اہم وہ ابلاغ ہے جو لوگوں کو عمل پر آمادہ کرے


"When the orator Aeschines spoke, the crowd said, ‘How well he speaks.’
But when Demosthenes spoke, the crowd said, ‘Let’s march against Philip. ‘”
– David Ogilvy

جب شعلہ بیان ایشینیز نے تقریر کی تو ہر کسی نے کہا ”کیا زبردست انداز بیان ہے“
مگر جب ڈیموستھینز نے خطاب کیا تو عوام بیک زبان بولے : ”چلو! فلپ کے خلاف مارچ کرنے۔“

یہ دور جدید میں ابلاغیات کے پیغمبر کا خطاب پانے والے ڈیوڈ اوگلوی کی شہرہ آفاق کتاب ”اوگلوی آن ایڈورٹائزنگ“ کے جملہ ہائے آغاز ہیں۔
کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ابلاغ کے موثر ہونے کا پیمانہ عوام کی واہ واہ نہیں، بلکہ ان میں رویوں کی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں عمل پر نہ صرف آمادگی بلکہ عمل درآمد کی جلدی ہے۔

ابلاغیات کے شعبے میں اپنے چار دہائیوں سے زائد پر پھیلے کیریئر میں، جس میں یونیورسٹی لیول کی تدریس بھی شامل ہے میں نے شاید ہی کسی کو ابلاغ کے اس پیمانے پر سرخرو ہوتے دیکھا ہو سوائے ایک لینہ حاشر کے، جن کی چند سال پہلے ہم سب پر شائع ہونے والی ایک ہی تحریر نے اس پیمانے کو نہ صرف بہت پیچھے چھوڑ دیا بلکہ شاید بالکل ہی غیر متعلق بھی کر دیا۔ یہ میرے لئے حیرت کا ایک خوشگوار جھٹکا تھا اور خوشی کا ایک احساس بھی کہ کوئی تو نکلا۔

سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ شکوہ، شکایت یا مشاہدہ ہر روز کسی نہ کسی وال پر مل جاتا ہے کہ ”اپنی بھڑاس نکالنے کو لکھتے ہیں، ورنہ جو جس سوچ پر کاربند ہے، اس سے ایک انچ ادھر ادھر ہونے کو قطعی راضی نہیں“

اتنے سالوں میں اگر کوئی استثناء سامنے آیا تو وہ لینہ حاشر کی وہ تحریر تھی جس کے نتیجے میں تحریر کے موضوع طبقے کی زندگی میں خاطر خواہ مثبت تبدیلیوں کے لئے بہت سے لوگ نہ صرف ”چلو! فلپ کے خلاف مارچ کرنے۔“ کہتے نکل کھڑے ہوئے بلکہ اس کو عملی جامہ پہناتے بھی ہم نے جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھے۔ تحریر کی طاقت کا کتابوں میں لکھی کہانیوں سے باہر زندگی میں عملی مظاہرہ دیکھنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا اور اس کے ساتھ ہی اس غیر معمولی صلاحیت سے، جو خداداد بھی ہے اور موروثی بھی، لامتناہی توقعات کا ایک غیر ارادی سلسلہ بھی جسے مایوسی کے ڈر سے جھٹک دیا تھا شاید۔

روزنامہ جنگ لاہور سے وابستگی کے دوران 1985 میں بھارت سے تشریف لائے ایک کہانی کار کا انٹرویو کرنے کا اتفاق ہوا۔ جگ بیتی اور ہڈ بیتی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک مثال دی جس نے اس وقت مجھے خاصا متاثر کیا تھا۔ فرمایا کہ ”فٹ پاتھ پر پڑے بے گھر شخص کے احساس و جذبات کو جینا یوں ممکن نہیں کہ ایک شام آپ کوئی پھٹا پرانا لباس پہن کر ڈرائیور کو حکم دیں کہ مجھے فٹ پاتھ پر ڈراپ کر دو اور دو دن بعد یہاں سے واپس اٹھا لینا۔ آپ کا واپسی کا محفوظ راستہ اور اپنے مضبوط پس منظر کا حوصلہ آپ کے تجربے اور مشاہدے کی راہ میں دیوار بن کر کھڑا ہو جائے گا“ ۔

لینہ حاشر کی تحریریں پڑھنے کے بعد مجھے یہ بات محض ایک بہانہ معلوم ہوئی اپنی حساسیت کی کمزوری پر پردہ ڈالنے کا۔ انہیں پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ حساس ادارے نہیں، انسان ہوتے ہیں جو دوسروں کا دکھ درد اور احساسات و جذبات کو نہ صرف خود کم و بیش اسی سطح پر جذب کرنے کے اہل ہوتے ہیں بلکہ اپنے ہنر اور فن کے ذریعے قاری کو بھی اسی تجربے سے گزارنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ شاید یہی وہ وصف ہے جو لفظ کے ذریعے رویے اور عمل کی تبدیلی کو ممکن بناتا ہے۔

لینہ کی تحریروں کے عوامی رد عمل نے قاری کے بے حس، بے شعور اور گھٹیا ہونے کے لکھاریوں کے پھیلائے عمومی تاثر کو بھی عملی ثبوت کے ساتھ یکسر رد کر دیا۔
ابھی کچھ روز پہلے یہ خوشگوار خبر سننے کو ملی کہ لینہ حاشر کی تحریریں کتابی صورت میں آ رہی ہیں تو وہ توقعات جنہیں جھٹک دیا تھا اب انتظار کی صورت اختیار کر گئی ہیں۔

اگر اپنی سوچ، اپنے ارد گرد کی دنیا کو دیکھنے پرکھنے کے انداز، اپنے رویوں اور اپنے نظریات میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کا امکان آپ کو خوفزدہ کرتا ہے تو اس کتاب سے حتی الوسع دور رہئے اور ان سے بھی جو اس کو پڑھنے کا ارادہ رکھتے ہوں کیونکہ پڑھنے کے بعد وہ بھی اتنے ہی ہانی کارک ہو سکتے ہیں جتنا کہ خود دھنک کا آٹھواں رنگ!

Facebook Comments HS

سجاد انور منصوری

سجاد انور منصوری ابلاغیات کے شعبے سے وابستہ ہیں، پڑھاتے بھی ہیں اور مختصر نویسی میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔

sajjad-anwar-mansoori has 3 posts and counting.See all posts by sajjad-anwar-mansoori