بے نظیر بھٹو امر ہو چکی ہیں


27 دسمبر 2007 کی سرد شام تھی سورج اپنی تمام تر رعنائیاں بکھیرتے ہوئے مغرب میں ڈوب رہا تھا لیاقت باغ کی جلسہ گاہ ”زندہ بھٹو ہے زندہ ہے“ اور ”بے نظیر بھٹو چاروں صوبوں کی زنجیر“ کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہا تھا بے نظیر بھٹو روایتی انداز ہاتھ ہلا کر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے نعروں کا جواب دے رہی تھیں جلسہ کی کامیابی سے وہ پھولے نہیں سما رہی تھیں دہشت گردی کے پیش نظر انہیں امریکن ایمبیسی نے ”بم پروف گاڑی“ فراہم کر رکھی تھی جونہی انہوں نے اس گاڑی میں قدم رکھا تو ان سے سن روف سے باہر نکل کر پرجوش کارکنوں کا جواب دینے کی فرمائش کی گئی کسے خبر تھی چند لمحوں میں پرجوش نعروں کا ماحول خونی منظر میں تبدیل ہو جائے گا کار ساز (کراچی) سے موت بے نظیر بھٹو کا تعاقب کر رہی تھی وہ سانحہ کارساز میں موت کو شکست دے کر آ چکی تھیں لیکن موت ان کا مسلسل تعاقب کر رہی تھی بالآخر قاتلوں نے بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ میں اپنا نشانہ بنا لیا انہیں جہاں بم دھماکے میں شہید کرنے کوشش کی گئی وہاں ان کو قریب اور دور سے گولی مار ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

بے نظیر بھٹو کی ہلاکت لیاقت باغ میں اس مقام سے چند قدموں کے فاصلے ہوئی جہاں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت خان کو شہید کیا گیا لیاقت باغ سے 6، 7 کلومیٹر دور ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی تھی جہاں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی لیاقت باغ کا نام کمپنی باغ تھا جسے لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا پیپلز پارٹی نے ڈسٹرکٹ جیل جو اب پارک میں تبدیل کر دی گئی ہے کال کوٹھڑی میں ذوالفقار علی بھٹو کی یادگار تعمیر کی کوشش کی لیکن وہ بوجوہ کامیاب نہ ہو سکی پہلے اس مقام کو رہائشی کالونی میں تبدیل کرنے کا ڈرامہ رچایا گیا بعد ازاں اسے پارک بنا دیا گیا اس کا کچھ حصہ ڈسٹرکٹ کورٹس کو دے دیا گیا ہر سال 4 اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو اور 27 دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدابخش میں عرس کا سماں ہوتا ہے جہاں نواز شریف اور دیگر مسلم لیگی رہنما فاتحہ خوانی کر چکے ہیں

جب پہلی بار اگست 1990 ء میں صدر غلام اسحق نے بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کی تو میں نے اس وقت راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کے صدر کی حیثیت سے شاہد ظفر کی معرفت بے نظیر بھٹو کو پریس کلب میں ”میٹ دی پریس“ پرو گرام میں مدعو کیا لیکن وہ دعوت قبول کرنے باوجود پریس کلب نہ آئیں صحافتی ٹریڈ یونین میں میرے سیاسی مخالف آڑے آ گئے دوسری بار جب صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کیا تو شاہ محمود قریشی نے ان سے میٹ دی پریس پروگرام کے لئے وقت لے کر دیا لیکن اب کی بار بھی میرے مخالفین نے ان کو پریس کلب کے پرو گرام میں آنے سے روک دیا میری محترمہ بے نظیر بھٹو سے چند ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں ان سے اس بات گلہ بھی کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر سب مل کر مجھے پریس کلب بلاتے تو میرے لئے بھی آسانی ہوتی جب وہ وزیر اعظم بنیں تو میں نے سینئر خاتون صحافی شمیم اکرام الحق کے ہمراہ ان کا فیملی انٹرویو کیا دوسری بار 2007 ء مے ان سے سینٹر آصف بٹ کے ہمراہ ملاقات ہوئی جب میں آل پارٹیز کانفرنس کی کوریج کے لئے لندن گیا اس وقت نواز شریف اور بے نظیر بھٹو دونوں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے تھے دونوں نے مئی 2006 میں ”میثاق جمہوریت“ کیا اس موقع پر نواز شریف نے ان کو سونے کا وہ قلم جو قیصر اے شیخ نے انہیں تحفہ دیا معاہدہ پر دستخط کرنے کے بعد دے دیا تاہم جولائی 2007 ء میں لندن میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی کا اعزاز نہ ملنے پر بے نظیر بھٹو نے اے پی سی میں شرکت نہیں بعد ازاں اے پی سی میں شرکت کرنے والی جماعتوں نے ”آل پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ“ کی بنیاد رکھی جس نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو کیا لیکن عام انتخابات کے انعقاد سے قبل پیپلز پارٹی کی پرویز مشرف سے مشروط ڈیل ہو گئی بے نظیر بھٹو سے عام انتخابات کے انعقاد تک پاکستان واپس نہ آنے کی کمٹمنٹ لی گئی لیکن بے نظیر بھٹو پرویز مشرف کی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اکتوبر 2007ء کو پاکستان واپس آ گئیں لندن میں انہوں انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جلد پاکستان واپس آ رہی ہیں لیکن مجھے اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ پاکستان واپس آ جائیں گی لیکن اس بہادر خاتون نے پرویز مشرف کی دھمکیوں کو درخور اعتنا نہ سمجھا کراچی میں ان کی آمد پر شاندار استقبال کیا گیا لیکن ان کو سانحہ کارساز میں دہشت گردی کی واردات میں ہلاک کر نے کی کوشش کی گئی لیکن اللہ تعالی بے نظیر بھٹو کو محفوظ رکھا کارساز کا خونی منظر بے نظیر کو نہ ڈرا سکا 27 دسمبر 2007 ء کے جلسہ میں بھی ان کو جانے سے روکا گیا لیکن بے نظیر بھٹو کسی دھمکی کو خاطر میں نہ لائیں اور لیاقت باغ کے جلسہ میں اپنی جان دے دی

بے نظیر بھٹو کے قاتلوں میں پرویز مشرف کا نام آیا ہے جب کہ کچھ لوگوں نے ان کے شوہر آصف علی زرداری کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی گئی طرح طرح کی کہانیاں گھڑی گئیں اقوام متحدہ کی ٹیم سے بھی تحقیقات کرائی گئی لیکن قاتلوں کا ”کھرا“ نہ ملا چونکہ آصف علی زرداری نے پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ قتل چلایا تو پرویز مشرف نے کہا کہ ”بے نظیر بھٹو کے قتل سے جن کو سیاسی فائدہ ہوا ہے وہ اس کے ذمہ دار ہیں“ شنید ہے خفیہ ایجنسیوں نے بیت اللہ محسود کے آدمیوں کے بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کے لئے پاکستان آنے کی اطلاع دے تھی لیکن پرویز مشرف نے اداروں کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے روک دیا تھا یہی وہ بڑی شہادت ان کے خلاف تھی لیکن بے نظیر بھٹو کا اندھا قتل فائلوں بند ہو کر رہ گیا ہے ممکن ہے جب کوئی مورخ بینظیر بھٹو کے قتل کی واردات کو قلمبند کرے گا تو اس وقت بہت سی باتیں منظر عام پر آ چکی ہوں گی بے نظیر بھٹو اور بعد ازاں آصف علی زرداری کے دور میں جہاں پاکستان میں دو جماعتی سیاست کو فروغ ملا وہاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان فاصلے کم ہوئے پی ڈی ایم میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اکٹھی نہ رہ سکیں لیکن جب عمران خان پوری اپوزیشن کو دیوار سے لگایا تو نواز شریف اور آصف علی زرداری اکٹھے ہو گئے اپوزیشن جماعتوں نے مل کر عمران خان کو حکومت سے نکال باہر کیا لہذا عمران خان کے خلاف اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کا کریڈٹ جنرل قمر جاوید باجوہ سے زیادہ عمران خان کو جاتا ہے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے مئی 2006 ء میں ”میثاق جمہوریت“ کی جو بنیاد رکھی تھی اس کا پھل آج آصف علی زرداری اور شہباز شریف کھا رہے کبھی کسی نے سوچا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری شہباز شریف کی کابینہ میں وزیر خارجہ ہوں گے اور آصف علی زرداری شہباز شریف کا نام وزیر اعظم کے تجویز کریں گے اور وزیر اعظم شہباز شریف بے نظیر بھٹو کی 15 ویں برسی پر بے نظیر بھٹو کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کریں گے گڑھی خدا بخش کی فضا آج بھی ”زندہ بے نظیر بھٹو زندہ ہے“ کے نعروں سے گونج رہی ہے

Facebook Comments HS