اظہار کا ہیضہ


ہم اکثر مشاہدہ کرتے ہیں کہ لوگ کسی نہ کسی پیرائے میں بے جا اظہار کرتے ہیں۔ کوئی اپنی امارت کے اظہار کے بہانے کی تلاش میں رہتا ہے تو کوئی اپنی صلاحیت کا لوہا منوانے کے لیے اظہار کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا۔ کوئی اپنی علمیت کا ہمہ وقت پرچار کرنے کے لیے تیار رہتا ہے تو کوئی ہر اہم معاملہ میں اپنی فکر و تدبر کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہے۔

کچھ ایسے بھی ہیں جو کسی معقول وجہ سے محرومی کے باعث شخصی اظہار کو ہی لازم سمجھتے ہیں جیسے سماجی رابطہ کے ذرائع سے کسی پوسٹ کے ذریعہ کہ وہ کہاں ہیں کیا کر رہے ہیں کس کے ساتھ ہیں حتی کہ کیا کھا رہے ہیں، کسی مختصر ویڈیو جیسے ٹک ٹاک کے ذریعہ، سڑکوں پر تیز رفتاری یا ون وہیلنگ سے یا موقع بے موقع بے ڈھنگے لباس اور منفرد حلیہ اختیار کر کے عام مجمع میں آنا وغیرہ۔ ہم غیر ضروری اظہار کے اس قدر شوقین ہیں کہ ہر سنی سنائی کو بغیر تحقیق آگے پہنچانا خود پر قرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں جس نے عام معاشرتی سوچ میں حقیقت پسندی اور منطقیت کے مقابلے پر افواہوں اور توہمات کو فروغ دیا۔

اظہار کی یہ روش اس قدر پروان چڑھ چکی ہے کہ انتہائی نجی معاملات مثلاً اچھے اوصاف اپنانا، کار خیر، مذہب سے لگاؤ، کام/تعلیمی یا گھریلو مصروفیات وغیرہ تک کا اظہار بھی ہر جگہ بے وجہ کیا جاتا ہے جس کا مقصد بھاری بھرکم تاثر دینا ہے مگر ایسا کرنا ہلکے پن کی وجہ بن جاتا ہے۔

اسی طرح معاشرتی رویوں کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ اظہار بھی ایسے معاشرے میں بہت اہمیت رکھتا ہے جیسے والدین کا بچوں سے یا زوجین کا ایک دوسرے سے محبت کا دوسروں کے سامنے اظہار، اپنی یا دوسروں کی خوشی یا غم کا لازمی اظہار، کمزور پر اپنی قوت کا غصہ کے ذریعہ ذلت آمیز اظہار اور کم درجہ سماجی حیثیت والے پر اس کی ”حقارت“ کا اظہار۔ سوال یہ ہے کہ یہ طرز انسان کیونکر اپناتا ہے اور اس کا رجحان پاکستانی معاشرے میں وبائی صورت کیوں اختیار کر گیا ہے کہ دیار غیر میں رہنے والے پاکستانی بھی اس سے مبراء نہیں بلکہ زیادہ مبتلا ہیں۔

انسان اپنی پوری زندگی یا تو حاصل کرتا رہتا ہے یا پھر اظہار۔ سننا، دیکھنا، پڑھنا، سمجھنا یہ سارے کام اسے آگہی فراہم کرنے کے ذرائع ہیں اور ان سب کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے جبکہ اظہار ان کا کسی نہ کسی پیرائے میں سمجھانا، بتانا، دکھانا یا سنانا ہے۔ یہ دونوں کام ایک دوسرے کے متوازی اور ضد ہیں۔ ہمارے لیے ان میں سے کب، کون سا اور کتنا ترجیحی ہے؟ یہ سمجھنا اور طے کرنا ہمارا کام ہے جس کا انحصار ہماری طرز سوچ اور شخصیت پر ہے۔ انفرادی سطح پر ہم کب ایک کو دوسرے پر اور کتنی ترجیح دیتے ہیں، اس کا دار و مدار ہمارے ماحول اور ہماری اس سے مغلوبیت پر ہے لیکن اس سلسلہ میں ہماری ترجیح بحیثیت معاشرہ کیا اور کیوں ہیں؟ یہی اہم ترین سوال ہے۔

اگر ہم دنیاء کی بہترین اقوام یعنی معاشروں کا انتخاب کریں تو بلاشبہ جرمن اور جاپانی معاشرے متعدد لحاظ سے سرفہرست ہیں۔ ان معاشروں نے تکنیکی اور معاشی ترقی کی وجہ سے ترقی نہیں کی بلکہ یہ معاشرے اخلاقی اور فکری ترقی کی وجہ سے ہر میدان بشمول تکنیکی اور معاشی میدان میں ترقی کے آسمان پر پہنچے۔ ان دونوں میں قدر مشترک ان کی سوچ ہے جبھی یہ ایک دوسرے کے قریبی اتحادی بھی رہے ہیں۔ ان کے نزدیک قائدانہ فکر سب سے اہم ہے جس کی ایک وجہ ان میں نسل در نسل منتقل ہوتی قوم پرستی بھی ہے۔ قائدانہ سوچ کی وجہ سے ان میں بے بنیاد خوف اور احساس کمتری کا تناسب بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سادگی اور وسائل کی بچت کا رجحان جس قدر ان دو معاشروں میں ہے وہ کسی اور معاشرے میں نہیں۔ یہ معاشرے ان فضولیات سے یکسر پاک ہیں جن سے جنوبی ایشیائی بالخصوص پاکستانی معاشرہ ”مالا مال“ ہے۔ ان دونوں معاشروں نے زندگی کی حقیقی اقدار کو انفرادی اور نتیجۃ معاشرتی زندگی میں مقدم رکھا جبھی ان میں انسان اور انسانیت کی حیثیت اور اہمیت دیگر معاشروں کے مقابلہ میں زیادہ ہے۔

جہاں تک جنوبی ایشیائی معاشرے بالخصوص پاکستانی سماج کا تعلق ہے، ان میں زندگی کی حقیقی اقدار اور اس کی اہمیت تدریجا نظرانداز کی جاتی رہی ہے جس کا اثر یہ ہوا کہ اس معاشرے کے افراد نے ہمیشہ ہی خود کو دیگر کے مقابلہ میں کم تر سمجھا۔ یہ معاشرہ صدیوں تک یہاں باہر سے آنے والے فاتحین کا استقبال کرتے کرتے اس سوچ کو راسخ کرچکا ہے کہ ان کے حالات کوئی ”نجات دہندہ“ ہی درست کر سکتا ہے۔ اس طرز نے ایک طرف بے عملی کا شدید رجحان پیداء کیا تو نتیجۃ ان میں احساس کمتری عام رجحان بن گیا جس نے انفرادی زندگی پر معاشرتی غلبہ کے ایک خود ساختہ اور بے بنیاد خوف کو جنم دیا جو کسی عفریت کی مانند ہمیں پوری طرح جکڑ چکا ہے۔

آج پاکستانیوں کے فیصلوں کی سب سے بڑی وجہ ایک انتہائی غیر معقول خوف ”لوگ کیا سوچیں گے“ ہے۔ اس معاشرے میں اس خوف کو نسل در نسل پوری ذمہ داری سے پروان چڑھایا جاتا ہے جس کا حاصل صرف یہ ہے کہ یہ بے بنیاد خوف ہماری صلاحیتوں اور سوچ کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

اس کمی اور احساس کے اثر کی وجہ سے ہم اظہار کو ہتھیار سمجھنے لگے جو جانوروں میں پایا جانے والا ایک ماخوذ رویہ ہے جسے ہم گیدڑ بھپکی بھی کہتے ہیں یعنی جب گیدڑ غیر محفوظ ہونے کے خوف کا اس قدر شکار ہو جائے کہ اسے کوئی راہ نہ سجھائی دے تو وہ بھیڑیے کی طرح غرانے کا ماخوذ رویہ اختیار کرتا ہے۔ ہم دوسروں پر یہ باور کرانا ہی کافی نہیں سمجھتے کہ ہم دوسروں سے کم نہیں بلکہ یہ بھی باور کرانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم ان سے بہتر ہیں۔

ہم چونکہ حقیقی لحاظ سے بہتر ہونے کے بجائے محض باور ہی کراتے ہیں اس لیے مزید بے عمل اور لفاظ بنتے جا رہے ہیں۔ معاشرتی خوف کے اس رجحان نے بھیڑ چال کو بھرپور طریقہ سے پروان چڑھایا کہ ہم اپنے معاشرتی دائرے میں اہم سمجھی جانے والے ہر سوچ اور ہر طرز کو اپنانا آکسیجن کی مانند ضروری سمجھتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم اپنی فکر کو وسیع کریں اور اپنے بے وجہ خوف کو ختم کریں ہم اپنے بہترین وسائل، بہترین وقت اور بہترین صلاحیتیں اظہار کے الاؤ میں جھونک دیتے ہیں۔

یہاں جرمن اور جاپانی معاشرے کا تذکرہ صرف اس لیے کیا گیا کہ ہم ان سے یہ سیکھیں کہ زندگی کی حقیقی اقدار یعنی سچ، دیانت داری، انصاف، وقت اور وسائل کی بچت، انسانیت کی قدر، اجتماعیت اور قائدانہ فکر ہی کامیابی کی کنجیاں ہیں جنہیں ہم عمدا گم کر کے بے وجہ اظہار کے کھلونوں سے دل نہ بہلائیں۔ کامیابی کا پہلا زینہ خودیابی کا سفر ہے جو انہی حقیقی اقدار کو اپنا کر اور رائج کر کے شروع کیا جاتا ہے جس کی منزل معاشرتی ترقی ہے۔ ہم اس کے برعکس سفر کر رہے ہیں جس میں ان حقیقی اقدار کو حماقت سمجھا جاتا ہے جبکہ ہم خود کو اس طرح دنیاء میں احمق ترین کے بطور پیش کر رہے ہیں اور تنزلی کے گڑھے میں گرتے جا رہے ہیں۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments