زندگی میری سہیلی بن گئی ہے


آج نئے سال کا پہلا دن ہے
اور ہر سال کے پہلے دن کی طرح
میں آج بھی زندگی کے بارے میں سوچ رہا ہوں
زندگی جو
ایک راز ہے
ایک معمہ ہے
ایک بجھارت ہے
ایک پہیلی ہے

لیکن میں نے اب اسے اپنی سہیلی بنا لیا ہے
اس سے دوستی کر لی ہے
اسے گلے لگا لیا ہے
اب وہ مجھ سے دل کی باتیں کرتی ہے
مجھے اپنے راز بتاتی ہے
میں بھی اس سے دل کی باتیں کرتا ہوں
اپنے راز بتاتا ہوں

اب جبکہ میری زندگی کی شام آ گئی ہے
مجھ پر یہ منکشف ہو رہا ہے
میرے تین اہم رشتے ہیں
پہلا رشتہ اپنی ذات سے ہے
دوسرا رشتہ دوسرے انسانوں سے ہے
تیسرا رشتہ ارد گرد پھیلی کائنات سے ہے
میرا پہلا رشتہ اپنی ذات سے رشتہ
پچھلی چند دہائیوں میں بہت بدلا ہے

میں جس ماحول جس معاشرے میں پیدا ہوا تھا
وہاں مجھے بتایا گیا تھا
تم پنجابی ہو
تم پاکستانی ہو
تم مسلمان ہو
تم بھورے ہو
تم مرد ہو

مجھے بہت سی شناختیں دی گئی تھیں
مجھے بہت سے سماجی ماسک پہنائے گئے تھے
دھیرے دھیرے

جوں جوں میرے شعور کی آنکھ کھلتی گئی
میرا تنقیدی شعور بیدار ہوتا گیا
یہ ماسک اترتے گئے
میں رنگ نسل زبان اور مذہب سے بالاتر ہوتا گیا
میری شناخت بدلتی گئی

اب میری شناخت جس مقام پر آ گئی ہے
وہاں میں خود سے کہتا ہوں
میں انسان ہوں
اس شناخت نے میرا دوسرا رشتہ
دوسرے انسانوں سے رشتہ بھی بدل دیا ہے

اب میں ان سے دوستی
رنگ نسل زبان اور مذہب کی بنیاد پر نہیں کرتا
بلکہ
ان کے کردار کی وجہ سے
ان کی شخصیت کی وجہ سے
ان کی انسانیت کی وجہ سے کرتا ہوں
اسی لیے اب میں انسان دوست بن گیا ہوں

اب میں ساری انسانیت کی فلاح چاہتا ہوں
کالوں کی بھی اور گوروں کی بھی
عورتوں کی بھی اور مردوں کی بھی
غریبوں کی بھی اور امیروں کی بھی
بچوں کی بھی اور بزرگوں کی بھی
مشرقی لوگوں کی بھی اور مغربی لوگوں کی بھی
شمالی لوگوں کی بھی اور جنوبی لوگوں کی بھی

اب میں جان چکا ہوں
ہم سب ایک ہی خاندان کے افراد ہیں
ہمارے دشمن بھی ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں
ہمارے دکھ سکھ سانجھے ہیں
کیونکہ ہم سب
دھرتی ماں کے بچے ہیں
یہ دھرتی ماں ہی ہے
جس نے ہمیں اپنی کوکھ سے پیدا کیا
اور مرنے کے بعد
ہمیں اپنی آغوش میں چھپا لے گی

اب مجھے احساس ہوا ہے کہ
میرے تینوں رشتے
اپنی ذات سے رشتہ
دوسرے انسانوں سے رشتہ
اور
دھرتی ماں سے رشتہ

یہ سب رشتے معزز بھی ہیں اور مقدس بھی ہیں
مجھے ان رشتوں کا احترام کرنا چاہیے
مجھے زندگی کا احترام کرنا چاہیے
اس سے پیار کرنا چاہیے
اس سے محبت کرنی چاہیے
کیونکہ
وہ میری دوست بن گئی ہے
زندگی جو ایک پہیلی تھی
وہ اب میری سہیلی بن گئی ہے
خالد سہیل
یکم جنوری 2023
۔ ۔ ۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail