مگر ہم ترقی سے خائف لوگ۔ انفرادی ترقی کو ہی ترقی سمجھتے ہیں۔ اجتماعی ترقی کی سوچ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اجتماعی ترقی کی کوشش کرنے والے کو پھانسی چڑھا دیتے ہیں یا ملک بدر کر دیتے ہیں۔ ہم اس مداری سے خوش ہیں جو تماشا دکھائے اور منجن بیچے۔

یورپ بھر میں آمدورفت کا سستا ترین ذریعہ ریلوے ہے۔ آرام دہ ہونے کے علاوہ سیاحتی اعتبار سے بھی دلکش ہے۔ یہ تمام یورپی ممالک کو جوڑے ہوئے ہے اور یورپی یونین کی عملی تصویر ہے

دوسری طرف مسلمان ممالک ہیں امت اور اتحاد بین المسلمین کی تقاریر میں سب سے آگے مگر عملی طور پر سرحدیں بند ہیں۔ اکثریت حیرت میں ڈوب جائے اگر یہ بتایا جائے کہ کراچی سٹی اسٹیشن کو بذریعہ ریلوے۔ مدینہ منورہ سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔

مزید حیرت اس بات پر ہوگی کہ اگر یہ کہا جائے کہ کراچی سے مصنوعات براستہ ریل اسپین جا سکتی ہیں۔ یا کراچی سے ماسکو یاترا ریل کے ذریعے قابل عمل ہے۔
مگر کیسے؟

سب سے اہم اور پہلی شرط سوچ کی تبدیلی۔ اگر ریلوے کی ترقی کا مطلب ڈبوں کا رنگ تبدیل کرنا ہے۔ چین سے چند جدید ڈبے لا کر عوام کو خوش کرنا ہے یا اسٹیشنوں میں کمی بیشی کرنا ہے تو کچھ نہیں بدلے گا۔

ہاں اگر کوئی دور اندیش۔ بصیرت مند۔ ریلوے کی سربراہی کرے تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ کچھ نیا نہیں کرنا بلکہ دہائیوں سے پڑے ہوئے مفلوج منصوبوں کا عملی جامہ پہنانا ہے۔

آئیے ان منصوبوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

1۔ خنجراب ریلوے
2۔ ترکی۔ ایران۔ پاکستان ریلوے
3۔ ازبکستان۔ افغانستان۔ پاکستان ریلوے

خنجراب ریلوے

2007 میں، کنسلٹنٹس چائنا ریلوے کو پاکستان ریلوے سے ملانے کے لیے گلگت بلتستان میں خنجراب پاس کے ذریعے ریلوے کی تعمیر کی تحقیقات میں مصروف تھے۔ حویلیاں اور کاشغر کو ملانے والی لائن کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی نومبر 2009 میں شروع ہوئی۔ 750 کلومیٹر ( 466 میل) لائن پاکستان میں پھیلے گی، جبکہ بقیہ 350 کلومیٹر ( 217 میل) چین میں۔ جون 2014 میں، چین نے پاکستان سے بین الاقوامی ریل لنک بنانے کے لیے ”ابتدائی تحقیقی مطالعہ“ شروع کیا۔

2016 میں اس 682 کلومیٹر کے مجوزہ ریلوے لنک کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ بتایا گیا تھا، اور 2018۔ 2022 کے درمیان سی پیک کے دوسرے مرحلے کے دوران تعمیر شروع ہونا تھا۔ تاہم 2017 میں چین اور پاکستان کے مشترکہ طور پر جاری کیے گئے 2017۔ 2030 کے سی پیک کے طویل مدتی منصوبے میں اس ریلوے لائن کی تعمیر کا ذکر نہیں کیا گیا۔ پاکستان میں متعدد ریل منصوبوں میں چین کی شمولیت بنیادی طور پر تجارتی تحفظات کی وجہ سے ہے، لیکن یہ بھی۔ اپنی بہتر نقل و حمل اور وسطی ایشیا اور خلیج فارس کی ریاستوں تک رسائی کے الگ الگ فوائد دیکھتا ہے۔

ترکی۔ ایران۔ پاکستان ریلوے

یہ ٹرین 15 دنوں میں 6,500 کلومیٹر یا 4,040 میل کا فاصلہ طے کر کے اسلام آباد، تہران اور استنبول کو جوڑتی ہے۔ ایران ریلوے، سٹینڈرڈ گیج اور پاکستان ریلویز کے درمیان زاہدان میں 5 فٹ 6 انچ ( 1,676 ملی میٹر) براڈ گیج کا بریک آف گیج ہے۔ اسٹینڈرڈ گیج سے براڈ گیج تک کنٹینرز کی ترسیل کے لیے زاہدان میں ایک کنٹینر ٹرمینل کی تجویز ہے۔ اس روٹ پر ایک مسافر ٹرین سروس بھی زیر غور ہے۔ اس منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان میں کوئٹہ اور تفتان کے درمیان ریلوے کا ناقص انفراسٹرکچر ہے۔

اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن (ای سی او) کے مشترکہ اجلاس کے 10 ویں ایڈیشن کے استنبول میں ترکی، ایران اور پاکستان کی قومی ریلوے نے باہمی طور پر ایک ملاقات کے بعد باقاعدہ آپریشن دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، ترکی کے وزیر ٹرانسپورٹ عادل کریس میلو اوغلو نے ریلوے ٹرائیڈ کے لیے تمام ضروریات سے آگاہ کیا ہے۔ پورے ہو چکے ہیں۔ توقع ہے کہ ٹرین 2021 میں دوبارہ کام شروع کر دے گی۔ اسلام آباد۔ تہران۔ استنبول مال بردار ٹرین پروجیکٹ، جو 2009 میں ترکی، ایران اور پاکستان کے درمیان نافذ کیا گیا تھا اور 2011 میں روک دیا گیا تھا، 21 دسمبر 2021 کو اسلام آباد سے روانہ ہونے والی ٹرین کے ساتھ دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔ ٹرین 14 دن بعد 4 جنوری کو 150 ٹن گلابی نمک کے ساتھ انقرہ پہنچی۔

ازبکستان۔ افغانستان۔ پاکستان ریلوے

ٹرانس افغان ریلوے اسکیم ان ریل راہداریوں میں سے ایک ہے جس کی وضاحت اور منصوبہ بندی وسطی ایشیا ریجنل اکنامک کوآپریشن (CAREC) ریلوے حکمت عملی کے تحت کی گئی ہے۔ پاکستان اور ازبکستان نے مزار شریف۔ کابل۔ پشاور ریلوے منصوبے (جسے ٹرانس افغان ریلوے سکیم بھی کہا جاتا ہے ) کی ترقی کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ نئی ریلوے لائن وسطی ایشیائی ممالک کو کراچی، بن قاسم اور گوادر کی بندرگاہوں سے وسطی ایشیائی اور یوریشین ریلوے سسٹم سے جوڑ دے گی۔

انفراسٹرکچر کا بڑا منصوبہ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے لائف لائن سپورٹ فراہم کرے گا اور وہاں انسانی بحران سے نمٹنے میں مدد کرے گا۔ اس منصوبے پر ابتدائی طور پر 10 ستمبر 2020 کو ازبکستان کے نائب وزیر اعظم سردار عمر زاکوف کے دورہ پاکستان کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے سربراہان مملکت نے 27 دسمبر 2020 کو اس منصوبے کی مالی اعانت کے لیے عالمی بینک کو لکھے گئے مشترکہ اپیل خط پر دستخط کیے تھے۔

ازبکستان نے 1 سے 3 فروری 2021 تک تاشقند میں پہلی سہ فریقی مشترکہ ورکنگ گروپ میٹنگ کی میزبانی کی جہاں تینوں ممالک نے ایک روڈ میپ تیار کیا اور اس پر دستخط کیے ۔ پاکستان ریلویز پہلے ہی پشاور اور جلال آباد کے درمیان ریل لنک پر فزیبلٹی اسٹڈی کر رہا ہے جو جلد مکمل ہو جائے گا۔ تینوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان فزیبلٹی اسٹڈی کے نتائج افغانستان اور ازبکستان کے ساتھ شیئر کرے گا۔ افغانستان میں نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان اور ازبکستان نے نئی قیادت کے ساتھ اس سکیم پر تبادلہ خیال کیا۔

تمام اقوام نے منصوبے کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ 7 دسمبر 2021 کو تاشقند میں ہونے والی میٹنگ میں، ازبکستان اور پاکستان نے افغانستان کے اندر کے راستوں کا بصری مہمات کا بغور مطالعہ کرنے اور ان کے انعقاد پر اتفاق کیا۔ ازبک فریق نے ٹرانس افغان ریلوے لائن کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے ایک تفصیلی ایکشن پلان کا مسودہ شیئر کیا۔ وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم خان سواتی نے 19 دسمبر 2021 کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس کے موقع پر ازبک وزیر ٹرانسپورٹ مخکاموف الخوم رستمووچ سے ملاقات کی۔

دونوں اطراف نے مزار شریف، کابل، جلال آباد، طورخم اور پشاور کے درمیان ٹرانس افغان ریلوے لائن کی تعمیر کے لیے سہ فریقی مفاہمت پر عمل درآمد پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کے ایک وفد نے تاشقند کا دورہ کیا اور 15 فروری 2022 کو وزارت ٹرانسپورٹ کے نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے اقدامات پر مزید غور کیا جا سکے۔