت نہیں رہتی کہ ’دیکھنا کیا ہے؟‘ ۔ بشرطیکہ اس کا تجسس صحیح طور پر جاننے کا ہی ہو۔ ذاتی ترجیحات کی بنا پر اگر سوالات کیے جائیں تو جانبداری یا بلا تفریق ایک جانب جھکاؤ کا احتمال یقینی ہے۔

خواہش کا وجود ہر اس شخص کے ذہن پر منکشف ہے جو خواہش رکھتا ہے۔ اور خواہش انسان کی سرشت میں رکھی گئی ہے۔ لہٰذا اس بات کا انکار کرنا کہ میری کوئی خواہش ہے، سراسر مہمل ہے۔ دوسرے حیوانات کے اذہان پر یہ بات اس لیے منطبق نہیں ہوتی کیوں کہ وہ اس درجے پر سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جو انسان کے پاس ہے۔ خواہش ایسی کیفیت ہے جو فاعل اور مفعول کے درمیان کشش کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ کشش بھی کئی اقسام کی ہو سکتی ہے۔

مثلاً عارضی، مثبت، منفی، مستقل، واضح، مبہم، راحت آمیز، کلفت انگیز وغیرہ۔ اس کی ساخت اور ہیئت کا دار و مدار فاعل کی قوت متخیلہ پر ہوتا ہے۔ ممکن ہے جس زاویے سے وہ اپنے مفعول یا شے کا ادراک کرتا ہے، اس کا ہم جنس اسی شے کو مختلف انداز سے احاطۂ شعور میں لائے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ حسن انسان کی آنکھ میں ہے۔ اسی طرح شے کو شعور کی حدود و مہیجات تک رکھ کر پرکھنا ذہن کی قوت ممیزہ پر منحصر ہے۔ اور شے کا وجود مادی بھی ہو سکتا ہے اور مابعد طبیعی بھی۔ یہ ایک وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی تعریف کا استحقاق رکھتے ہیں۔

اب فاعل کے انداز نظر کی طرف آتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے، جو سچ بھی ہے، کہ ہر انسان کی سوچ کا پیمانہ دوسرے سے الگ ہے اور وہ سوچ اپنے آپ میں مکمل بھی ہے تو اس طرح شے کے ساتھ تعلق بھی لامحدود ہیئتیں رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواہش اگر اس تعلق کی بنا پر ہے تو وہ سوچ کے ہر قالب میں ڈھالی جا سکتی ہے۔ مزید اگر عمیق مطلب نکالا جائے تو یہ ہے کہ خواہش کی کوئی آفاقی تعریف نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہاں اس بات کا بھی رد ملتا ہے۔

وہ اس طرح کہ اگر خواہش انسان کی سرشت میں رکھی گئی ہے اور فطرت کے قوانین بھی اٹل ہیں تو خواہش کی تعریف کے باب میں اس کا عمل دخل صرف اتنا ہو گا کہ خواہش کا وجود ہے۔ بس۔ اس سے زیادہ اگر پرکھا جائے تو وہ لامحدود ترجیحات میں شامل ہو گا۔ جس کا نتیجہ کچھ نہیں ہے۔ اگر اسی پر قیاس کیا جائے تو دیگر سوالات جیسے ’خواہش کیا ہے؟ کیوں ہے؟ کیسی ہے؟ اس کا وجود کیسا ہے؟ مادی ہے یا غیر مادی؟‘ ادھورے رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا ’خواہش کیا ہے؟‘ کا ادنیٰ سا جواب وہی ہے جو اوپر مختصراً لکھ دیا گیا ہے۔

ضبط کیا ہے؟ ضبط بھی ایک جامع کیفیت ہے۔ ایک ایسا احساس ہے جو خواہش کے معنی ظاہر ہونے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ کسی بھی شے کا معنی یہ ہے کہ اس کے وجود کا تاثر کیا ہے۔ مثلاً درخت ایک شے ہے۔ ایک لفظ ہے۔ اس کا ادنیٰ سا معنی اس وقت کھلتا ہے جب ایک تصور ذہن میں ابھرے۔ لکڑیوں کے بے قاعدہ ڈھانچے اور برگ و بار، قد اور ساخت اور سائے وغیرہ کی ایک مجموعی منقش تصویر کا ذہن پر ایک تاثر ہے جو اس شے کا ادنیٰ معنی ہے۔ اسی طرح خواہش کا معنی یہ ہے کہ اس کے وجود کا عملی نمونہ یا عملی سانچہ ظاہر ہو جائے۔

جسے عام لفظوں میں اظہار کہا جاتا ہے۔ تو ضبط، خواہش اور اظہار کے باہمی اختلاط عمل میں ایک رکاوٹ ہے۔ عموماً یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر شے اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ اور خواہش اگر اظہار نہ ہو پائے تو اس کا معنی جاتا رہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ضبط خواہش کی ضد ہے۔ اس سے اس بات کی توثیق ہو گئی کہ خواہش اور ضبط دونوں متضاد ہیں۔ اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دونوں کا وجود اس وقت تک غیر مادی ہے جب تک اظہار نہ ہو۔

اس سے یہ نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ اظہار، ضبط اور خواہش دونوں کا معنی ہے۔ اگر خواہش اپنے معنی کو پا لے تو ضبط کا وجود نہیں رہتا اور اگر ضبط اپنے معنی کو پا لے تو خواہش کا وجود مبہم ہو جاتا ہے، مٹتا نہیں ہے۔ یہاں یہ معمہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دونوں متضاد ہیں تو ریاضی کے اصولوں کے مطابق ان کا ایک دوسرے کو قطع کرنا لازم ہے۔ مگر خواہش تو مکمل نہیں مٹتی۔ پھر یہ دونوں متضاد کیسے ہوئے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا، روایتی لہجے میں کہا جائے تو، جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

اب موضوع کی طرف آتے ہیں۔ خواہش ضبط کیا ہے؟ الفاظ کے مرکب سے ظاہر ہے کہ ضبط کی خواہش، خواہش ضبط ہے۔ لیکن ابھی یہ منطقی نتیجہ نکالا گیا ہے کہ یہ دونوں متضاد ہیں۔ اور ایک عنصر کے باعث غیر متضاد بھی۔ اگر ضبط کی خواہش کی جائے تو اس کا مطلب ہے جیسے جمع (+) اور منفی (۔ ) کو آپس میں ملا دیا جائے۔ جس کا نتیجہ منفی ہو گا۔ اسی طرح ضبط اور خواہش کو ملا دینا اظہار کی نفی پر منتج ہوتا ہے۔ اور یہ ایک مسلسل طویل عمل ہے جس کی تکرار ہی اس کے استقلال کا باعث ہے۔

ضبط کی خواہش کرتے رہنا آخر کار ایک ایسے مقام تک لے جاتا ہے جہاں دونوں کی حاجت نہیں رہتی۔ اور اس سے متصل رہنے سے دونوں کے وجود مٹ جاتے ہیں اور قوانین فطرت ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وحدت الوجود یا وحدت الشہود، ثنویت یا تثلیث جیسے نظریات میں فرق نہیں رہتا۔ ایک ایسی بے نام کیفیت ہوتی ہے جس کی انتہا کسی نام پہ ختم ہوتی ہے۔ اور جس نے بھی اس کو کوئی نام دینے کی کوشش کی، یا تو وہ سولی پر لٹکا یا پھر گردن کٹوا بیٹھا۔ تا ابد پروانے کا شمع کے گرد چکر لگاتے رہنا ہی اس کی بقا کا موجب ہے۔ اگر وہ خود ہی جل گیا تو کیا کیفیت اور کیا سرور! لہٰذا خواہش ضبط اپنے وجود کا معنی تلاشنے کے عمل میں ممد ثابت ہوتی ہے۔ غالب نے تو اس جستجو کی جستجو کے اصل کو بھی ناپید قرار دیا ہے :

پیدا نہیں ہے اصل تگ و تاز جستجو
مانند موج آب، زبان بریدہ ہوں

Facebook Comments HS