دنیا میں نیا سال منانے کے دلچسپ طریقے


دسمبر کے ختم ہونے میں صرف چند ساعتیں رہ گئی تھیں۔ اور پھر اچانک الٹی گنتی شروع ہو گئی یعنی چند لمحوں بعد ہم نئے سال اور نئے دن میں داخل ہونے والے تھے۔ 1.2.3.4.5 بوم

اور ہر طرف روشنی کے جھماکے ہونے لگے ہر رنگ کی روشنی چاروں طرف نظر آنے لگی کہیں پھول بن رہے تھے کہیں فوارے اور کہیں ستارے۔ ہر طرف دن کا گمان ہونے لگا۔ اور پھر چند لمحوں بعد لوگ آپس میں ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارکباد دیتے نظر آرہے تھے۔ لیکن ہو سکتا ہے آپ میں سے کتنے افراد نے یہ سوچا ہو کہ یہ نیا سال دسمبر سے یا فروری سے کیوں نہیں شروع ہوتا کیوں یہ جنوری کی پہلی سے ہی شروع ہوتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے پہلے نئے سال کو خوش آمدید کہنے والا ایک چھوٹا علاقہ آئس لینڈ ہے جو کہ کریباتی، سینٹرل اوشیئن پیسیفیک۔ اوشینیا میں ہے۔ یہ دنیا کا سب سے پہلا ٹائم زون ہے۔ اور سب سے آخر میں میں جہاں نئے سال کو خوش آمدید کہا جاتا ہے وہ امریکن سمووا ہے جو کہ ساؤتھ پیسیفک اوشین میں ہے۔

دنیا میں ہمیشہ سے ایسا نہیں ہے کہ نیا سال جنوری کی پہلی سے شروع ہوتا ہو بلکہ آج سے 4000 سال پہلے یہ دن مارچ میں منایا جاتا تھا قدیم بابل کے دور میں سال کا پہلا دن مارچ کے مہینے سے شروع ہوتا تھا اور اس دور میں وہ بہار کی آمد پر 11 دن کا میلہ لگایا کرتے تھے اور جس میں وہ نئے سال میں لگنے والے اجناس اور پودوں کی بھی منصوبہ بندی کیا کرتے تھے۔ لیکن پھر آج سے 400 سال پہلے پاپ گریگری تیرہ نے 1582 میں یہ اعلان کروا دیا کہ آج کے بعد نیا سال جنوری کی پہلی تاریخ سے شروع ہوا کرے گا۔ آج کل جو ہم کیلنڈر استعمال کرتے ہیں وہ انہی کے نام سے گریگورین کیلنڈر کہلاتا ہے۔ پوری ایشیا اور مغربی دنیا میں اسی کیلنڈر کے حوالے سے سال کا پہلا دن پہلی جنوری مانا جاتا ہے۔ مختلف ممالک میں نئے سال کو مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے۔

جیسے یونان کے لوگ نئے سال کو منانے کے لئے جو کیک بناتے ہیں وہ اس میں چاندی اور سونے کے سکے اس کے اجزاء میں شامل کر دیتے ہیں۔ جسے وہ ویسیلوپیٹا کہتے ہیں اس کے مطابق جس شخص کے پاس بھی کیک کا وہ حصہ آتا ہے جس میں سکہ ہوتا ہے اس کے لئے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آنے والا سال اس کے لئے خوش بختی کا سال ہو گا۔

اسپین کے لوگ رات کے آدھے پہر میں 12 انگور کے دانے کھاتے ہیں جو کہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ نئے سال کے 12 مہینے ان کے لئے خوشیاں لائے گے۔

اسی طرح جاپان کے لوگ نئے سال کی آدھی رات کو گھنٹیاں اور گونگ بجا کر بری روحوں کو دور کرتے ہیں اور پرانے سال کو پیچھے چھوڑ کر آنے والے نئے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

ڈچ قوم کے لوگ کرسمس ٹری کے گرد آگ جلا کر ساری رات گزارتے ہیں اور ان کی نظر میں اس طرح اچھے لمحات ایک ساتھ گزارنے سے آنے والا سال بھی ان کے لئے اچھے دن لائے گا۔

پرتگیز قوم میں بچے گھر گھر جاکر نئے سال کے گانے گاتے ہیں جس کے نتیجے میں پڑوسی انھیں خوش ہو کر مختلف چاکلیٹ اور سکے دیتے ہیں۔

نارتھ امریکا میں لوگ نئے سال کو اپنے ملنے والوں کے ساتھ ون ڈش پارٹی کا اہتمام کرتے ہیں یعنی ہر فیملی ممبر اپنے گھر سے ایک ڈش بنا کر لاتا ہے اور اسے مل کر اچھے لمحات کی طرح مناتے ہیں۔

آج کل جو ہر طرف نئے سال کی خوشی میں فائر ورکس کرتے نظر آتے ہیں دراصل یہ بھی چند صدیوں پہلے چائینیز کی ایجاد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کے ذریعے بری روحوں کو ہرا کر ان سے اچھی قسمت حاصل کرتے ہیں اور نئے سال کو منانے کا اس سے اچھا طریقہ کوئی نہیں ہے (لیکن یقیناً ہمارے ہاں ایسا کوئی نظریہ نہیں ہے ہم صرف اسے ایک شغل کے طور پر کرتے ہیں ) ۔ آج کل تو نئے سال کی قرار داد بھی عام ہو گئی ہیں۔ ہر کوئی آنے والے سال میں عہد کرتا ہے کہ وہ اس سال اپنی کمزوریوں اور بری چیزوں سے دور ہو جائے گا اور بہتری کی جانب قدم بڑھائے گا آنے والے اگلے جنوری تک یہ ایک اچھا اقدام ہے اس کی بدولت ہم مغربی دنیا سے کچھ تو بہتر سیکھ سکتے ہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

” شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات“

Facebook Comments HS