انواسی” کا تنقیدی جائزہ


ناول ”انواسی“ حفیظ خان کے نمائندہ ناولوں میں سے ایک ہے۔ لفظ ”انواسی“ سنسکرت زبان سے اردو میں آیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ”ایسی لڑکی یا عورت جس کی عزت پامال کی گئی ہو، جو باکرہ نہ ہو۔“ کچھ لوگوں نے انواسی کا یہ بھی مطلب بتایا ہے کہ ”واسی“ سرائیکی میں مقامی باشندوں کو کہتے ہیں اور انواسی کا مطلب ہوا جو مقامی باشندے نہ ہوں۔ لیکن انواسی کا مقامی یا غیر مقامیت سے کچھ بھی تعلق نہیں۔

انواسی کیا ہے؟ یہ ایک کہانی ہے 1872 کی۔ جب انگریزوں نے پنجاب میں ریلوے ٹریک بچھانا شروع کیا کہ کراچی کو لاہور سے ریلوے ٹریک کے ذریعے کیسے منسلک کیا جائے۔ تب دریائے ستلج جو بہاول پور کے مقام پر بہہ رہا تھا وہاں ایک پل بنانے کا معاملہ آیا جیسے ایمپریس برین کا نام دیا گیا اور اس پل کو 1872 میں بنایا گیا۔ وہاں پر ایک بستی آدم واہن جو لودھراں سے بہاول پور جاتے ہوئے رستے میں آتی ہے قبرستان سے ریلوے ٹریک بچھانا کا مسئلہ پیش آیا۔

ایمپریس کو بناتے وقت وہاں جو کچھ ہوا بستی میں، وہ سارا فکشن ہے۔ اس پل کو بناتے وقت سنڈی ریلوے کمپنی کا چیف انجینئر، اس کا بیٹا، اس کی محبوبہ اور جو وہاں گاؤں ہے اور گاؤں کی دوشیزہ سنگری اس کا شوہر جس سے بچپن میں نکاح ہو جاتا ہے اور اس کا عاشق منگر کے علاوہ بستی کا امام مسجد مولوی جار اللہ ان کرداروں کے ذریعے کہانی آگے بڑھتی ہے۔ اور اختتام کو پہنچتی ہے۔ یہ ناول 45 ابواب پر مشتمل ہے۔

محمد حفیظ خان نے ایک زمانی اور جغرافیائی اکائی میں دو متوازی بیانیے تخلیق کیے ہیں۔ ان میں سے ایک بیانیہ بستی آدم واہن کا ہے اور دوسرا بیانیہ اس سے دو کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر موجود انڈس ریلوے کمپنی کے کیمپ آفس کا ہے۔ آدم واہن کے بیانیے کا بیشتر حصہ واقعاتی ہے جبکہ کیمپ آفس کے بیانیے کا بیشتر حصہ نفسیاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدم واہن کے مکینوں کے مسائل خارجی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور کیمپ آفس کے کرداروں کے مسائل نفسیاتی الجھنوں اور اندرونی سازشوں سے متعلق ہیں۔ ان دونوں بیانیوں کو محمد حفیظ خان نے الگ الگ رکھا ہے۔

زیر مطالعہ ناول ”انواسی“ اپنے مخصوص بیانیے، کردار نگاری اور دوسرے فنی لوازم کے ساتھ ساتھ فکری حوالے سے بھی ایک اہم تحریر ہے یہ ناول اپنے اندر بیک وقت کئی اہم عناصر کو سموئے ہوئے ہے۔ ”انواسی“ میں بہت سی گمشدہ اور تلخ حقیقتوں کا بیان ملتا ہے، ناول کی مجموعی فضا میں مخصوص ثقافتی رنگوں کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی اور تاریخی شعور بھی ملتا ہے۔ جنوبی پنجاب خصوصاً بہاول پور کی ثقافت کی عکاسی ملتی ہے۔

ناول کا قصہ دریائے ستلج کے کنارے آباد ایک بستی آدم واہن کے گرد گھومتا ہے ان لوگوں کے ذریعے ناول نگار نے اس پوری تہذیب کا المیہ بیان کیا ہے۔ لوگوں کی زندگی محض پیٹ پالنے کی حد تک محدود تھی وہ بس دو وقت کی روٹی کو ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے تھے اور اس پر بہت خوش تھے۔ اور دریا ہی ان لوگوں کا ذریعہ معاش تھا جس میں سے وہ مچھلی کا شکار کر کے اپنی خوراک پوری کرتے تھے۔ ان لوگوں میں دو طرح کے جرائم تھے رسہ گیری (چوری کرنا) اور بازو نکالنا ( لڑکی اغوا کرنا ) اور مویشی دریائی بستیوں کی معیشت کی بنیادی اکائی سمجھتے جاتے ہیں اور اغوا ہو جانا کوئی خاص جرم نہیں سمجھا جاتا تھا جس پر جاگیردار اور زمیندار اپنی مرضی سے لڑکیوں کو اغوا کرتے جس پر کوئی آواز نہ اٹھاتا۔

یہ معاشرہ لڑکیوں کے اغوا ہو جانے پر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام تھا جس پر وہ لڑکیوں کا جلد نکاح یا منگنی کر دیتے اور اس ذمہ داری سے آزاد ہوتے۔ اس میں معاشرے کو بے نقاب کیا گیا ہے جس میں عورت بھی کسی کے ساتھ بھاگ جانے یا اغوا ہو جانے کو کوئی برا فعل تصور نہیں کرتی کیوں کہ یہ سب اس معاشرے کا حصہ بن چکا ہے اور غیرت نیلام ہوتی نظر آ رہی ہے۔

ناول نگار نے دریا پر پل کی تعمیر کی غرض سے موجود انگریزوں کے بیان سے سامراجی قوتوں کی حکمرانی کو بھی عیاں کیا ہے۔ غاصب طاقتیں کس طرح محکوم لوگوں کی جان و مال سے کھیلتی ہیں، اپنی حکمرانی کو استحکام دینے کے لیے مختلف حربوں کو آزمایا جاتا ہے۔

ناول میں مذہب کا پرچار بھی بڑی خوبصورتی سے دکھایا گیا ہے بستی کے لوگ لاشوں کی حرمت کا خیال رکھے نہ رکھیں مگر اپنے قبرستانوں کی حرمت پر مر مٹنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ اور جہاں یہ کسی مذہبی بات پر حاکم وقت کے خلاف اکٹھے ہو جائیں تو انہیں اپنی بات سے ہٹانا ممکن نہیں رہ جاتا۔

یہ ناول فرضی کرداروں کے ذریعے حقیقی تاریخی تناظر میں لکھا گیا ہے۔ ناول کے کردار پیچیدہ ہیں حالات کے ساتھ بدلتے نظر آتے ہیں۔ مولوی جار اللہ کا کردار بہت اہم ہے۔ ناول میں پہلے پہل قبرستان سے باقیات نکالنے کو کفر کہتا ہے لیکن پھر اپنے فتویٰ سے رجوع کر لیتا ہے۔ مولوی کے کردار کے ذریعے اس معاشرے کی منافقت کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چہرے پر دھاڑی رکھ کر امام مسجد بنا ہوا ہے لیکن جب خوبصورت دوشیزہ سنگری اس سے نکاح کا کہتی ہے تو پہلے تین بیویوں کا خاوند ہونے کے باوجود یہ کہہ کر نکاح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے کہ جب تک چلتا (زندہ) ہے کیوں نا لطف لیا جائے۔ اس کے علاوہ دیگر کردار بھی حالات کے ساتھ بدلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انواسی کا کردار صرف اس وجہ سے تعین پاتا ہے کہ ایک ایسی باہمت لڑکی جس کو قدم قدم پر اس کا عورت ہونا عذاب بن کر سامنے آتا رہا لیکن اس نے پوری کوشش کی کہ اپنے وجود کو منوائے اس کو قائم رکھے۔ ناول میں سنگری کا کردار بہادری کی علامت ہے۔

مصنف نے خوبصورتی کے ساتھ ناول میں بہاول پور کی ثقافت کو پیش کیا ہے۔ مرد کی حکمرانی، مذہب کی غلط تشریح اور مذہب اور عقیدت کے پیرائے میں غریبوں کے استحصال کو بڑی عمدگی سے کے ساتھ بیان کیا ہے۔

ناول میں بہاول پور کی سیاسی صورت حال میں اس وقت اتار چڑھاؤ دیکھا جا سکتا ہے جب انگریزوں نے مقامی حکومت کے ساتھ مل کر یہاں کے لوگوں کا استحصال کرنا شروع کر دیا تھا۔ جب انگریز حکومت مقامی لوگوں کو ہارنے میں ناکام رہی تو اس نے سیلاب کے ذریعے ان کو بھگانا چاہ۔ ناول کے اختتام پر مصنف نے ایک ڈرامائی انداز میں سیلاب کی وجہ سے تمام لوگوں کو برابر کر دیا سب اپنی بقا کی جنگ لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں امیر و غریب کی تخصیص تو درکنار انسانیت بھی معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

محمد حفیظ خان نے اپنے کرداروں کے منظر نامے کے لیے زندہ ماضی کا انتخاب کیا ہے۔ یہ ایسا ماضی ہے جس کے حالات و واقعات اور مسائل حال سے اس سے زیادہ متعلق ہیں جتنا آج کے میڈیا یا مذاکرات اور خبر نامے۔ دریا کے اس طرف کے بیانیے کے قرائن 1872 ہی کے ہیں۔ انگریز کیمپ کے بیانیے کے معاشرتی رویے اور نفسیاتی مسائل ان لوگوں کی ترجیحات کے آئینہ دار ہیں جو اپنی وفاداریوں کے نتیجے میں بیرونی آقاؤں کی مراجعت کے بعد مسند اختیار سنبھال لیتے ہیں۔ یہ لوگ آج بھی طاقت اور سازش کے زور پر آدم واہن جیسی اکثریتی آبادی پر حکومت کر رہے ہیں۔ طاقت کا یہ انتقال کے مابعد نو آبادیاتی مطالعے اور نو استعماری رویے کی شناخت میں معاون ہے۔

موضوع پر بحث کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے موضوعات اور فن کے اعتبار سے حفیظ خان ایک بلند مقام کے حامل ہیں۔ موضوع، مقصد، کردار نگاری، مکالمہ نگاری، اور تشبیہات و تمثیلات ہر اعتبار سے ان کا درجہ اعلی ہے۔ ”انواسی“ دنیائے فکشن ہی نہیں بلکہ انسانی اذہان کی تاریخ میں ایک نیا تناظر لے کر سامنے آتا ہے۔ بلا مبالغہ اردو ناول نگاری کی روایت میں حفیظ خان ایک رجحان ساز ناول نگار ہیں۔

Facebook Comments HS