اب تو بہت سہولت ہوگئی صاحب


سال دو قبل جب بقر عید کا دوسرا دن تھا پہاڑوں کو عبور کرتے ہم پسو کونز کے سائے تلے خیبر گوجال گلگت کی وادی پہنچے۔ ایک مہمان خانے میں ٹھہرے تو رات ہونے کو تھی۔ تب میزبان نے پوچھا ”تو آپ کے لیے پھر مرغی بنوا لوں؟“ یعنی گوشت خور ہیں تو ٹرخا دیا جائے۔ تب مجھے حیرت ہوئی تھی کہ فارمی مرغی کی کیا اڑان ہے بھئی۔ یہاں بھی پہنچ گئی۔ میزبان نے فخر سے بتایا تھا کہ ”یہ مرغیاں ہم مہمانوں کے لیے مانسہرہ سے منگوا کر رکھتے ہیں۔“ تب ہم نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کچھ دیسی غذا کی فرمائش کی تو میزبان نے کہا ہم تو آرگینک آلو، ساگ اگاتے ہیں۔ پھر جب دیگر علاقوں کے لوگ گوشت تناول کر رہے تھے ہم تاریک رات میں خیبر کی وادی کے کچے سے گھر میں بیٹھے آلو اور ساگ سے شغل فرما رہے تھے۔

یہ بات ایسے یاد آئی کہ گزشتہ روز ایک محفل میں بیٹھے تھے جہاں معزز صاحب فکر جو کمشنر ہیں نے بتایا کہ وہ جب پہاڑوں پر ڈھائی تین گھنٹے کی مسافت طے کر کے گاڑی سے اترے۔ جہاں آبادی ختم ہوجاتی ہے وہاں میزبانوں نے ان کے لیے کھانے میں فارمی مرغ کا سالن بنوایا تھا۔ مشروب میں لسی کیا ہوتی پیسی کولا پیش کی گئی۔ جہاں دیسی غذائیں عام تھیں وہاں فارمی چیزوں کی بھرمار تھی۔ حیرت ہوئی کہ پہاڑوں پر، گاؤں دیہاتوں میں بھی گھی، دودھ، لسی، دیسی مرغ، انڈے مکئی اور دیگر اجناس جو شہروں میں کمیاب تھیں، مگر اب شہروں میں تو دستیاب ہوں دیہاتوں میں کمیاب ہیں۔ اور لوگ بڑے فخر سے بتا رہے ہوتے ہیں کہ جی اب تو بہت سہولت ہو گئی ہے۔ گاؤں کی دکان پر فارمی مرغ مل جاتے ہیں۔ بوتلیں مل جاتی ہیں۔ کسی گھر میں گائے، بھینس ہیں نہ ہی فصلیں لہلہاتی نظر آتی ہیں۔

کوئی انہیں بتائے کہ سہولت ہوئی نہ ہوئی۔ گاؤں دیہات کے لوگ اپنی مٹی کو بھول گئے۔ سستی، کج کلاہی، نکمے پن کے ٹوکرے سروں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔ بس کرنے کو کام ہے تو صرف یہ کہ بستروں میں گھس کے ٹک ٹاک کے مزے لوٹیں یا پھر اسکرول کرتے رہیں۔ بیٹوں میں ایک دو کسی کارخانے، فیکٹری، دوسرے شہروں میں ملازم کیا ہو گئے۔ نودولتیے کہلانے لگے۔ طبیعت سہولت پسندی کی طرف مائل ہوئی تو فصلیں کاشت کرنا چھوڑ دیں۔ مرغ، بھیڑ بکریاں پالنا چھوڑ دیا۔ ڈھل کمرا ہو کر کمروں میں پڑے رہ گئے۔ کہ سہولت ہو گئی ہے جی ہر چیز جب دکان سے میسر ہے تو مشقتوں کی کیا ضرورت ہے۔ خود سبزیاں اگانے کی کیا تک؟ بھینس گائے پالیں، ہائے اللہ لوگ کیا کہیں گے۔

بزرگ جو آخرت سدھار گئے وہ جب گندم، چاول اگا کر جندر (چکی) پر لے جاتے تھے اور پورا سیزن گھر والے نہ صرف آرام سے کھاتے بلکہ عزیزوں رشتے داروں کے لیے بھی سوغات بھیجے جاتے تھے۔ اب خود کھانے کو لالے پڑے ہیں تو عزیزوں کو کیا خاک بھیجیں گے۔ یعنی چار پیسے نے نودولتیا بنایا اور دولت نے سہولت پسند اور سہولت پسندی کے کاہل، نکما اور بے وقوف کہ اب زمینیں بنجر اور باغات سوکھے پڑے ہیں۔ اب کی نسل کو بیج بونا، فصلیں، اناج اگانا، گائے، بھینس رکھنا، مرغیاں پالنا نیچ لگتا ہے۔

سو ہم نے دیس نکالا دے دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سہولتوں کے ہاتھوں اجناس معدوم ہو گئے۔ جب مقامی اجناس معدوم ہوئے تو جندر، چکی، گھانی کے نشان مٹتے گئے۔ کہ لوگ گندم مکئی لائیں گے تو جندر چلے گا۔ سرسوں آئے گی تو گھانی چلے گی۔ لیکن لوگ تو اب ہتھیلیوں پر سرسوں اگاتے ہیں زمینیں تو بنجر پڑی بزرگوں کی یاد میں ماتم کر رہی ہیں۔

جب سبزیاں جو خود اگاتے تھے۔ گندم، جوار کا فصل کاشت کرنا چھوڑ دیا تو سہولت ہو گئی صاحب۔ سب کچھ دکان پر دستیاب ہے۔ خود اگانے کی کا ضرورت ہے۔ جب ضرورت بڑھی تو چیزوں کی مانگ بڑھ گئی۔ چیز مارکیٹ میں باہر سے آتی ہے تو باہر کی چیز مہنگی ملنے لگی۔ جب چیزیں مہنگی ہوئیں تو ہم نے رونا شروع کر دیا کہ آٹا جو بنیادی ضرورت ہے سات ہزار کا توڑا ہو گیا۔ انڈا جو سردیوں میں عام استعمال ہے تیس پینتیس روپے کا ہو گیا۔ دودھ مہنگا ہو گیا۔

بے برگ و شجر میدان جب آباد ہوں گے۔ فصلیں، سبزیاں کاشت ہوں گی تو اناج گھر کا ہو گا۔ تب مہنگائی پر حواس باختگی سے منہ پھاڑ پھاڑ گالیاں نہیں دیں گے۔ کچھ اپنے دامن میں بھی دیکھیں گے۔ تب آٹا گھر کا ہو گا۔ ٹماٹر، مرچ، لہسن، پودینہ، بینگن، سرسوں، پالک، میتھی اگے گا تو بے شک دھنیا پی کر سو جائیں۔ سردیوں کی راتوں میں دیسی انڈے ابال ابال کھائیں۔ مرغیاں گھر میں ہوں گی تو فارمی مرغی سے جان چھوٹے گی۔ جو مرغی انڈے نہ دے اس کو ذبح کر کے مرغ کڑاہی اڑائیں۔ کچھ انڈے کھائیں کچھ سے نسل مرغ بڑھائیں۔ بھینس بکری گھر کی تو دودھ، دہی، لسی گھر کا ہو گا۔ آپ اور اولاد جب دیسی غذائیں استعمال کریں گے تو صحت بھی اچھی ہوگی۔ مہنگائی کا بھی زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

تیل مہنگا ہو گیا تو اپنی بلا سے مہنگا ہو۔ پانی پر چلنے والے جندر چالو ہوں گے تو پانی کی فکر بھی ہوگی۔ تب شاید ہم پانی بچائیں۔ فصل اگائیں، درخت لگائیں اور شاید قدرت کی گود میں واپس لوٹیں۔ لیکن ہماری آنکھیں تب کھلیں گی جب مہنگائی مزید بڑھے گی۔ چیزیں قوت خرید سے باہر ہوں گی۔ یہ پرجوش خطبہ ہرگز نہیں ہے فکر مندی کی باتیں ہیں۔ جن کے بارے میں یکسوئی سے سوچ ہی نہیں رہا۔ عمل بھی کر رہا ہوں۔ گزشتہ برسوں پورا سیزن لہسن، پیاز، بینگن، مرچ، ٹماٹر، دھنیا ساگ وغیرہ بازار سے نہیں لاتے تھے۔ جب کھانے کا وقت ہوا باغیچے سے تازہ سبزی توڑ لائی۔ پکائی اور کھا لی۔ سہولت تب تھی جب گھر پر اگاتے تھے لیکن وہی نا کہ پھر آرام طلبی نے مات دے دی۔ لیکن بھلا ہو آنکھیں کھل گئی ہیں۔ پھر اس برس سبزیاں کاشت کی ہیں۔

’اب تو بہت سہولت ہو گئی صاحب‘ جملہ معترضہ ہے۔ سہولتیں آسانیاں تو تب تھیں جب سماج میں لوگ آرام طلب نہیں محنت کش تھے۔ مختلف پیشوں سے جڑے محنت کرتے روزی روٹی کماتے تھے۔ اب سہولت و آرام طلبی نے کاہل کر دیا۔ اپنے آبائی پیشے کو چھوڑ دینے میں عزت جانی اور تلاش روزگار کو نکل کھڑے ہوئے۔ زمینداری، معماری، رنگ سازی، پارچہ بافی، شال و کمبل بافی، جوتا سازی، قلعی گری، ماہی گیری، نان بائی، شیرینی سازی، شتر بانی، گلہ بانی، بار بردانی، کشتی رانی سمیت دیگر صنعت و حرفت کے صد ہا پیشے معدوم ہو گئے اور سب بابو بننے کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔ پھر نہ درست دیکھا نہ غلط، دونوں ہاتھوں مال جمع کرنے کی ریس لگ گئی۔

ملاوٹ اور دونمبری عام ہو گئی تو گوالا پانی میں دودھ ملانے لگا۔ لوہار کا کام ٹھپ ہو گیا۔ بکروال، چرواہے غائب ہو گئے۔ دیگر پیشے مٹتے گئے نتیجہ وہی کہ سہولت کے غلاف میں مشکلات بڑھ گئیں۔ جب اپنے پیشے چھوڑ دینے میں عافیت جانی اور عزت محسوس کی تو روزگار وغیرہ کے حصول کے لیے حکومت پر بوجھ بننے لگے۔ اور حکومتوں کے باب میں یہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ تو بھئی ہمیں سہولت کاری سے عقل کا ہاتھ تھام کر واپس لوٹنا ہو گا۔ تا کہ روزگار کے لیے حکومت پر بوجھ نہ بنیں بلکہ اپنے لیے خود روزگار حاصل کریں۔

آٹا چاہیے تو گندم اگائیں۔ سبزیاں چاہئیں تو کاشت کاری کریں۔ لہسن، پیاز، ٹماٹر، بینگن، شملہ مرچ، سبز مرچ، دھنیا، پودینہ، ساگ وغیرہ تو گھر کی چھتوں پر بھی اگا سکتے ہیں۔ یہ ساری سبزیاں بنیادی ہیں۔ انڈے، مرغ کھانے ہیں تو مرغیاں پالیں۔ خالص دودھ چاہیے تو بھیڑ، بکری، گائے بھینس پالیں۔ جب ہم اپنے حصے کا کام کریں تو کہہ سکیں گے کہ سہولت ہو گئی صاحب! آٹا گھر کا ہے۔ دیسی گھی گھر پر ہے۔ مرغی گھر کی ہے۔ انڈا ہمارے بلا سے پچاس کا ہو جائے روز دوچار انڈے مرغی کی عنایت سے مل جاتے ہیں۔ اب سہولت ہو گئی کہ بازار سے کم ہی کچھ لانا پڑتا ہے۔ بچت کریں گے تو سہولت ہوگی۔ ورنہ روتے، پیٹتے، مرتے رہیں۔ مہنگائی ہو گئی تو ہو گئی حکومتوں کے کان پر جوں رینگی بھی تو کیا فائدہ غلطیاں تو اپنے ہی ہیں۔ آئیے مل کر سدھارتے ہیں۔

Facebook Comments HS