مرزا اطہر بیگ کا افسانوی مجموعہ ”بے افسانہ“ : ایک مطالعہ


آج کے ماس میڈیا کے دور میں ہر ادارہ اپنے صارفین کی تعداد بڑھانے اور انہیں اپنے پلیٹ فارم پر لائیو رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، ایسے تناظر میں کتاب سے جڑنا اور جڑے رہنا، اپنی ذات میں ایک مشقت بن گیا ہے۔ لیکن چند کتابیں اپنے اندر ایسے لوازمات رکھتی ہیں کہ قرات کا عمل مشقت نہیں رہتا بلکہ تخلیقی سفر اور طمانیت بخش عمل بن جاتا ہے۔ مرزا اطہر بیگ کا افسانوی مجموعہ ”بے افسانہ“ ایک ایسا ہی تخلیقی تحفہ ہے۔ یہ کتاب اپنے افسانوں کی بنت، قاری کو حیران کردینے والے پلاٹ، راوی کے دلچسپ بیانیہ انداز اور کرداروں کی نفسیات کے ذریعے اپنے ساتھ اس طرح جوڑ لیتی ہے کہ سوشل میڈیا پر انگلی کے کھیل سے بیزار ہو کر قاری خود بخود کتاب کے ورق الٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

بے افسانہ کی سب سے خاص بات راوی کی ہوش مندی ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ بعض افسانوں میں راوی ایک خاص لے میں رہتے ہوئے افسانہ خوانی کرتا ہے، مگر اکثر افسانوں میں راوی قاری کے ساتھ کھیل کھیلتا ہے۔ کئی جگہوں پر دکھاتا ہے کہ راوی کو بعض باتوں کا علم ہے لیکن وہ حذف کر رہا ہے اور بعض جگہوں پر قاری شعوری طور پر احساس دلایا جاتا ہے کہ راوی قاری کو اضافی معلومات دے رہا ہے۔ اس کی واضح مثال ’لکھے لکھائے خطوط کا جنون‘ اور ’کیا گھوڑے پر ظلم ہو رہا ہے‘ ہے۔ دہرے راوی کا تجربہ ’نامکمل۔ (پتلا) ۔ کہانی‘ میں ہوتا ہے۔ راوی کی دلچسپ پیش کش سے اطہر بیگ ابلاغ کے مسئلے کو بڑی کامیابی سے اجاگر کرتے ہیں۔

اپنے موضوع کے حوالے سے تمام کہانیاں اپنے اندر ندرت اور جدت لیے ہوئے ہیں۔ ایک عمومی رجحان یہ ہے کہ ہر افسانہ ایک خاص ان دیکھی سمت میں قاری کو لے جانے کی کوشش کرتا ہے جس کے بارے میں قاری نے بہت ہم سوچ رکھا ہوتا ہے۔ ’دس لاکھ میں ایک‘ مستقبل بعید کے سائنسی دور کے احساس کو اجاگر کرتی ہے۔ ’نقطالی کے بیٹے رموت کا وصیت نامہ‘ انجیلی انداز بیاں کے تحت بادشاہ کے طعام میں سم قاتل کو کھوجنے والے کا اپنے بیٹے کے نام خط ہے۔ بلھن دیومالا کو صنعتی دور سے ملاپ کی کوشش کرواتا ہے۔ پتھر کی بریل ایک اندھے کے تخیل کے پس منظر میں موجود خارجی دنیا سے قاری کو متعارف کرواتی ہے۔

’ایک ناممکن کہانی‘ کے بارے میں رائے عارف وقار سے ادھار لوں گا، جو انہوں نے بی بی سی اردو پر اپنے بلاگ میں دی ہے۔ لکھتے ہیں :

” ’ایک نا ممکن کہانی‘ راقم کے نزدیک مجموعے کی سب سے دلچسپ اور مکمل ترین کہانی ہے حالانکہ یہ ایک انتہائی تشنہ موڑ پر آ کر ختم ہو جاتی ہے۔ شاید یہی اس کہانی کی بنیادی خوبی بھی ہے کہ اس کا روایتی کلائمکس کہانی کی ابتدا ہی میں نمودار ہوجاتا ہے اور بقیہ حصہ ایک طرح سے اینٹی کلائمکس کا مواد ہے لیکن ایک نئے موڑ پر پہنچ کر جہاں کرداروں اور واقعات کو ذرا سنبھلنے کا موقعہ ملتا ہے، وہیں کہانی ختم ہوجاتی ہے۔ ابتدا، اٹھان، تصادم اور انجام کے صدیوں پرانے ڈھانچے کو توڑ کر کہانی کے لیے ایک بالکل مختلف ساخت اپنا لینا ایک ایسا ہمت طلب اقدام ہے جس کی توقع ایک عام کہانی کار سے نہیں کی جا سکتی۔“

یوں کہا جا سکتا ہے کہ ’بے افسانہ‘ آج کے دور کے نمائندہ افسانوی مجموعوں میں سے ایک ہے۔ جدید اردو ادب کے طالب علم کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments