جدہ ائرپورٹ پر پاکستانی مسافروں پر کیا بیتی؟


عمرہ کی ادائیگی اور پھر وہاں سے پاکستان ٹرپ کے لیے ہم فیملی سمیت نیویارک کے جان ایف کینڈی ائرپورٹ سے سعودی ائرلائنز کی فلائٹ۔ 20، بوئنگ 777 جیٹ کے ذریعے 28 دسمبر کو ایک ہفتہ عمرہ کی غرض سے پر جدہ پہنچے تھے۔ جہاں مکہ اور مدینہ شریف میں ہمارا زیادہ تر قیام رہا۔ زندگی کا یہ خوبصورت ترین سفر کئی حوالوں سے انتہائی خوشگوار اور یادگار رہا۔ اس یادگار سفر کی تفصیلی روداد ایک الگ مضمون کی صورت عنقریب قلمبند کروں گا۔

سردست عمرہ کی ادائیگی کے بعد 4 جنوری کو پاکستان جانے کے لیے جدہ ائرپورٹ پر بار بار لاہور کے لیے شیڈول پروازیں کینسل ہونے سمیت چند ناخوشگوار حالات کا بھی سامنا رہا۔ جس میں 14 گھنٹے لیٹ ہونے والی ہماری فلائٹ بھی شامل تھی۔ سعودی ائرلائنز کا چونکہ یہ ہمارا پہلا سفر تھا جس کا پہلا تجربہ ہی نہایت ناخوشگوار رہا۔ سردست جدہ ائرپورٹ پر پیش آئی ناخوشگوار صورت حال پیش خدمت ہے۔

گزشتہ ہفتے منگل اور بدھ کو جدہ سے لاہور آنے والی پروازوں کے سینکڑوں پاکستانی مسافر جدہ ائرپورٹ پر رلتے رہے۔ پاکستان کے لیے کئی پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے پاکستانی مسافر کم وبیش اڑتالیس گھنٹے جدہ ائرپورٹ پر لاہور میں دھند سمیت نامعلوم وجوہات کی بنا پر پھنسے رہے۔ جبکہ سعودی ائرلائنز کا دعوی تھا کہ لاہور میں دھند کے باعث یہ پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔

پاکستان سمیت دینا کے مختلف ممالک کے پاکستانی نژاد مسافر سعودی ائرلائنز کے ذریعے عمرے کی ادائیگی کے بعد پاکستان واپس جانے کے لیے جدہ پہنچے تھے۔ اس سلسلے میں جدہ ائرپورٹ پر پھنسے کئی پاکستانی مسافروں نے سعودی ائرلائنز سمیت جدہ ائرپورٹ حکام کے سخت گیر اور توہین آمیز روئیے کی بھی ہمیں شکایات کیں۔ بعض واقعات کے ہم خود بھی عینی شاہد رہے۔

مسافروں کی جانب سے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک اور شکایات کے انبار کے باوجود کئی مسافروں نے جدہ ائر پورٹ پر تعینات ایک سعودی اہلکار سمعی خالد کی جانب سے پاکستانی مسافروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی میں مدد سمیت ان کے احسن رویے کی تعریف کی۔ متحرک نوجوان اور سعودی عرب کے گیٹ وے پر ڈیوٹی دینے والا روشن چہرہ، سمعی خالد نے ائرپورٹ پر ایک گفتگو کے دوران ہمیں بتایا کہ ”وہ سعودی وزارت حج کی جانب سے جدہ ائرپورٹ پر عمرہ کی غرض سے آنے والے زائرین کی اعانت و سہولیات کے لیے تعینات ہیں۔ وہ اور ان کے دیگر ساتھی اپنی طرف سے کینسل ہونے والی پروازوں کے مسافروں کو ہوٹل و کھانے پینے کے انتظامات مہیا کرنے کے لیے اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ پروازیں کینسل ہونے کی وجہ سے جو تکلیف ہمارے پاکستانی بھائیوں کو ہو رہی ہے اس کا ہمیں ادراک ہے۔“ سمعی نے کئی مسافروں سے گفتگو کرنے کے لیے ہم سے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرنے کی درخواست بھی کی۔ اور آخر میں ہماری فرمائش پر تصویر بھی بنوائی۔

تاہم جرمنی سے آئے ایک مسافر خرم نے ہمیں بتایا کہ ”وہ اپنی اہلیہ اور بچی کے ہمراہ عمرہ کرنے سعودی عرب آئے تھے اور عمرہ ادا کرنے کے بعد چند روز اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان میں گزارنا چاہتے ہیں، مگر بد قسمتی سے وہ پچھلے کئی گھنٹوں سے اپنی چھوٹی بچی اور اہلیہ کے ہمراہ بے یارو مددگار ائرپورٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔“

امریکہ سے آنے والے ایک دوسرے مسافر مسٹر کاظمی نے بتایا کہ ”ائرلائنز موسم کی خرابی کا بہانہ بنا کر عمرے کی غرض سے وزٹ ویزے پر آئے مسافروں کو ہوٹل و کھانے کی سہولت سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ جن میں ان کے علاوہ کئی اور مسافر بھی شامل ہیں۔“

راقم الحروف بھی چونکہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے اپنی فیملی کے ہمراہ گزشتہ ہفتے سعودی پہنچے تھے، اس لیے جدہ ائرپورٹ پر ان سارے معاملات کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کیا، اور خود بھی ائرپورٹ پر تقریباً چودہ گھنٹے فلائٹ لیٹ کے مسافروں میں شامل تھے۔

امریکہ سے پاکستان براستہ جدہ جانے والی اسی فلائٹ میں سفر کرنے والی پاکستانی نژاد امریکی خاتون مسافر مسز سائرہ نے بتایا کہ ”وہ گزشتہ چار دن سے جدہ ائرپورٹ کی حدود میں رہ کر پاکستان جانے والی اپنی فلائٹ کا انتظار کر رہی ہیں۔ اور معطل ہونے والی مسلسل فلائٹوں کے عذاب سے گزر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ سے چار روز پہلے کنیکٹنگ فلائٹ کے ذریعے جدہ پہنچیں تھیں۔ تاہم انہیں سعودی“ ائرلائنز نے رہائش کے لیے کمرہ فراہم کر رکھا ہے۔

اسی طرح پاکستان اور دیگر ممالک سے ائرپورٹ پر پھنسے مسافروں نے ائر لائنز کے عملے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مسافروں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ ”دھند کا بہانہ بنا کر ہمیں پریشان کیا جا رہا ہے۔ جبکہ فلائٹ ٹریکرز کے مطابق امارات سمیت دیگر کئی ممالک کی پروازیں دھند کے باوجود لاہور ائرپورٹ پر اتر رہی ہیں۔

جدہ ائرپورٹ پر صرف ”عمرہ ویزے“ پر سعودی عرب گئے پاکستانی مسافروں کو ائر لائنز ہوٹل و کھانے کی سہولت فراہم کر رہی تھی۔ جبکہ امریکہ، کینیڈا، جرمنی، انگلینڈ و دیگر یورپی ممالک سے عمرہ کے لیے ملٹی پل ایک سالہ سیاحتی ویزے پر آنے والے زائرین کو بار بار درخواست کے باوجود ہوٹل و کھانے پینے کی سہولیات سے مسلسل محروم رکھا گیا۔

فلائٹس کے التواء اور معطل کیے جانے کی وجہ سے جدہ ائرپورٹ پر پاکستانی مسافر دو دن سے سے زائد عرصہ ذلیل و خوار ہوتے رہے۔ ان مسافروں میں سب سے بری حالت خواتین اور بچوں کی تھی۔ جو ویٹنگ ایریا میں کئی کئی گھنٹوں سے سخت بینچوں پر بیٹھے اپنی اگلی فلائٹوں کے جانے کا انتظار کر رہے تھے۔

مسافروں کی نظریں مسلسل فلائٹس بورڈ کا تعاقب کرتی نظر آئیں۔ جہاں پچھلے کئی روز سے لاہور جانے والی پہلے سے شیڈول کی گئی فلائٹ ہر بارہ گھنٹے بعد کوئی وجہ بتائے بغیر کینسل کر دی جاتی تھی۔ اس سلسلے میں ائرپورٹ پر موجود ائرلائنز کی کسٹمر سروس پر مسافروں کو بیزار روئیے کے سات یہی بتایا جاتا رہا کہ لاہور میں دھند کے باعث یہ فلائٹس کینسل کی جا رہی ہیں۔ تاہم اصل وجوہات سامنے نہیں آ سکیں۔

جدہ ائرپورٹ پر اب تک گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سعودیہ ائر لائنز کی فلائٹ نمبر SVO۔ 738 D اور SVO۔ 738 متعدد بار کینسل کی گئیں۔ ان پروازوں کو دوبارہ نئے سرے سے شیڈول کرنے کے چند گھنٹوں بعد ہی پھر سے کینسل کیا جاتا رہا۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان سول ایوی ایش لاہور کے ایک ذرائع کے مطابق دھند کی وجہ سے فلائٹ شیڈول جزوی طور پر متاثر تو ہو رہا ہے۔ تاہم کئی ممالک سے آنے والی فلائٹیں دھند کے باوجود لاہور میں لینڈ کر رہی ہیں۔

تاہم جدہ سے بار بار کینسل ہونے والی ایک پرواز SVO۔ 738 طے شدہ وقت صبح 5 : 30 سے مزید ایک گھنٹہ لیٹ ساڑھے تین سو مسافروں کو لے کر 5 جنوری کو لاہور میں ہلکی دھند کے باوجود لینڈ کر گئی۔ اور اس طرح ہم خدا خدا کر کے 14 گھنٹے جدہ ائرپورٹ کے بینچوں پر ”آرام“ کرنے کے بعد پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ جہاں آتے ہی فلو، بخار، جسم درد سمیت گلہ خراب جیسی کیفیات کے ساتھ ایک مقامی معالج نے ہمارا استقبال کیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments