انسان اور حیوان میں فرق


انسان اور حیوان میں بہت مماثلتیں ہیں۔ مثلاً سانس لینے کے لئے ہوا کی ضرورت، زندگی کی نشوونما کے لئے پانی اور خوراک کی طلب، دیکھنے کے لئے آنکھیں، سننے کے لئے کان، انسانوں کی طرح نظام انہضام چلنے کے لئے پاؤں، مذکر اور مونث بچوں کی پیداوار، ان کی خوراک کے لئے جسمانی دودھ کی موجودگی اور ان کی حفاظت کی فکر وغیرہ تمام خصوصیات میں مماثلت کے باوجود ایک فرق جو انسان اور جانور میں تفریق کرتا ہے وہ شعور ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، اچھے برے کی تمیز، اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے جو اپنی مرضی اور سوجھ بوجھ کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ گویا انسان جب اپنے علم، شعور اور دماغی صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے تو وہ انسان کے درجے سے نکل کر حیوان کے درجے میں شامل ہو جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل عطاء کر کے اشرف المخلوقات بنا دیا۔ اس عقل کے باوجود اگر انسان کا دل پتھر بن جائے اور ضمیر مردہ ہو جائے تو پھر انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ اپنے سیاسی، عسکری اور معاشی مفادات کے لئے جب طاقتور قوتیں اپنے ہتھیاروں کے بل بوتے پر انسانوں کو کیڑوں مکوڑوں کی طرح تلف کر دیتی ہیں تو انسانیت حیوانیت کے بدترین روپ میں سامنے آتی ہے۔

انسانیت کو معراج اس وقت عطا ہوئی جب اللہ نے انسانیت پر احسان فرمایا اور اپنے محبوب ﷺ کو خاتم الانبیا بنا کر مبعوث فرمایا۔ گویا مسلمان ہونا اور حضور اکرم ﷺ کا امتی ہونا ہمیں انسانیت کے اعلٰی ترین مرتبے پہ فائز کرتا ہے۔ اگرچہ ایک مسلم معاشرے کا رکن ہونے کے ناتے میرا فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں اور میرا دین وہ مکمل دین ہے جس کے بعد کسی مزید ترمیم اور اصلاح کی ضرورت اور گنجائش نہیں اور جو قیامت تک قائم رہنے والا ہے۔ اس طرح دین فطرت اور سرکار ﷺ کے امتی ہونے کے ناتے ہم سب مسلمانوں کا طرز عمل دیگر انسانوں (اور مذاہب کے ماننے والوں ) سے بہت اعلٰی معیار کا ہونا چاہیے۔ کیونکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب قرآن مجید اور محسن انسانیت ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو ہماری راہنمائی کے لئے موجود ہے۔

مسلمان اس بات پر غور کرے کہ وہ کیا چیزیں چھوڑ نے یا کرنے سے مسلمان ہوتے ہوئے بھی نہ تو مسلمان رہتا ہے اور نہ ایک کامل انسان اور اس طرح وہ ایک نہیں بلکہ اپنی دو عظیم حیثیتوں سے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے خود ہی دست بردار ہو کر جانوروں سے بھی نچلی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔

قرآن مجید نے انسانی اور حیوانی برتاؤ کے اس فرق کی نشان دہی چودہ سو سال پہلے کی ہے اور انسانی عقل کو ہی اس کا سبب قرار دیا ہے : ”کیا تم نے ان لوگوں کو دیکھا نہیں جنھوں نے اپنی ہوس کو ہی اپنا معبود بنا لیا ہے، تم بھلا ان کا ذمہ کیوں کر لے سکتے ہو۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں، وہ تو بس جانوروں کے مثل ہیں، بلکہ ان سے بھی بدتر۔“

کسی کا نام اور اس کی قومیت کچھ بھی ہو، اگر قرآن مجید کی اس طرح کی آیات پر وہ سنجیدگی سے نظر ڈالے تو وہ میری طرح ایک بار ضرور سوچے گا اور سوچے گا ہی نہیں بلکہ چوں کے گا کہ آخر انسان کی ہوس کا وہ کون سا روپ ہے جس کی وجہ سے وہ انسانی عقل سے سوچنا اور انسانی دل سے دھڑکنا چھوڑ دیتا ہے؟ اور جانور ہی نہیں ان سے بھی بد تر ہو جاتا ہے؟

قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے : ”انسان تخلیقات میں ہماری بہترین تخلیق ہے اور اسفل سافلین میں پڑا ہوا ہے“ ۔

Facebook Comments HS