خالص جگہوں کے خالص دل والے خالص لوگ


چار ماہ پہلے کی بات ہے دوست کی موٹرسائیکل ماڈل ٹاؤن پارک لاہور کی عقبی سائیڈ پر پنکچر ہو گئی، تھوڑا پیدل چل کر پنکچر والا ملا، ٹیوب کھولی تو پتہ چلا تین پنکچر ہیں، پنکچر والے نے کچے پنکچر لگا کر 270 روپے کا بل بنا دیا، اب ہم دونوں بل کا سن کر حیران رہ گئے ایک پنکچر کے اتنے پیسے کہ جیسے ہم نے بائیک نہیں ہوائی جہاز کا پنکچر لگوا لیا۔

اب وہ بندا مہنگا تھا سو تھا ہی مگر ایک پنکچر کے بعد تو باقیوں کی آدھی رقم لینے کا اصول لاگو ہوتا ہے تو وہ ہی چلو لاگو کر لیتا، مگر نہیں بھئی، اب ماجرا یوں ہوا کہ ادھر سے پنکچر والا اپنی ضد پر اڑ گیا ادھر سے میرا دوست بھی ضد پر اڑ گیا کہ باقی دو پنکچروں کی تو آدھی رقم ہی دے گا، نوبت تو تکرار تک پہنچی تو بندہ نے بیچ بچاؤ کرواتے ہوئے دو سو چالیس میں معاملہ طے کروا کر جان خلاصی کروائی۔ بعد میں دوست نے بتایا کہ کوئی دو کلومیٹر آگے جاکر وہ تینوں پنکچر لیک کر گئے اور یوں اسے پوری ٹیوب ہی نئی ڈلوانی پڑی۔

کچھ اس سے ملتا جلتا ہی واقعہ دوبارہ پیش آیا، مگراس دفعہ شہر، وقت، دوست اور جگہ تبدیل تھی، ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ دنوں میں چھٹی گزارنے لئے جام پور تھا تو حسب معمول عزیز دوست مرتضی رمدانی کی خدمت میں حاضری دی اور رات گئے خان پور سے جام پور واپس آ رہا تھے تو بیچ راستے میں ٹائر پنکچر ہو گیا، اب چونکہ خان پور سے جام پور کا درمیانی راستہ سارا دیہاتی آبادی پر مشتمل ہے اور آبادی کا آپس میں فاصلہ بھی اسی نسبت سے زیادہ ہے۔ تو کوئی بھی دکان یا گھر بھی ایک ایک، دو دو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہیں۔ اگر بائیک چلو لاہور کی طرح دن میں پنکچر ہوئی ہوتی تو بھی بندے کو یہ تسلی تھی کہ روشنی تو ہے۔

مگر اس وقت چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا، کہیں کوئی اکا دکا گاڑی گزر جاتی تھی وہ بھی طویل وقفے کے بعد تو ہم دونوں نے تہیہ کیا کہ بجائے کھڑے رہنے کے دور سے نظر آنے والی لائٹوں کی طرف چلا جائے شاید وہاں کوئی آبادی یا پھر کوئی پنکچر کی دکان مل جائے۔ یوں اللہ کا نام لے کر موٹرسائیکل کو دھکیلنا شروع کر دیا۔ کوئی پانچ سو میٹر تک ہی چلے ہوں گے کہ پیچھے سے لوڈر رکشہ والا آ کر رکا اور پوچھا، بھائیو خیر تو ہے پیٹرول ختم ہو گیا یا کوئی اور مسئلہ ہے؟ ان کو جب مجبوری بیان کی کہ ٹائر پنکچر ہو گیا ہے تو اس اللہ کے نیک نے کہا کوئی مسئلہ نہیں پریشان نہ ہوں ایسا کریں کہ موٹرسائیکل لوڈ کریں اور ساتھ آپ دونوں بھی بیٹھ جائیں، جہاں پنکچر والا ملے گا وہاں آپ اتر جائیے گا، نہیں تو میں تو جہاں تک جا رہا ہوں لئے چلوں گا۔

اس غیبی مدد پر ہم نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے موٹر سائیکل کو لوڈ کیا اور سفر شروع ہوا، سفر کے دوران لوڈر رکشہ ڈرائیور بار بار پوچھتا بھی رہا کہ تنگ ہو رہے ہوں تو آہستہ چلا لیتا۔ بہرحال آبادی میں پہنچنے پر انہوں نے باقاعدہ اونچی آواز میں دکانداروں کو آواز لگائی کہ پنکچر لگانے والا کوئی ہے تو موٹرسائیکل کو پنکچر لگا دیں۔ ایک دکان والے نے جوابی پکار دی کہ آ جائیں تو انہوں نے ہمیں دو آپشن دیے کہ پنکچر لگوانا ہے تو اس دکان پر اتار دیتا نہیں تو ان کے ساتھ چلیں وہ منزل مقصود تک پہنچا دیں گے، اور وہ یہ آفر صدق دل سے اور خلوص سے کر رہے ہیں تو ہچکچا انا یا تکلف کا شکار نہیں ہونا ہے۔ ہم نے ان کی محبت سے کی گئی پیشکش کو ڈھیروں شکریہ کے ساتھ لوٹاتے ہوئے انہیں رخصت کیا (دوستوں رخصت کرتے ہوئے شرم کے مارے ان سے معاوضہ کا پوچھتے یا دینے کی ہمت ہی نہیں ہوئی کہ کیونکہ اس بندے نے اتنا خلوص اور محبت والا برتاؤ کیا کہ یہ لگا کہ کہیں وہ اس خلوص کی توہین سمجھ کر برا ہی نہ مان جائیں ) ۔

اب آگے پنکچر والے کے پاس پہنچے تو انہوں نے بڑی اپنائیت سے خوش آمدید کیا (جو گاؤں کے لوگوں کا خاصہ ہوتا ہے ) ، جلدی سے پنکچر لگایا (اس ہدایت کے ساتھ کہ پہلی فرصت میں نئی ٹیوب ڈلوا لیں کیونکہ وہ عارضی حل کر کے دے رہے ) پنکچر لگانے کے بعد معاوضہ بتانے یا یا پوچھنے کی نوبت آنے سے پہلے ہی دعوت دی کہ آپ ہمارے مہمان پیں سردی میں آئے ہیں تو کیونکہ ان کا گھر دکانوں کے پیچھے ہی واقع ہے اور کھانے کا وقت ہے تو کھانا کھا کر جائیں، اگر کھانا نہیں کھانا تو چائے تو ضرور پئیں۔ اب میں جو یہ سوچے بیٹھا تھا کہ شاید رات گئے اور اکیلی دکان ہونے کی وجہ سے وہ بڑھا چڑھا کر اپنا معاوضہ بتائیں گے اور اسی معاوضہ کی وصولی پر ہی اصرار کریں گے (جیسا کہ لاہور والے صاحب نے کیا) مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہو گیا۔

ان کی اس پرخلوص آفر پر گھر سے لیٹ ہونے کا عذر بتاتے ہوئے رخصت چاہی اور دوبارہ سے معاوضہ پوچھا تو انہوں نے کہا پچاس روپیہ۔ میں نے تصدیق کرنے کے لئے دوبارہ پوچھا تو جواب ملا پچاس روپیہ، حالانکہ ہماری مجبوری، دیہاتی علاقہ اور رات کے ٹائم ہونے جیسے عذر پیش کر کے وہ زیادہ پیسے بھی مانگ سکتے تھے (جیسا کہ بڑے شہروں، بالخصوص لاہور میں ایسا ہوتا ہے ) مگر انہوں نے وہی معاوضہ طلب کیا جو وہ دن کے یا نارمل اوقات میں چارج کر رہے تھے۔ یقین مانیں رشک کے جذبات لئے میں نے بس اتنا ہی کہا کہ یار آپ لوگ ہی صحیح معنوں میں حق حلال کی اور جنت کما رہے ہیں۔ تو دوست نے جواب دیا کہ یہ دیہاتی علاقہ ہے، خالص جگہ ہے اور خالص جگہوں کے لوگ بھی خالص ہوتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments