قطر کی فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی اور مستقبل کا عالمی منظرنامہ
جب سے قطر کو فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی ملی اور پھر اس کے کامیاب انعقاد کے بعد میں بہت سوچ رہا تھا کہ کیسے عالمی سامراجی طاقتوں نے ایک عرب مسلم ملک کو فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی دے کر اسے پوری دنیا میں متعارف کرایا اور اسے کامیاب کرایا۔ اس کے 220 ارب ڈالر لگوا دیے جبکہ واپسی اسے 20 ارب ڈالر تک ہونے ہیں۔
اس پر بہت سے لوگوں کی اپنی اپنی رائے ہے کہ اسے مستقبل میں فائدہ ہو گا یہ اس کی انویسٹمنٹ ہے۔ لیکن حقیقت میں اس وقت اس کا فائدہ یورپ اور امریکہ کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو سب سے زیادہ ہوا۔ اس کی تفصیلات آپ گوگل کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں تو 200 ارب ڈالر ان کے ضائع کرا دیے گئے۔ اور اس کام سے ایک کام یہ ضرور ہوا کہ عرب میں اب ایک مقابلہ کی دوڑ ضرور پیدا کر دی گئی ہے۔ اب تمام عرب اپنے آپ کو معاشی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ جدید معاشی تکنیکی اپروچ اختیار کرنا چاہتے ہیں اور دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم ایک ماڈرن ملک ہیں اور اسی لئے سافٹ اسلام پیش بھی کیا جا رہا ہے تا کہ دنیا ایڈجسٹ ہو سکے۔ اس کا مظاہرہ آپ نے اس ورلڈ کپ کے موقع پر دیکھا بھی۔ حد تو یہ ہے کہ ایک ملک کے سربراہ نے تو کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا کہ اگلے دور میں ہم دنیا کا یورپ ہوں گے۔
پچھلے 50 سال کا اگر جائزہ لیں تو سمجھدار لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ نے اپنی عالمی بالادستی کے لئے یورپ کو استعمال کیا ہے اور اس کے لئے اس نے یورپ کے مالی و جانی وسائل کو اپنی جنگوں میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کیا ہے اور اب اگلی حکمت عملی اس کی عرب کو استعمال کرنے کی ہے۔ یعنی ان کے وسائل کو استعمال کر کے اپنی بالادستی قائم رکھنے کی اب چونکہ دور بدلا ہے تو اس دور کے مطابق حکمت عملی اور جال نیا ہو گا لیکن شکاری ابھی بھی وہی پرانا ہے۔ امریکہ نے اپنی فوجی بیس کیمپس اور دفاعی معاہدات کر کے انھیں تقریباً پہلے سے ہی مکمل اپنی گرفت میں لیا ہو ہے۔
میری رائے اور پیشن گوئی ہے کہ یورپ کا زوال اور عرب کا عروج ہو گا اور اس سے امریکہ کی عالمی بالادستی کو طول ملے گا۔ اور یورپ کے زوال میں جو قربانی روس دے رہا ہے اس کے ثمرات اپنے ہوں گے۔ یورپ کو کمزور کرنا اصل میں امریکہ کے سہولت کاروں کو کمزور کرنا تھا اور اس سب میں اس کا اپنا نقصان بھی ہو رہا ہے لیکن اس کی انسان دوست قربانی اپنا رنگ ضرور دکھائے گی۔ اس ساری صورتحال میں جہاں چین اپنی مدد سے روس کو سہارا دے رہا ہے وہیں وہ اس ابھرتی ہوئی اگلی معاشی طاقت سے رواسم بڑھا کر انھیں اپنے کیمپ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ظاہر ہے 80 سالہ تعلقات ٹوٹتے، بدلتے وقت اور محنت لگتی ہے لیکن اس میں ابتدا کر دی گئی ہے۔ اب دیکھیں کہ اس سب میں امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہوتے ہیں یا روس، چین اور اس کے گنے چنے اتحادی۔
لیکن مجھے اتنا پتہ ہے کہ ایک تدبیر وہ ہے جو ہم چلتے ہیں اور ایک تدبیر وہ ہے جو اللہ پاک چلتے ہیں۔ اللہ پاک سے یہی دعا کہ اس عالمی سطح پر شیطانی قوتوں کی بالادستی کو مغلوب کرے تاکہ انسانیت کچھ سکھ کا سانس لے سکے۔


