انٹرنیٹ کا جال

2022 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ سے زیادہ لوگ فیس بک یوزرز ہیں جن میں سے 80 فیصد سے زیادہ 18 سے 24 سال کی عمر کے افراد ہیں اور زیادہ تعداد مردوں کی ہے۔ 8 کروڑ سے زیادہ لوگ یوٹیوب استعمال کرتے ہیں جن میں سے 28 فیصد خواتین ہیں۔ انسٹاگرام والے تقریباً 1 کروڑ سے تھوڑا زیادہ ہیں۔ لنکڈ ان والے 70 لاکھ ہیں۔ ٹک ٹاک استعمال کرنے والے کل ملا کر تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ بنتے ہیں۔ ٹویٹر جو ایک سنجیدہ قسم کا سوشل میڈیا گردانا جاتا ہے اس پر تقریبا 30 لاکھ لوگ موجود ہیں آپ تعداد سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لوگ انٹرنیٹ پر سنجیدہ کام زیادہ پسند نہیں کرتے۔
سنہ 2019 میں انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان چائلڈ پورنوگرافی میں پہلے نمبر پر تھا۔
مندرجہ بالا معلومات فراہم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں 10 کروڑ سے زیادہ لوگ جن میں زیادہ تر 18 سے 24 سال کی عمر کے ہیں کسی نا کسی صورت میں انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ یہ جاننا مشکل نہیں کہ اس عمر کی ذہن سازی کرنا بہت آسان ہے اور سوشل میڈیا عوام کی ذہن سازی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
حالیہ سیاسی منظرنامے میں جن شخصیات اور ان کے اچھے یا برے نظریات آپ کو غالب نظر آتے ہیں وہ اس حقیقت کو بخوبی جان چکے ہیں کہ انٹرنیٹ کی طاقت کیا ہے اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں 80 فیصد نوجوانوں کے ذہنوں کو کیسے اپنے سحر میں مبتلا کرنا ہے۔ سیاسی سرگرمیوں میں عوام کے ساتھ رابطہ کاری اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے سوشل میڈیا کو باقاعدہ استعمال کرنے کا سہرا تحریک انصاف کے سر جاتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ تحریک انصاف نے سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعے مثبت اثرات چھوڑے یا منفی، انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنے سوشل میڈیا ونگز پر توجہ دیں۔
ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح بھی زیادہ تر لوگوں نے تحریک انصاف کے دور میں سنی۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے جہاں عوام بالخصوص نوجوانوں میں آگہی کی سطح بلند ہوئی وہیں سوشل میڈیا کے منفی اثرات بھی سامنے آئے۔ جھوٹ پر مبنی معلومات نے ایک وبا کی صورت ہمارے معاشرے کو متاثر کیا۔ ای میل اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہم ہر قسم کی معلومات سیکنڈوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا ہمارے زور مرہ کے فیصلوں پر بڑی قوت سے اثر انداز ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں پچھلے کچھ برسوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کر کے میڈیا، سیاست اور عسکری اداروں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی کردار کشی کی گئی۔ عدم برداشت اور بدتہذیبی کو فروغ ملا اور جھوٹ کا سہارا لے کر اپنا موقف اجاگر کرنا ایک معمول بن گیا۔
ڈس انفارمیشن (disinformation) اور مس انفارمیشن (misinformation) آج کے ڈیجیٹل انفارمیشن (digital information) کے دور میں ایک ہتھیار کا طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ڈیجیٹل انفارمیشن بالخصوص سوشل میڈیا کا استعمال کم ترقی یافتہ ممالک جہاں شرح خواندگی کم ہے میں منفی اثرات مرتب کر رہا ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک ڈیجیٹل انفارمیشن کے منفی استعمال کا زیادہ شکار ہیں۔
اب تو یہ بات ثابت اور عیاں ہے کہ ڈیجیٹل انفارمیشن کا استعمال کر کے حکومتیں گرائی بھی جا سکتی ہیں اور بنائی بھی جا سکتی ہیں۔ ڈس انفارمیشن کی وجہ سے کئی مرتبہ عالمی سطح پر سٹاک مارکیٹ کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، کئی ملکوں کے درمیان جنگ سا ماحول بنے رہنے کے پیچھے بھی ڈس انفارمیشن کار فرما رہتی ہے۔ امریکہ کے 2016 کے صدارتی انتخابات میں ڈیجیٹل انفارمیشن کے منفی استعمال پر کئی جریدے لکھے جا چکے ہیں۔ 2021 کے اوائل میں برسلز بیسڈ آرگنائزیشن، ای یو ڈس انفو لیب (EU Disinfolab) نے ایک رپورٹ ”انڈین کرانیکلز“ کے نام سے شائع کی جس میں انڈیا کے پاکستان کے خلاف ڈس انفارمیشن اور پروپیگنڈا کو بے نقاب کیا گیا۔
پاکستان میں سوشل میڈیا پر ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کا جن قابو سے باہر ہوتا نظر آ رہا ہے کئی ترقی یافتہ ملکوں نے ڈیجیٹل انفارمیشن سے متعلق قانون سازی کر کے کسی حد تک اس کے منفی اثرات کو قابو کر لیا ہے مگر پاکستان میں ابھی ایسی کوئی کاوش منظر عام پر نہیں آئی۔ اگر آنے والے وقتوں میں ہم نے مناسب قانون سازی کر کے ڈیجیٹل انفارمیشن اور سوشل میڈیا کے منفی استعمال کو لگامیں ڈالنے کی کوشش نہیں کی تو ہمیں بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

