سنہ 71 میں بحیرہ عرب میں لڑی جانے والی جنگ


یہ چار دسمبر 1971 کی ایک سرد رات تھی، رات کے تقریباً دس بجے کا وقت تھا، بحیرہ عرب میں پی این ایس خیبر کراچی شہر تقریباً سو ناٹیکل میل کے فاصلے پر گشت کر رہا تھا، کے اچانک آسمان سے ایک تیز رفتار چیز آ کر اس کے ساتھ ٹکرائی۔ جہاز پر ہلچل مچی کہ یہ کیا ہوا جہاز پر؟ کیا چیز ٹکرا گئی، جہاز کے عرشے پر آگ بھڑک اٹھی، جہاز سے کراچی کی بندر گاہ پیغام بھیجا گیا کہ کوئی ہوائی جہاز ہمارے جہاز سے ٹکرایا ہے، موقعے پر موجود عملے نے دستیاب وسائل سے آگ بجھانے کی کوشش میں مصروف تھے کہ اسی دوران پھر ایک اور تیز رفتار چیز پی این ایس خیبر سے آ کر ٹکرائی، جہاز کو چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔

وقت کم تھا اور قیمتی انسانی جانیں بچانی ضروری تھیں لیکن یہاں حملہ تھما نہیں تھا اس کے بعد کچھ ہی فاصلے پر پاک بحریہ کا ایک بارودی سرنگیں صاف کرنے والا جہاز پی این ایس محافظ حملے کی زد میں آ گیا۔ ایک ہی رات میں دو جہازوں کا نقصان پاک بحریہ نے کیوں اٹھایا، یہ بنیادی طور پر میزائل حملے تھے جو بھارتی بحریہ کی تیز رفتار میزائل بردار کشتیوں سے کیے گئے تھے جو بھارت کو روس سے ملی تھیں۔

یہ اوسا کلاس میزائل بردار کشتیاں تھیں جو پی 15 ٹرمٹ میزائل سی لیس تھیں، جن کا نیٹو کوڈ ”اس ٹیکس“ ( STYX ) تھا۔ بنیادی طور پر یہ کشتیاں ساحلی دفاع کے لئے بنائی گئیں تھیں، ان میں ایندھن کی گنجائش کم ہوا کرتی تھیں، اور ان کا اس انداز میں جارحانہ استعمال روسی بھی نہیں کرتے۔ لیکن یا تو بھارتی ان کشتیوں کو بحری جہازوں سے ٹو کرتے تھے ( یعنی کھینچتے تھے جس انداز میں یہ بھارت لائی گئی تھیں، اس سے فائدہ یہ ہوتا ہو گا ایک تو سرپرائز دینے کے لئے ریڈار سگنیچر نہیں بنتا ہو گا) ، یا پاک بحریہ پر حملے سے پہلے ان کو ری فیول کیا جاتا تھا۔

بھارت کے علاوہ بہت سے دیگر روسی اتحادی ممالک نے یہ کشتیاں استعمال کیں، اس میں 4 افسر اور 28 سیلرز کی گنجائش ہوا کرتی تھی۔ بعد میں عوامی جمہوریہ چین سے چین میں بنی ہوئی ایسی ہی کشتیاں پاک بحریہ نے بھی حاصل کیں۔ پاک بحریہ کی تاریخ میں اس حوالے بتایا گیا کہ یحییٰ خان کے دور صدارت میں روس اس ایسی کشتیوں کے حصول کی کوشش کی گئی لیکن بات نہ بن سکی، بعض دوست پوچھیں گے کہ چائنہ سے کیوں نہیں لے لی گئیں ایسی کشتیاں جنگ سے پہلے، تو جواب سادہ سا ہے ایسی کشتیوں کے ماس پروڈکشن چائنہ میں 71 ہی میں شروع ہوئی تھی، ظاہر ہے اتنی جلدی اس حوالے کچھ غور کرنا اور ٹیسٹ کرنا ایک بڑا مرحلہ ہوجاتا، اس زمانے میں چین سے اس کے علاوہ بہت کچھ حاصل کیا گیا جن میں ٹی۔54 / 55 ٹینکوں کی چینی کاپی ٹی۔ 59 کافی حاصل کیے گئے جو جنگ میں استعمال ہوئے چین سے بحریہ کے لئے کچھ نہیں لیا جاسکتا تھا۔

اس کے بعد میں ایسا ہی ایک حملہ 8 اور 9 دسمبر کی رات کراچی کی بندرگاہ پر کیا گیا۔ جس کی وجہ سے پی این ایس شاہجہاں اور سپلائی شپ پی این ایس ڈھاکہ کو کو شدید نقصان پہنچا (جنگ کے بعد شاہجہاں کو اسکریپ کرنا پڑا، جبکہ بعض بھارتی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کے پی این ایس ڈھاکہ بھی ڈوبا جو غلط ہے، ڈھاکہ اس جنگ کے بعد بھی کافی عرصے پاک بحریہ کے زیر استعمال رہا)۔ امریکی مال بردار جہاز وینس چیلنجر ڈوب گیا، بندر گاہ پر تیل کے ذخیرے کو شدید نقصان پہنچا۔ نقصان کافی تھا، لیکن پاکستانی نیوی بھی سوئی ہوئی نہیں تھی۔

سب سے اوپر روس سے حاصل کی گئی میزائل بردار کشتیاں، پی این ایس خیبر، اور نقشہ جس میں بحیرہ عرب اور خلیج کچھ کو دیکھا جاسکتا ہے
سب سے اوپر روس سے حاصل کی گئی میزائل بردار کشتیاں، پی این ایس خیبر، اور نقشہ جس میں بحیرہ عرب اور خلیج کچھ کو دیکھا جاسکتا ہے

پاک بحریہ نے دستیاب وسائل کے ساتھ جارحانہ حکمت عملی پر عمل کیا۔ جنگ کے کچھ عرصے پہلے پاک بحریہ نے فرانس سے تین ڈیفنی کلاس آبدوزیں حاصل کی تھیں، جن کی اب جنگی آزمائش کا وقت ہو گیا تھا۔ انہی آبدوزوں میں ایک ہنگور بھی تھی۔ پی این ایس (ایم) 131 ہنگور 1969 میں پاک بحریہ میں شامل ہوئی تھی۔ ہنگور خیلج کچھ کے پاس پیٹرولنگ میں مصروف تھی۔ بمبئی سے اوکھا پورٹ تک کا علاقہ اس مشن میں شامل تھا۔

ہندوستانی جانتے تھے کہ پاکستان اپنی آبدوز فورس کا بمبئی کے ساتھ ضرور استعمال کرے اس لئے اس نے اس علاقے میں اپنے جہازوں کو بندرگاہ میں ہی روکے رکھا، اوکھا پورٹ کراچی کی بندر گاہ کے خلاف بحری کارروائیوں کا مرکز بنی ہوئی تھی، یہ حملے بہت منظم انداز میں کیے تھے۔ ہنگور جس کے معنی ہی شارک مچھلی کے ہیں اس علاقے میں دشمن کے لئے ایک شارک کی طرح موجود تھی۔

اپنے میزائل بردار کشتیوں کے لئے بھارت کو پاکستانی آبدوز کا خطرہ نہ ہو تو، اس کے لئے 8 دسمبر کو بھارتی مغربی کمانڈ نے دو آبدوز شکن بحری جہاز کتھر، کرپان اور ککری اس مشن پر یہاں تعینات کیے کہ پاکستان آبدوز کو ڈھونڈ کر تباہ کر دیا جائے۔

جیمز گولڈرک کی کتاب نو ایزی آنسر کے صفحہ نمبر 92 میں یہ روداد یوں لکھی ہے ”8 دسمبر شام 5 بجے بمبئی میں دستیاب تین ٹائپ 14 فریگیٹس کو روانہ کیا گیا، جس میں حال میں مرمت ہونے والا آئی این کتھر شامل تھا، جس کو بائلر کی خرابی کی وجہ سے شام 7 بجے ہٹا لیا گیا۔ تلاش اگلے چوبیس گھنٹے جاری تھی۔ آئی این ایس ککری نئے ڈیزائن ہونے والے سالڈ اسٹیٹ سونار کو تجرباتی بنیادوں پر جانچ رہا تھا۔ جہاز پر اس سونار (آبدوز ڈھونڈنے والا آلہ) ڈیزائن کرنے والے نوجوان الیکٹریل لیفٹیننٹ نے آہستہ حرکت کرنے والے سگنل کا پیچھا کیا، 12 ناٹس کی ہلکی رفتار سے حرکت کرنے والی ہنگور بظاہر آسان ہدف محسوس ہوئی“ ۔

لیکن ہنگور کے کپتان کمانڈر احمد تسنیم ( جو بعد میں پاک بحریہ کے سربراہ بنے ) اپنے عملے کے ساتھ ان جہازوں کے لئے بہت سوچ سمجھ کا جال بچھایا ہوا تھا، شام ساڑھے سات بجے لڑائی کا آغازہوا، جس میں ہنگور کا عملہ کامیاب رہا۔ 9 دسمبر کی شام ہنگور کا سامنا ممکنہ شکاریوں سے ہو گیا، ہنگور نے شام 07:57 منٹ پر آئی این ایس کرپان پر پہلا ٹارپیڈو فائر کیا، ٹارپیڈو کامیاب نہ ہوسکا، لیکن کرپان کے کپتان نے یہ بھانپ لیا کہ جہاز حملے کی زد میں ہے، اسے فوراً منظر سے ہٹنے کے لئے جتن کرنے لگ گیا۔ لیکن جنوب سے آئی این ایس ککری نے جارحانہ کارروائی شروع کی اس کا رخ ہنگور کی جانب ہی تھا۔ کرپان کی جانب جلدی میں جان بچانے کے ڈیپتھ چارجز کا استعمال شروع ہوا جس میں سے ایک ککری دو منٹ میں غرقاب ہو گیا، دوسرے کو ٹارپیڈو لگا لیکن اس نے مقابلے کے بجائے میدان سے راہ فرار اختیار کی۔ ہنگور کا یہ حملہ ہندوستانی بحریہ کی تاریخ کا سب بڑا جنگی نقصان تھا جس میں اس کے 18 افسران اور 176 سیلر جان سے گئے۔

71 کی جنگ میں دشمن کے لیے گھبراہٹ کی وجہ بنے والی پی این ایس 131 ہنگور، 9 دسمبر 1971 کی سمندری جنگ کا گراف
 کی جنگ میں دشمن کے لیے گھبراہٹ کی وجہ بننے والی پی این ایس 131 ہنگور، 9 دسمبر 1971 کی سمندری جنگ کا گراف

دیگر ڈیفنی آبدوزوں کی طرح ہنگور نے بھی اپنا شاندار کردار جنگ کے بعد بھی پاکستان کے دفاع میں نبھایا، 2006 میں اس کلاس سے تعلق رکھنے والی باقی آبدوزوں کی طرح ہنگور بھی اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو گئی، یہ قیمتی آبدوز اب پاک بحریہ کے کراچی میں واقعے میری ٹائم میوزیم میں محفوٖظ کرلی گئی ہے، تاکہ آنے والی نسلیں اس کو یاد کرسکیں، غازی کے ساتھ کیا ہوا، یہ آنے والے آرٹیکل میں اس پر تفصیل سے بات ہوگی۔

Facebook Comments HS