ایک باپ کا اپنی چھ ماہ کی بیٹی کے نام خط


عزیز بیٹی

لوگ کہ رہے ہیں کہ آج سورج عین اسی مقام پہ ہو گا جس مقام پہ ایک سال پہلے تھا، اس لیے وہ بہت خوش ہیں، حالانکہ جتنا میں جانتا ہوں یہ ہر ہر لمحے اسی مقام پہ ہوتا ہے جہاں یہ ایک سال پہلے تھا، در اصل یہ ایک سال کا تکلف بھی تو عجیب ہے، یعنی اس میں کچھ ہیرا پھیری بھی ہے۔ یہ اتنا بھی مکمل نہیں ہوتا، بلکہ دن کے چوتھائی حصے کا فرق تو رہ ہی جاتا ہے۔ جسے ہم ہر چار سال بعد متردد انداز میں پورا کر لیتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز تصور تو ابتدا اور اختتام کا ہے، یعنی ایک ایسی ہی بات جیسے گاڑی میں پارک سے گھر جاتے ہوئے چھوٹے بچے ہر ہر موڑ اور علامت کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ یہ تو ہم نے جاتے ہوئے بھی دیکھی تھی۔

شاید عیسوی سال کی نسبت حضرت مسیح سے ہے، اس عنوان سے کچھ لوگ یہ مانتے ہوں کہ ان کا نکتہ آغاز سورج کا وہ مقام ہونا چاہیے جب حضرت مسیح دنیا میں آئے تھے لیکن ان کی تاریخ ولادت جس طرح کہ چھ دن پہلے منا لی جاتی ہے اور کچھ جگہوں پہ چھ روز بعد تو شاید یہ حقیقت بھی نہ ہو اور اگر ایسا ہوتا بھی تو شاید اس کی پروا ہی ان جشن منانے والوں کو نہ ہو۔ میرے وجود کے ذرات، ان ذرات سے بنے ہوئے سالمے اور ان سالموں سے بنے حیاتیاتی خلیے، اپنی اسی رفتار سے مختلف کیمیائی مواد کا تبادلہ کرنے میں مصروف رہیں گے، خیالات ابھرتے رہیں گے، فکریں الجھتی رہیں گی، میرے دماغ میں موجود کھرب ہا عصے اور ذہن میں موجود سوال و جواب، الجھی الجھی فکریں سب اپنی رفتار سے مجھے ٹہوکے دیتے رہیں گے اور الجھاتے رہیں گے، میں اگر اس قسم کے بچگانہ تصور میں خوش ہونے کا ناٹک کروں یا خوشی منانے کا تکلف کروں تو سوا سیر وزن کا یہ عضو جو میرے سر میں پھنسا ہوا ہے میری طرف دیکھ کر طنزیہ ہنسی ضرور ہنسے گا، اور تم تو جانتی ہو اس قسم کے طنز برداشت کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔

عزیز بیٹی

انسان اپنی زندگی اکائیوں اور حصوں بخروں میں بانٹ کر خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرتا ہے، پھر یہ بھی ہے کہ اس طرح وہ لا محدود جہتوں کو کسی نہ کسی طور گن اور ناپ تول سکتا ہے ورنہ یہی طنز کرنے والا شریر عضو، زمینی حقیقتوں کے سامنے خجالت محسوس کرنے لگے گا۔ پھر اس قسم کے معین ہونے والے پیمانوں کو برا نہیں سمجھا جا سکتا بہرحال انسان جب زندہ رہتا ہے تو روایتوں اور تمثیلوں کو سچ سمجھنا شروع کر دیتا ہے، اور بعض اوقات تو یہ گھڑے گھڑائے سچ اتنے پختہ ہو جاتے ہیں کہ ان کے مقابل آنے والے مستقل سچ بھی دھندلے لگنے لگتے ہیں۔

بہرحال زندگی کی کوئی تقسیم تو کرنی ہی ہے۔ میرا خیال ہے ہم میں سے ہر ایک کے لیے یہ تقسیم مختلف اور منفرد ہوتی ہے۔ میری زندگی میں سورج اور چاند کا وہ مقام اہمیت رکھتا ہے جب تم اس دنیا میں آئیں، لہذا میں چاند سورج کی حرکت کو اس مقام کی نسبت سے دیکھنا چاہتا ہوں، یا وہ مقام جب میرے ذہن میں چند نئی گرہیں کھلتی ہیں، حالانکہ سورج چاند اس سے بے نیاز اور یہ واقعات سورج چاند کی حرکتوں سے بے نیاز ہیں، لیکن میرے ذہن میں چلنے والا وقت ہمیشہ مستقل تو نہیں رہ سکتا، ان خلیوں سے میرے بدن کو اور میرے بدن میں ہونے والی تبدیلیوں سے اطراف کے باقی لوگوں کو اس طرح منسلک تو نہیں کیا جا سکتا۔

شاید یہی وہ مجبوری ہے جس کے سبب ہم سورج کے اپنے اپنے پسندیدہ مقامات پہ سمجھوتا کر کے کسی کا بھی طے شدہ مقام کو قبول کر لیتے ہیں۔ تم محسوس کر رہی ہو کہ اس سب میں بہرحال میں بھی کسی حد تک حضرت مسیح سے منسوب ان کی ولادت کے دن کے علاوہ کسی اور دن یا سورج کے کسی اور مقام پہ ہونے کو قبول کرتا جا رہا ہوں اور سمجھ رہا ہوں کہ سال اور ہندسوں کی اس تقسیم کو مانے بغیر شاید باہر کی دنیا سے متواتر رابطہ برقرار رکھنا تھوڑا سا مشکل ہو جائے۔

اگرچہ ہم کچھ چیزوں کو تو نظر انداز کر سکتے ہیں لیکن بہرحال ہفتے کے دنوں کی تقسیم تا کہ ایک چھٹی والے دن کی عدم مصروفیت سے، یا بقول فرانسیسیوں کے ڈولچی فار نیانتے، (dolce Far Niente) کا لطف اٹھایا جا سکے، یا کام کے دنوں کی ترتیب تا کہ مہینے کے اختتام پہ تنخواہ کا تقاضا کیا جا سکے، لیکن ذرا سوچو تو سہی اس چکر کے آغاز اور اختتام کا تصور اور اس پہ خوش ہونا کیسا مضحکہ خیز ہے۔ بہرحال اگر کوئی مجھے اس خوشی کا بہروپ بھرنے کی مشقت یا جذباتی ہونے کے ناٹک کے گناہ بے لذت کی دعوت نہ دے تو شاید لوگوں کو اچھل کود کرتے دیکھنا ناقابل برداشت حد تک تکلیف دہ نہ ہو۔

عزیز دلم

میرا اپنا سال ذاتی اعتبار سے خاصا پیچیدہ معاملہ ہے، زمین کی معمول کی قلا بازیوں کے دوران چند ہی ایسے اوقات ہوتے ہیں جب ذہن کچھ نئی گرہیں کھول پاتا ہے، جب دل کے افق پہ شعور کا سورج طلوع ہوتا ہے، جب عملی طور پہ انسان کوئی ایسا کام کرتا ہے کہ انسان اپنے وجود کے روئیں روئیں میں نیا پن اور جدت محسوس کرتا ہے، کاش ہم اس کی مناسبت سے نئے سال کا جشن منا سکتے، لیکن اس حساب سے تو میری عمر بہت کم رہ جائے گی۔ جب سے تم آئی ہو تو تمہاری بدلتی ہوئی حرکتوں اور نئی عادات کے ظاہر ہونے سے بھی دل میں ایسا ہی تاثر ابھرتا ہے، جو یقیناً سورج کا مقام معین کرنے اور نئے آغاز کی خوشی منانے کے لیے مناسب موقع ہے اور یقین کرو کہ اس اعتبار سے نئے پن کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے اور میری عمر بڑھنے لگی ہے یعنی ارتقا کا سفر تیز ہونے لگا ہے، لیکن یہ بھی ان بہت سے کاموں میں سے ہے جو نہیں ہو سکتے، نہیں کیے جا سکتے اور نہیں ہو پائیں گے۔

تمہارا بوڑھا باپ، جسے ماہ و سال کے چکروں میں کوئی دلچسپی نہیں اور ارادوں کا کمزور ہوتے جانا، بننا اور ٹوٹنا ہی اس کے لیے وقت کے گزرنے کا تعین بنتا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “ایک باپ کا اپنی چھ ماہ کی بیٹی کے نام خط

  • 01/01/2023 at 8:40 شام
    Permalink

    ایک علم دوست باپ کا بیٹی کے نام انتہائی فکر انگیز خط
    یہ آفتاب ہمیشہ درخشاں رہے، آمین

Comments are closed.