ٹیکنوکریٹس کون ہیں؟


پاکستان کے وجود میں آنے سے اب تک جمہوری قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان سیاسی کشمکش جاری ہے چونکہ اصل طاقت اسٹیبلشمنٹ کے پاس تھی جنہوں نے شروع دن سے پاکستان میں جمہوریت اور پارلیمانی نظام کو پنپنے نہیں دیا اور اپنے غیر جمہوری آمرانہ پالیسیوں اور اقدامات کے تحت طویل عرصہ تک ملک پر مسلط رہے۔ دو منتخب وزیراعظم قتل ہوئے ایک کو پھانسی ہوئی اور متعدد منتخب حکومتوں کو چلتا کر دیا۔ پہلے وزیراعظم کو امریکہ بھیجنا، سیٹو سینٹو جیسے سامراجی معاہدوں میں شمولیت اختیار کرنا، خیرات اور قرضوں پر انحصار کرنا، ون یونٹ کا نفاذ کرنا حتی کہ مشرقی پاکستان کے بنگالی عوام کے دلوں میں نفرت پیدا کرنا کہ وہ خود کو پاکستان میں غیر محفوظ سمجھنے لگیں دور آمریت کے تحفے ہیں جو عوام کو بھگتنے پڑے ہیں۔

جمہوریت ایک ایسا نظام ہے جس میں طاقت کا سرچشمہ ریاست میں بسنے والے تمام لوگ ہوتے ہیں۔ عوام کی حکومت جس میں دانشور طبقہ، وکلاء، ڈاکٹر، انجینئر، ماہرین، تاجر، صحافی اور سول سوسائٹی، مزدوروں، کسانوں کے نمائندوں، خواتین اور اقلیت کے نمائندوں پر مشتمل سیاسی حکومت قائم ہو یعنی اکثریت کی حکومت۔ جو اپنی کارکردگی پر عوام کے سامنے جوابدہ ہو۔ جمہوری حکومتوں کے بنیادی مقاصد میں تمام خطرات سے شہریوں کی عزت کی حفاظت کرنا، شہریوں کے مساوی حقوق کو آئینی تحفظ دینا یوں کہ لیجیے جمہوریت ملک کی سیاسی نظام کو چلانے کے لئے مساوات، انصاف، احتساب، آزادی اور جوابدہی جیسے بنیادی اصول وضع کرتی ہے۔

جمہوری نظام میں ہر شہری کو بلا تفریق آزادی حاصل ہوتی ہے ہر شہری کو حکومتی پالیسیوں سے اختلاف رائے رکھنے کی آزادی اور اپنے فکر و نظریہ کا پرچار کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ ابلاغ عامہ مکمل آزادی ہوتی ہے اور صحافی اپنے پیشہ ورانہ کام میں آزاد ہوتے ہیں جمہوری نظام میں ہر شہری کو اختلاف رائے رکھنے کی آزادی ہوتی ہے اور اکثریت کے فیصلے کو فوقیت حاصل ہوتی ہے لیکن اقلیت کے رائے کا احترام بھی ضروری ہوتا ہے۔ جمہوری دور حکومت میں ملک اقتصادی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ عوام کے معیار زندگی پر اس کے مثبت اثرات پڑھتے ہیں۔ عوام سے حاصل ہونے والے ٹیکس سے ہونے والی آمدن کو عوام کے فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے اور حکومت باقاعدہ اس آمدن اور اخراجات کے حساب و کتاب کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا پابند ہوتی ہے۔

ٹیکنو کریٹس ڈیموکریسی سے مختلف ہے۔ ٹیکنو کریٹس حکومت میں افراد کو ان کے تجربہ اور مہارت کی بنیاد پر لایا جاتا ہے قطع نظر اس بات کہ وہ اکثریت کی رائے سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ٹیکنو کریٹس اپنی مہارت اور تجربے کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں انہیں رائے عامہ سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

قوم اس وقت پریشان ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں بھی سابقہ حکومت کی طرح ناکامی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اس حکومت کے پاس بھی عوام کی فلاح اور انہیں ریلیف دینے کا کوئی ایجنڈا تاحال نہیں ہے۔ اگر ہم گزشتہ چار برسوں کے دوران میں پاکستان کے سیاسی افق پر کھیلے جانے والے کھیل پر ایک سرسری نظر ڈالیں تو اس سوال کا جواب ڈھونڈنا مشکل نہیں۔ لانگ مارچ ’آزادی مارچ‘ دھرنوں اور لاک ڈاؤن کی سیاست نے ملک کو دہائیوں پیچھے کر دیا ہے۔ اور اب ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ایک عبوری حکومت کے قیام کے بارے میں قیاس آرائیوں کو البتہ غیر سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔

بے نظیر بھٹو پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑی خطاب کر رہی تھیں۔ اس وقت وہ اپوزیشن لیڈر تھیں اور ملک میں ہر سو ٹیکنو کریٹس کی حکومت لانے کے چرچے زبان زدعام تھے۔ بے نظیر بھٹو کہہ رہی تھیں کہ ”آج ملک میں ٹیکنو کریٹس کی حکومت کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ میں پوچھتی ہوں کہ“ وٹ از ٹیکنوکریٹس، وٹ از ٹیکنوکریٹس”۔ بینظیر بھٹو نے اس وقت کے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ“ میاں صاحب! ٹیکنوکریٹس کی حکومت لانے کی باتیں کرنے والے ہم دونوں (آپ کو اور مجھ) کو اقتدار سے باہر نکالنا چاہتے ہیں ”۔ بے نظیر بھٹو نے سوال کیا تھا کہ“ ٹیکنوکریٹس کہیں آسمان سے نازل ہوئی مخلوق ہوگی”۔

وزیر اعظم اور ان کے رفقا کو اگر بار بار ٹیکنو کریٹس سیٹ اپ رد کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے تو کچھ نہ کچھ تہہ میں ہو گا۔ رہا یہ موقف کہ اس قسم کے سیٹ اپ کی آئین میں گنجائش نہیں ہے ’تو وزیر اعظم کو معلوم ہو گا کہ 5 جولائی 1977 ء کو جب جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا تھا تو اس وقت بھی آئین میں نہ صرف ایسے اقدام کی کوئی گنجائش نہیں تھی بلکہ آئین کا آرٹیکل 6 بھی موجود تھا ‘جس کو 1973 ء کے آئین میں شامل کر کے ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ ”آج سے ہم نے پاکستان میں مارشل لا کے نفاذ کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ہے“۔

جنرل مشرف نے تو مارشل لا کا نام لئے بغیر منتخب حکومت کو برطرف کر کے فوجی حکومت قائم کر لی تھی۔ اگر آئین سے ہٹ کر ٹیکنوکریٹس کی حکومت جیسا اقدام کیا گیا تو بات یہیں تک محدود نہیں رہے گی ’بلکہ ٹیکنوکریٹس پر مشتمل عبوری نظام 1973 ء کے آئین پر مبنی موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام کی یا تو مکمل یا پھر نیم صدارتی نظام میں تبدیلی پر منتج ہو سکتا ہے کیونکہ اصل مسئلہ نواز شریف، آصف زرداری، عمران خان نہیں بلکہ وہ نظام ہے جو سیاسی لیڈر پیدا کرتا ہے۔

اس کے علاوہ سیاست دانوں‘ سیاسی پارٹیوں اور پارلیمنٹ کے خلاف گزشتہ چار برس کے دوران جس باقاعدگی اور تواتر کے ساتھ منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اس کے پیچھے بھی یہی محرک کارفرما ہے کہ عوام پارلیمانی نظام سے متنفر ہو جائیں اور جب اس کی جگہ صدارتی نظام راءج کیا جائے تو عوام کی طرف سے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پاکستان میں صدارتی نظام کا تجربہ کیا جا چکا ہے اور ملک اپنا ایک بازو کھونے کی صورت میں اس کا خمیازہ بھی بھگت چکا ہے لیکن اس سے سبق سیکھنے کی بجائے ایک دفعہ پھر اسی نظام کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

”تاریخ سے ہم نے صرف ایک ہی سبق سیکھا ہے کہ کچھ نہیں سیکھا“ ۔ پاکستان کا خوش حال مستقبل جمہوریت اور عوام کی حکمرانی میں ہے۔ موجودہ حکومت جب اپنی آئینی مدت پوری کر لے گی تو نئے انتخابات کے نتیجہ میں عوام اگلی جمہوری حکومت منتخب کریں گے۔ ادارے نے پوری قوم کے ساتھ کمٹمنٹ کی ہے کہ وہ غیر سیاسی رہیں گے، اب جو ہو گا وہ آئین کے مطابق ہو گا۔

Latest posts by محمد ہارون، راولپنڈی (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments