آٹا تو نہ ملا، موت مل گئی


پارک میں صبح سے مرد، خواتین، بوڑھے اور بچوں پر مشتمل غریبوں کا ہجوم اکٹھا تھا اکثر لوگ پارک میں تفریح کے لئے جاتے ہیں لیکن اس مرتبہ یہ لوگ تفریح کے لئے پارک میں اکٹھے نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کو کسی کے آنے کی آس تھی اسی ہجوم میں چھ بیٹیوں کا ایک غریب باپ بھی موجود تھا جس کی صحت بتا رہی تھی کہ وہ کئی دنوں سے بھوکا محنت مزدوری کر رہا تھا اور شاید فاقوں نے اس کو اس قدر کمزور کر دیا تھا کہ وہ زیادہ دیر کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا، اپنی صحت کی پروا کیے بغیر اس کی آنکھیں مسلسل سڑک پر کچھ تلاش کر رہی تھیں، جب بھی کوئی ٹرک پارک کے پاس سے گزرتا تو ہجوم میں موجود ہر فرد کی توجہ اس پر مبذول ہوجاتی اور سب الرٹ ہو جاتے دراصل سب کو اس خاص ٹرک کا انتظار تھا جس پر سستے آٹے کے تھیلے فروخت کے لئے آنے تھے۔

شدید سردی میں کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد آخر وہ ٹرک آہی گیا جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا۔ ٹرک ابھی پارک کی گراؤنڈ میں داخل ہوا ہی تھا کہ سب ٹرک کی جانب سرپٹ بھاگے تاکہ آٹا لے سکیں۔ سب کو پہلے سے اندازہ تھا کہ سستے آٹے کے تھیلوں کی تعداد ہجوم کی نسبت کم ہیں اسی لئے آٹے کو پانے کے لئے ہر کوئی جان کی بازی لگانے کو تیار تھا۔ کمزور صحت مزدور کے اندر بھی ہمت پیدا ہوئی اور وہ ٹرک کی جانب بڑھنے لگا اس نے دل میں تہیہ کر رکھا تھا کہ وہ یہ سستا آٹا ضرور حاصل کرے گا تاکہ اپنے بیوی بچوں کو فاقہ کشی سے بچا سکے۔

وہ کسی طرح ٹرک کے پاس پہنچ گیا اور آٹا لینے کے لئے جب ٹرک پر چڑھا تو نیچے گر گیا اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا ہجوم نے اسے پیروں تلے روند دیا۔ یہ بے حسی تھی یا مجبوری؟ کسی کو بھی اس کی جان کی پرواہ نہ ہوئی اور وہ دم گھٹنے سے ہلاک ہو گیا۔ بدنصیب گھر کا واحد کفیل تھا جسے آٹا تو نہ ملا لیکن موت مل گئی۔ معصوم بچیوں کو کیا معلوم تھا کہ ان کے باپ کی زندگی کی قیمت ایک دس کلو کے تھیلے سے بھی سستی ہوگی۔ یہ افسوس ناک واقعہ گزشتہ روز گلستان بلدیہ پارک میر پور خاص میں رونما ہوا ہے جسے سن کر ہر درد دل آنکھ نے اشکبار ہو کر ارباب اختیار سے سوال پوچھا ہے کہ غریب مزدور کی ہلاکت کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ ہجوم یا آٹے کا بحران پیدا کرنے والے عناصر؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت لاہور سمیت پنجاب بھر میں آٹے کا بحران شدت اختیار کرچکا ہے دوسری جانب چکی مالکان نے آٹے کی فی کلو قیمت میں مزید 10 روپے اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے اب آٹا 165 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 80 کلو والی فائن میدے کی بوری بھی ایک ماہ میں بار بار مہنگی ہو کر 4 ہزار کے مجموعی اضافے کے بعد 12 ہزار 600 کی ہو گئی ہے جبکہ 15 کلو والا آٹے کا تھیلا 200 روپے اضافی قیمت کے بعد 2150 میں فروخت ہو رہا ہے۔

صدر نان بائی ایسوسی ایشن نے چکی اور فائن آٹے کی قیمتوں میں اضافہ پر 12 جنوری کو پنجاب بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے جبکہ متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن کی جانب سے 16 جنوری سے نان 40 روپے اور سادہ روٹی 35 روپے کرنے کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق صرف لاہور میں روزانہ اڑھائی لاکھ آٹے کے تھیلوں کی ڈیمانڈ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں سپلائی صرف ڈیڑھ لاکھ ہے۔ ادارہ شماریات کی گزشتہ ہفتے کی رپورٹ کے مطابق دسمبر کے آخری ہفتے میں آٹے کی قیمت میں تقریباً تین فیصد ( 2.81 فیصد) تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اس طرح رواں ہفتے میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں کم از کم 200 روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔

ایک طرف فلور ملیں آٹے کے بحران کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہوئے سرکاری کوٹہ بڑھانے کا مطالبہ کر رہی ہیں تو دوسری جانب محکمہ خوراک پنجاب کے ذرائع کے مطابق فلور ملز ایسوسی ایشن منصوبہ بندی کے تحت آٹے کے بحران کے بارے میں منفی خبریں پھیلا رہی ہیں تاکہ بڑا منافع کما سکیں اور گندم کے کوٹہ میں اضافہ کروا سکیں۔

پنجاب میں آٹے کے بحران سے متعلق خبروں پر وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے سیکرٹری خوراک سے جواب طلب کر لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے گندم اور آٹے کے بحران کے خاتمہ کے لئے پنجاب کی فلور ملوں کا گندم کا یومیہ سرکاری کوٹہ بڑھا کر دوگنا کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جبکہ صوبے بھر میں آٹے کے سیل پوائنٹس کو بھی دوگنا کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے اعلان کے مطابق صوبہ بھر میں روزانہ 10 کلو آٹے کے 18 لاکھ 40 ہزار تھیلے سرکاری ریٹ پر شہریوں کو دستیاب ہوں گے جبکہ سوموار سے فلور ملوں کو ان کے اپنے مطالبے سے زیادہ 26 ہزار ٹن سرکاری گندم بھی جاری کر دی جائے گی۔

Facebook Comments HS